پرائیڈ پریڈ: نیو یارک سے شروع ہونے والی تحریک پوری دنیا میں پھیل گئی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دنیا بھر میں ہم جنس پرستوں کی پریڈ کا سلسلہ جاری ہے

لندن میں آج ہم جنس پرستوں کی پریڈ ہو رہی ہے جسے 'پرائیڈ پریڈ ' کہا جاتا ہے۔

'پرائیڈ' ایک عالمی مہم کا نام ہے جو دنیا بھر میں ہم جنس پرستوں کے حقوق کے لیے جدو جہد کر رہی ہے اور گزشتہ کئی ہفتوں سے دنیا بھر میں پریڈ کی شکل میں جشن منایا جا رہا ہے۔برطانیہ میں تقریباً باون سال پہلے ہم جنس پرستوں کے رشتے کو جرم قرار دیے جانے پر روک لگا دی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیئے

سربیا کی ہم جنس پرست وزیر اعظم کی پریڈ میں شرکت

آسٹریلیا: ہم جنس پرست شادیاں قانونی، پارلیمان میں خوشیاں

’مجھے ہم جنس پرست ہونے کی وجہ سے قید ہوئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Chris J Ratcliffe/Getty Images
Image caption لندن کے میئر صادق خان

حالانکہ برطانیہ میں قانون میں تبدیلی کر دی گئی تھی لیکن اب بھی دنیا کہ بہت سے ممالک میں ہم جنس پرستی غیر قانونی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں دنیا بھر میں ہم جنس پرستوں کو یکساں حقوق دلوانے کے لیے جدو جہد کر رہی ہیں۔

پچاس سال پہلے نیو یارک میں ہم جنس پرستوں کے ایک گروپ کی بغاوت نے 'گے رائٹس موومنٹ' یعنی ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک کو جنم دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ John Milner/SOPA Images/LightRocket via Getty Ima
Image caption چند روز قبل سپین کے شہر میڈرِڈ میں بھی ہم جنس پرستوں کی پریڈ کا اہتمام کیا گیا تھا

اٹھائیس جون 1969 کی صبح نیو یارک علاقے گرینچ ولیج میں ہم جنس پرستوں کے ایک بار 'سٹون وال اِن' پر پولیس کے چھاپے کے بعد ہم جنس پرستوں کے پر تشدد مظاہرے ہوئِے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن میں ہونے والی اس پریڈ میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی

کہا جاتا ہے کہ یہ مظاہرے امریکہ میں ہم جنس پرستوں کی آزادی کی تحریک کی سب سے بڑی وجہ بنے۔1950 اور 60 کی دہائی میں کچھ ہی ادارے ہم جنس پرستوں کا خیر مقدم کرتے تھے اور ان میں بارز شامل تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پریڈ کے موقع پر لندن میں بہت سے سٹورز نے ہم جنس پرستوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر قوسِ قزاح کے رنگوں سے سجاوٹ کی

حالانکہ بار کے زیادہ تر مالکان ہم جنس پرست نہیں ہوا کرتے تھے۔ اس وقت سٹون وال اِن نامی بار کے مالکان جرائم پیشہ افراد تھے اور کہا جاتا ہے کہ یہ بار ہم جنس پرست کمیونٹی کے غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں میں مقبول تھا۔ ان میں بےروزگار نوجوان، جسم فروش مرد، عورتوں کا لباس یا حلیہ بنا کر رہنے والے فنکار اور لیسنِینز شامل تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس پریڈ میں ہر رنگ و نسل کے لوگ شریک ہوئے

اس زمانے میں ہم جنس پرستوں کے بار یا ریستورانوں پر پولیس کے چھاپے روز کا معمول ہوا کرتے تھے اور سٹون وال اِن میں ایسے ہی ایک چھاپے کے دوران صورتِ حال پولیسں کے کنٹرول سے باہر ہو گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اب ہر سال دنیا بھر میں اس طرح کے مارچ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

اگلی شام نیو یارک مظاہروں کے دوران پولیس اور علاقے کی ہم جنس پرست کمیونٹی کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی اور مظاہروں کا سلسلہ کئی ہفتے چلا۔ اس واقعہ کے بعد ہم جنس پرست اور لیزبین جوڑوں کو ہر طرح کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پریڈ کے دوران پورے شہر میں رنگ بکھرے ہوئے تھے

جس کے بعد چھ ماہ کے اندر اندر نیو یارک میں ہم جنس پرستوں کی دو تنظیمیں بنیں اور چند ہی سالوں میں پورے امریکہ میں پھیل گئیں۔ اٹھائیس جون 1970 کو نیو یارک، لاس اینجلسِ اور سان فرانسسکو میں پہلا 'گے پرائیڈ مارچ' منعقد کیا گیا اوراب ہر سال دنیا بھر میں اس طرح کے مارچ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سالانہ پرائیڈ پریڈ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں