سوڈان بحران: فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری، کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی

مظاہرہ خرطوم تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوڈان میں فوجی حکومت کے خلاف لوگ بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر آئے ہیں جبکہ وہاں سے ہلاکتوں اور لوگوں کے زخمی ہونے کی خبریں بھی آ رہی ہیں۔

سرکاری نیوز ایجنسی نے وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے حالیہ مظاہروں میں کہ کم از کم سات افراد ہلاک اور 181 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جبکہ مخالفت کی حامی سوڈان کے ڈاکٹروں کی سینٹرل کمیٹی نے پانچ مظاہرین کی ہلاکت کی بات کہی ہے۔

خیال رہے کہ سوڈان اپریل میں فوج کے ہاتھوں صدر عمر البشیر کے ہٹائے جانے کے بعد سے شورش کا شکار ہے۔

سوڈان میں جاری سیاسی کشمکش کے بارے میں مزید پڑھیے

ریاض سے لے کر ماسکو تک، سب کی نظریں خرطوم پر

کیا سوڈان بیرونی عناصر کا ایک اکھاڑا بن رہا ہے؟

سوڈان کے انقلاب کو ہوا دیتے فن پارے

اور یہ اقدام ان کے خلاف عام بغاوت کا نتیجہ تھے۔ عمر البشیر 30 جون کو تختہ الٹنے کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔

تین جون کو آزادی کی حمایت والے مظاہرے کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد سے اتوار کو ہونے والا مظاہرہ سب سے بڑا تھا۔ تین جون کے کریکڈاؤن میں کئی درجن افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اتوار کو دسیوں ہزار افراد نے فوج کی زبردست موجودگی کے باوجود مظاہرہ کیا جس میں انھوں نے حکمراں فوجی کونسل سے عوامی قیادت والی حکومت کو اقتدار سونپے جانے کا مطالبہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ام درمان میں جنرل ابوالفتح البرہان کا 29 جون کا خطاب

سوڈان کے ڈاکٹروں کی مرکزی کمیٹی نے کہا کہ دارالحکومت خرطوم کے جڑواں شہر اُم درمان میں چار افراد مارے گئے ہیں جبکہ ایک احتجاجی عطبرہ میں گولی سے زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لا سکا۔

کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 'فوجی کونسل کے ملیشیا کی گولیوں سے بہت سے لوگ شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں اور وہ داراحکومت اور صوبے کے ہسپتالوں میں ہیں۔'

عبوری فوجی کونسل (ٹی ایم سی) کے نائب سربراہ جنرل محمد حمدان دقلو نے کہا: 'وہاں سنائپر ہیں جو لوگوں پر فائرنگ کر رہے ہیں۔ انھوں نے ریپڈ سپورٹ فورس کے تین افراد کے ساتھ پانچ عام شہریوں کو گولی کا نشانہ بنایا ہے۔ اس میں درانداز کرنے والے افراد شامل ہیں جو پیش رفت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔'

خبررساں ادارے اے ایف پی نے بتایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے صدارتی محل کے پاس اور خرطوم کے تین مختلف اضلاع میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کا استعمال کیا۔

اشک آور گیس کا استعمال اُم درمان اور القضارف شہر میں بھی کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواتین نے سوڈان کی فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے میں اہم کردار ادا کیا ہے

مظاہرین میں شامل ایک 23 سالہ لڑکی زینب نے اے ایف پی کو بتایا: 'ہم لوگ یہاں دھرنے پر (تین جون کے) شہیدوں کے لیے ہیں۔ ہم ایک عوامی حکومت چاہتے ہیں جو ہماری آزادی کی ضامن ہو۔ ہم فوجی آمریت سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔'

سنيچر کو سوڈان کی پروفیشنل ایسوسی ایشن (ایس پی اے) نے ایک نیوز کانفرنس بلائی تھی جس میں نیم فوجی دستے آ گھسے اور اسے ختم کر دیا۔ خیال رہے کہ ایس پی اے مظاہرے کے اہم منتظمین ہیں۔

فوج نے کہا ہے کہ کسی بھی تشدد اور ہلاکت کے لیے وہ حزب اختلاف کو ذمہ دار ٹھہرائے گی۔

جنرل دقلو جنھیں 'حمیتی' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے نے متنبہ کیا ہے کہ 'شرپسند عناصر' اور 'پوشیدہ ایجنڈے والے' مظاہرے کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

جنرل دقلو پہلے محمد البشیر کے اتحادی تھے لیکن پھر انھیں اقتدار سے ہٹانے کے جنرل دقلو نے اپنی حمایت بدل لی۔

اسی بارے میں