عالمی جوہری معاہدہ: ایران کا یورینیم افزودہ کرنے کی مخصوص حد سے دوبارہ تجاوز کرنے کا اعلان

ایران تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایرانی حکام کی جانب سے یورینیم افزودگی کی حد سے تجاوز کرنے کا اعلان کیا گیا

ایران نے سنہ 2015 کے بین الاقوامی جوہری معاہدے کی ایک اور خلاف ورزی کرتے ہوئے اتوار کو زیادہ سے زیادہ یورینیم افزودہ کرنے کی مخصوص حد سے تجاوز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس اعلان کے بعد ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی تعطل کے شکار عالمی جوہری معاہدے کو مکمل خاتمے سے بچانا چاہتا ہے تاہم اس حوالے سے انھوں نے یورپی ممالک سے اپنے وعدے پورے نہ کرنے کا شکوہ بھی کیا۔

امریکہ اس بین الاقوامی جوہری معاہدے سے سنہ 2018 میں دستبردار ہو گیا تھا، جس کے بعد ایران پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کا فیصلہ جوہری بلیک میل ہے: امریکی اہلکار

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای پر امریکی پابندیاں

’ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمتِ عملی جاری رہے گی‘

ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں ایران یورینیم کو 3.67 فیصد ارتکاز کے لیول پر افزودہ کرنا شروع کر دے گا۔ اور ایسا کرنے کا مقصد بوشیشر پاور پلانٹ کے لیے ایندھن کی فراہمی ہو گا۔

نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر اس بین الاقوامی معاہدے کے باقی فریقین بشمول چین، فرانس، جرمنی، روس اور برطانیہ نے اپنے وعدے کے مطابق ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے کچھ نہ کیا تو ایران ہر دو ماہ بعد اس معاہدے پر دی گئی اپنی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹتا جائے گا۔

اس سے قبل فرانس کے صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا تھا کہ ایران اور فرانس اس بات پر متفق ہوئے ہیں کہ تہران کے عالمی قوتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی شرائط پر بات چیت کا آغاز کیا جائے گا۔

ایران کے صدر حسن روحانی سے ٹیلی فون پر ہونے والے رابطے کے دوران فرانسیسی صدر نے سنہ 2015 کے جوہری معاہدے کو ترک کرنے کے نتائج پر 'سخت تشویش' کا اظہار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران نے اتوار کو زیادہ سے زیادہ یورینیم افزودہ کرنے کی مخصوص حد سے تجاوز کرنے کا اعلان کیا ہے

صدر روحانی نے یورپی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے کو ختم ہونے سے بچانے کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کریں۔

گذشتہ سال سے یہ معاہدہ تب سے خطرے سے دوچار ہو گیا تھا جب امریکہ نے اس سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔

مئی کے مہینے میں ایران نے اس اقدام کا جواب دیتے ہوئے یورینیم افزودہ کرنے کی رفتار بڑھا دی تھی۔ افزودہ یورینیم سے ریکٹر کے ایندھن کے علاوہ جوہری بم بھی بن سکتا ہے۔

ایران پہلے ہی جوہری معاہدے میں طے شدہ حد سے زیادہ یورینیم افزودہ کر چکا ہے اور اتوار کے روز اس نے ایک مرتبہ پھر اس حوالے سے مخصوص حد کو کراس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی کے خارجہ امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا تجزیہ ہے کہ امریکہ کو معاہدے میں واپس لانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی طاقتیں ایران پر لگی امریکی پابندیوں سے تہران کو پچانے کے لیے کوشش کر رہی ہیں لیکن جوہری معاہدے کا مستقبل پہلے سے کئی گنا زیادہ غیر یقینی ہو گیا ہے۔

میکخواں اور روحانی میں کیا بات ہوئی؟

صدر ایمانوئل میکخواں نے کہا کہ وہ جوہری معاہدے کے 'مزید کمزور ہونے کے خطرے' اور 'اس کے نتائج' سے متعلق تشوش کا شکار ہیں۔

اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے '15 جولائی تک تمام فریقین کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی شرائط' کو پرکھنے پر اتفاق کیا۔

اس سے قبل ایران نے معاہدے کے باقی فریقین برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس کو اپنے وعدوں پر پورا اترتے ہوئے ایران کو پابندیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے اتوار تک کا وقت دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فرانس کی جانب سے جاری بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر ایمانوئل میکخواں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایران اور عالمی شراکت داروں کے درمیان مشاورت کا کام جاری رکھیں گے۔

صدر روحانی نے معاہدے کے یورپی فریقین پر زور دیا کہ وہ معاہدے کو بچانے کے لیے کردار ادا کریں۔

صدر روحانی نے کہا کہ ' (ایران پر عائد) تمام پابندیوں کو ختم کرنا ایران اور چھ بڑی طاقتوں کے درمیان (مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی جانب) پہلا قدم ہو سکتا ہے۔'

ایرانی فیصلے پر ردعمل کیا آیا ہے؟

یورپی طاقتوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ آئندہ کا لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔

جرمنی نے کہا ہے کہ اسے ایران کے اعلان پر 'سخت تشویش' ہے اور وہ ایران پر زور دیتا ہے کہ اس عالمی معاہدے کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کوئی ایسا قدم مت اٹھائے۔

برطانیہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اب جب کہ ایران نے عالمی معاہدے کی خلاف ورزی کر دی ہے، برطانیہ اس بھی اس کی پاسداری کے لیے 'مکمل طور پر پرعزم' ہے۔

برطانیہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیاں روک دے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ دیگر فریقوں کے ساتھ آئندہ کے لائحہ عمل طے کرنے کے لیے مشاورت کر رہا ہے۔

یہ اعلان فرانسیسی صدرایمانوئل میکخواں اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان گفتگو کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے 'معاہدے کی ناکامی کی صورت میں نتائج سے متعلق تشوش کا اظہار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ سال سے جوہری معاہدہ تب خطرے سے دوچار ہوا جب امریکہ نے اس سے علیحدگی اختیار کی

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ یہ اعلان ایران کے لیے انتہائی خطرناک قدم ہے۔ اور انھوں نے فرانس، جرمنی اور برطانیہ پر دوبارہ زور دیا ہے کہ وہ ایران پر پابندیاں عائد کریں۔

اسرائیل کے وزیر توانائی ایوال سٹائنکس نے پہلے ہی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالانکہ یورنیم افزودگی میں یہ اضافہ 'متوسط' ہے لیکن ایران نے 'جوہری ہتھیاروں کی جانب اپنا سفر شروع کر دیا ہے۔'

ایران جوہری معاہدہ کیا ہے؟

سنہ 2015 میں چھ ممالک نے ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے ایک مشترکہ جامع ایکشن پلان مرتب کیا تھا۔

جس کے تحت تہران نے بین الاقوامی انسپکٹرز کو ملک میں دورہ کرنے کی اجازت اور اپنی جوہری سرگرمیاں محدود کرنے ہر رضامندی ظاہر کی تھی۔

اس معاہدے کے تحت ایران کو ہلکے معیار کی یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت تھی جو کہ 3 سے 4 فیصد تک ارتکاز کے لیول پر افزودہ کی جا سکتی ہے۔ جس کو جوہری بجلی گھروں میں بطور ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت ایران پر یہ بھی پابندی تھی کہ وہ تین سو کلو گرام سے زیادہ افزودہ زدہ یورینیم کا ذخیرہ نہیں کر سکتا۔

آرمز کنٹرول ایسوسی ایشن کے مطابق، 1050 کلو گرام کا ذخیرہ ایک بم بنانے کے لئے کافی مقدار میں تیار کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں