ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کا تاریخی مصافحہ، جوہری مذاکرات کی ٹیم بنانے پر اتفاق

Trump and Kim at DMZ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پسِ پردہ سفارت کاری کے لیے وقت نہ ہونے کے باعث اسے صرف ایک تصویر بنوانے کا موقع سمجھا جا رہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر پر سخت سکیورٹی والے علاقے میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان سے تاریخی مصافحہ کیا ہے۔

وہ امریکہ کے پہلے صدر ہیں جنھوں نے شمالی کوریا کی سرحد عبور کر کے کم جونگ سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کا دورانیہ ایک گھنٹے بتایا گیا ہے۔

دونوں رہنماؤوں نے جوہری مذاکرات شروع کرنے کے لیے ٹیم بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

سنہ 2018 میں دونوں رہنماؤں کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے لیے سنگاپور میں ہونے والے اجلاس کا دوسرا دور شمالی کوریا کی رضامندی کے بغیر ہی ختم ہو گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اسے ایک ’برا معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی شمالی کوریا کے سربراہ کو ملاقات کی دعوت

شمالی کوریا کا میزائل تجربہ، ’پورا امریکہ نشانے پر ہے‘

شمالی کوریا کا تجربہ: امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشقیں

ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی تاریخی ملاقات

ایک برس کے دوران دونوں رہنماؤں کی یہ تیسری ملاقات ہے۔

اس سے پہلے کئی امریکی صدور جنوبی کوریا کی سرحد پر جا چکے ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے وہاں دورے کے سیاسی انداز کو بدل دیا انھوں نے دوربین کا استعمال نہیں کیا اور نہ ہی بم حملے سے حفاظت کے لیے جیکٹ یا سوٹ کا استعمال کیا۔

یہ ملاقات بظاہر صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹویٹر پر کم جانگ کو ملاقات کی دعوت کے بعد ہوئی ہے۔

ناقدین نے اسے خالص سیاسی تھیٹر کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے لیکن دیگر افراد کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے۔

دونوں رہنماؤوں نے سرحدی لائن پر مصافحہ کیا۔

ٹی وی پر اس ملاقات کو براہ راست دکھایا گیا۔ مترجم نے مسٹر کم جانگ کے خیر مقدمی مسکراہٹ کے ساتھ ادا کیے جانے والے الفاظ کچھ یوں بیان کیے۔

’آپ کو دوبارہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔ میں نے کبھی آپ سے اس جگہ ملاقات کی توقع نہیں کی تھی۔‘

مسٹر ٹرمپ نے کہا ’ایک بڑا لمحہ۔۔۔۔۔ بہت بڑی پیش رفت‘

مسٹر کم ریلیکس دکھائی دیے اور پھر صدر ٹرمپ کے ساتھ جنوبی کوریا میں داخل ہوئے۔

’میں سمجھتا ہوں کہ یہ ان کی جانب سے بدقسمت ماضی کو ختم کرنے کا اور نئے مستقبل کو شروع کرنے کی کوشش ہے۔‘

وہ دونوں فریڈم ہاوس نامی عمارت میں داخل ہوئے اور وہاں ملاقات کی۔

صدر ٹرمپ کے ہمراہ غیر معمولی پریس بیان میں کم جانگ نے کہا کہ یہ ’بہترین‘ تعلقات کی علامت ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس دوستی کو ’خاص طور پر عظیم‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ دنیا کے لیے ایک عظیم دن ہے اور وہ دونوں کوریائی خطوں میں قدم رکھنے پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔

بعد میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کم جانگ کو امریکہ کے دورے کی دعوت دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خطوں کے تبادلے کے باوجود دونوں رہنماؤں میں مذاکرات تعطل کا شکار ہیں

پسِ پردہ سفارت کاری کے لیے وقت نہ ہونے کے باعث اسے صرف ایک تصویر بنوانے کا موقع سمجھا جا رہا ہے۔

تاہم اس ملاقات کو ڈی نیوکلیر آئزیشن کے لیے دونوں رہنماؤں کے عزم کے طور پر دیکھا جائے گا۔

شمالی کوریا کے متنازع جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں مذاکرات، گزشتہ برس اس وقت عروج پر پہنچ گئے جب صدر ٹرمپ اور کم جونگ نے سنگاپور میں ایک تاریخی ملاقات کی تھی۔

اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے کوریائی خطے میں جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کا عزم کیا تھا۔ لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا تھا کہ اس کا مطلب کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2018 میں دونوں رہنماؤں کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی تخفیف کے لیے سنگاپور میں ہونے والے اجلاس کا دوسرا دور شمالی کوریا کی رضامندی کے بغیر ہی ختم ہو گیا تھا

دونوں رہنماؤں کے درمیان فروری میں ہنوئی میں ہونے والی ملاقات سے شمالی کوریا سے ’اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے بدلے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے‘ کسی ٹھوس معاہدے کی امید کی جا رہی تھی۔

لیکن یہ مذاکرت بغیر کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ہی ختم ہو گئے کیونکہ دونوں ممالک اقتصادی پابندیوں میں نرمی پر اتفاق نہیں کر سکے۔

صدر ٹرمپ اور کم جونگ میں خطوں کے تبادلے کے باوجود مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو شمالی اور جنوبی کوریا کے بارڈر پر ملنے کی دعوت دی تھی۔ شمالی کوریا نے اسے ’بہت دلچپسپ تجویز‘ قرار دیا تھا۔

جاپان میں جی-20 سربراہی اجلاس کے بعد امریکی صدر سنیچر کو دو روزہ دورے پر جنوبی کوریا پہنچے تھے۔ اس دورے کا مقصد شمالی کوریا کے ساتھ ایٹمی پروگرام ختم کرنے کے مذاکرات کی بحالی ہے۔

اسی بارے میں