لیبیا: تارکین وطن کے حراستی مرکز پر فضائی حملہ، 40 افراد ہلاک، تقریباً 80 زخمی

لیبیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیبیا میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے تارکین وطن کے حراستی کیمپ پر فضائی حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق لیبیا کے داراحکومت طرابلس کے مشرقی علاقے میں قائم حراستی مرکز میں بمباری کے باعث 80 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد افریقی تارکین وطن افراد کی ہے۔

حالیہ برسوں میں لیبیا غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے تارکین وطن کے لیے اہم گزرگاہ بنا ہوا ہے۔

لیبیا سنہ 2011 میں طویل عرصے سے حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کی حکومت گرائے جانے اور ان کے قتل کیے جانے کے بعد سے تشدد اور معاشرتی تقسیم کا شکار ہے۔

ایمرجنسی سروسز کے ترجمان اسامہ علی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ فضائی حملے کا نشانہ بننے والے حراستی مرکز میں 120 تارکین وطن موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے

لیبیا کی باغی فوج کے سربراہ خلیفہ حفتر کون ہیں؟

لیبیا میں پھر سے خانہ جنگی، عالمی طاقتوں کی مذمت

'معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام بھی صدارتی امیدوار'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے کیونکہ اب تک ہلاکتوں کی بتائی جانے والی تعداد صرف ابتدائی اندازہ ہے۔

اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت نیشنل ایکارڈ، جس کے وزیر اعظم فیاض السیرہ ہیں، نے لیبیا کی خود ساختہ نیشنل آرمی پر منگل کے روز ہونے والے حملے کا الزام عائد کیا ہے۔

لیبیا کے وزیر اعظم کی جانب سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک سوچا سمجھا حملہ ہے اور اسے سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔

باغی فوج لبیین نیشنل آرمی کی قیادت خلیفہ حفتر کے پاس ہے جو حکومتی افواج کے خلاف لڑ رہی ہیں اور اس جماعت نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ اب طرابلس میں جنگ کے ’روایتی طریقوں` کے خاتمے کے بعد بھاری فضائی حملے شروع کریں گے.

لیکن لیبین نیشنل آرمی کے ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ان کی فوج نے اس حراستی مرکز کو نشانہ نہیں بنایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کے مرکز پر فضائی حملے کی خبریں ’نہایت قابل تشویش‘ ہیں۔

جائے وقوع پر امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹر خالد بن عطیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے۔‘ یہ بہت ہولناک تھا، مرکز مکمل طور پر تباہ ہو چکا تھا لوگ نفسیاتی ٹراما کے باعث چیخ و پکار کر رہے تھے۔‘

غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش کرنے والے ہزاروں تارکین وطن حکومت کے زیر انتظام چلنے والے اسی نوعیت کے حراستی مرکز میں رکھے جاتے ہیں جو زیادہ تر ملک کے شورش زدہ علاقوں کے قریب قائم ہیں۔

ان حراستی مراکز کے نامساعد حالات کو انسانی حقوق کے تنظیموں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے تارکین وطن کی کشتیوں کو روکنے کے لیے یورپی یونین بھی لیبیا کے کوسٹ گارڈز کی مدد کر رہا ہے۔

مگر ملک میں سیاسی انتشار کے باعث انسانی سمگلنگ میں ملوث گروہوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو ان تارکین وطن سے فی کس ہزاروں ڈالرز لے کر انھیں غیر قانونی طریقے سے یورپ بھجوا رہے ہیں۔

اسی بارے میں