توتن خامون: مصر نے نوعمر فرعون کے مجسمے کی نیلامی روکنے کا مطالبہ کردیا

توتن خامون کے سر کا مجسمہ تصویر کے کاپی رائٹ CHRISTIE'S AUCTION HOUSE
Image caption مصر نے نوعمر فرعون توتن خامون کے سر کے مجسمہ کی نیلامی کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے

مصر نے لندن کے نیلام گھر کرسٹیز سے مطالبہ کیا ہے کہ نوعمر فرعون توتن خامون کے سر کا تین ہزار سال قدیم مجسمہ نیلام نہ کیا جائے۔

مصر کی وزارتِ خارجہ کا دعویٰ ہے کہ یہ مجسمہ 1970 کی دہائی میں ایک مقامی عبادت گاہ سے چوری ہوا تھا۔

28 سینٹی میٹر کا یہ مجسمہ لندن میں جمعرات کو نیلام کیا جانا ہے اور امکان ہے کہ یہ کم از کم 50 لاکھ ڈالر میں فروخت ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

'توتن خامون کے مقبرے کے نیچے خفیہ خانے'

قدیم مصریوں کی ختنے میں دلچسپی

فرعون کی 'ملکہ' کا مقبرہ دریافت

نیلام گھر کرسٹیز کے مطابق یہ مجسمہ عوامی نمائش کے لیے بارہا پیش کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود مصر نے پہلے کبھی اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار نہیں کیا۔

پتھر سے بنا بھورے رنگ کا یہ مجسمہ قدیم آرٹ کے ایک ذاتی مجموعے کا حصہ ہے، جو کرسٹیز نے ہی سنہ 2016 میں تین لاکھ پونڈ میں نیلام کیا تھا۔

اپنے ایک بیان میں کرسٹیز کا کہنا تھا کہ ’یہ نہ ہی کسی تفتیش کا حصہ ہے اور نہ ہی ماضی میں کبھی رہا ہے۔‘

ادارے کا مزید کہنا تھا کہ وہ کبھی کوئی ایسی چیز نیلام نہیں کریں گے جس پر جائز تحفظات ہوں۔

Image caption اب سے 3000 سال پہلے نوعمر فرعون توتن خامون کی موت 19 سال کی عمر میں ہوئی تھی

کرسٹیز نے گذشتہ 50 سال میں اپنے پاس رکھے آثار قدیمہ کے مالکوں کی فہرست شائع کی ہے۔ اس فہرست کے مطابق سال 1973 سے 1974 تک نوعمر فرعون کا مجسمہ پرنز ولہم وون ٹرن سے لیا گیا تھا۔

نیلام گھر کے مطابق اس مجسمے کی موجودگی کا علم کئی برسوں سے رہا ہے اور اسے کئی مرتبہ نمائش کے لیے پیش کیا جا چکا ہے۔

مصر میں آثار قدیمہ کے سابق وزیر زاہی ہواس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مجسمہ سنہ 1970 کے بعد مصر سے باہر گیا کیونکہ اس وقت کارنک کی عبادت گاہ سے دوسرے آثار قدیمہ بھی چوری ہوئے تھے۔‘

مصر نے سنہ 1983 میں اپنے قوانین کے ذریعے آثار قدیمہ کی ملک سے روانگی پر پابندی عائد کر دی تھی۔

نوعمر فرعون توتن خامون کی موت 19 سال کی عمر میں 3000 سال پہلے ہوئی تھی جبکہ ان کے باقیات سنہ 1922 میں ملے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں