صدر ٹرمپ دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیک ہونے والے ای میلز مین برطانوی سفیر نے صدر ٹرمپ کی حکومت کو 'نااہل' اور 'ناکارہ' کہا ہے

امریکہ میں برطانوی سفیر کے ٹرمپ انتظامیہ کے بارے میں تنقید بھرے خفیہ ای میلز کے لیک ہونے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفیر کی کارکردگی کے بارے میں سوال اٹھایا اور کہا ہے کہ امریکہ ان کے ساتھ کام نہیں کرے گا۔

ایک برطانوی اخبار میں اتوار کے روز برطانوی سفیر سر کم ڈیروک کی خفیہ ای میلز شائع کی گئی تھیں جن میں انھوں نے وائٹ ہاؤس کو نااہل اور انتہائی غیر مؤثر قرار دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ برطانوی سفیر نے برطانیہ کے حق میں اچھا کام نہیں کیا ہے تاہم برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ برطانوی سفیر کو وزیراعظم ٹریزا مے کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

وزیراعظم کے دفتر نے ای میلز افشا ہونے کو ’بدقسمتی‘ قرار دیا ہے جبکہ برطانوی دفترِ خارجہ اس بات کی تفتیش کر رہا ہے کہ کس نے یہ ای میلز لیک کی ہیں۔

سنہ 2017 سے اب تک دو سال کے عرصے پر محیط ان ای میلز میں سر کم ڈیروک نے صدر ٹرمپ کے ایران، روس، اور چین کے بارے میں خیالات پر بلاتکلف انداز میں بات کی ہے۔

ایران

برطانوی اخبار دی میل کے مطابق سفیر نے 22 جون کو ایک میمو بھیجا جس میں کہا کہ ایران کے حوالے سے امریکہ پالیسی بےربط ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس بات کا امکان کم ہے کہ ایران پر امریکی پالیسی میں ہم آہنگی جلد آئے گی۔ یہ انتظامیہ منقسم ہے۔‘

لیک ہونے والی ای میلز کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ انھوں نے ایک میزائل حملے کو آخری مرحلے پر روک دیا، بھی کچھ زیادہ درست نہیں تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سر کم نے مبینہ طور پر یہ لکھا تھا کہ اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ صدر ٹرمپ اس حملے کے حوالے سے مکمل طور پر رضامند تھے ہی نہیں اور انھیں اس بات کی فکر تھی کہ اپنے 2016 کے انتخابی وعدے سے اس طرح بظاہر پلٹ جانا 2020 کے انتخاب پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

تاہم سفیر نے خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں کیونکہ صدر ٹرمپ زیادہ ہاکش (یعنی جنگ کے حامی) مشیران سے گھرے ہوئے ہیں۔

روس

دو سال قبل تحریر کردہ ایک بریفنگ نوٹ میں سر کم نے مبینہ طور پر روس اور ٹرمپ کی انتخابی مہم کا حوالہ دیا۔

اگرچہ اب ان الزامات کی تردید ہو چکی ہے، برطانوی سفیر کو اس وقت یہ خوف تھا کہ روس کے ساتھ ٹرمپ کے ساتھ ہونے کے الزامات میں سچائی ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جو بدترین صورتحال ہے اسے خارج از امکان نہیں کہا جا سکتا۔

انھوں نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ امریکی انتظامیہ میں ہر روز کوئی نہ کوئی سکینڈل سامنے آ رہا ہے جس کا روس سے آخرکار کوئی تعلق نکل ہی آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میولر کی جانچ اس نتیجے پر پہنچی کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان سازباز کے شواہد نہیں

مبینہ طور پر برطانوی سفیر نے لکھا کہ مشکوک روسی سرمایہ کاروں نے ممکنہ طور پر ٹرمپ اور جیرڈ کشنر کو گذشتہ دہائیوں میں دیوالیہ ہونے سے بچایا ہو۔

رواں سال کے آغاز میں امریکی سپیشل کونسل رابرٹ میولر اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ روس اور ٹرمپ انتخابی مہم کے درمیان کوئی ایسا اتحاد نہیں تھا جس کی مدد سے ہلیری کلنٹن کو 2016 کے صدارتی انتخاب میں شکست دی گئی ہو تاہم انھوں نے صدر ٹرمپ کو انصاف میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام سے بری نہیں کیا تھا۔

سر کم بظاہر صدر ٹرمپ کی مذاکراتی صلاحیتوں کے مداح بھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ 'ٹرمپ ساری عمر کسی نہ کسی سکینڈل میں پھنسا رہا ہے مگر وہ بچ جاتا ہے۔ شاید وہ تباہ نہیں ہو سکتا۔'

بین الاقوامی تجارت

لندن ارسال کیے جانے والے ایک مراسلے میں امریکہ میں موجود برطانوی سفیر نے کہا کہ 'یہ 'پہلے امریکہ' والی انتظامیہ عالمی تجارتی نظام کو بعض شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔'

سفیر نے یہاں تک متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ 'ڈبلیو ٹی او (عالمی تجارتی تنظیم) کی کھلے طور پر مذمت کر سکتے ہیں، موجودہ تجارتی تفصیلات کو ختم کر سکتے ہیں، اپنے اتحادیوں تک کے خلاف پروٹیکشنزم لانچ کر سکتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ٹرمپ نے میکسیکو، چین، کینیڈا اور یورپی یونین سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر زیادہ محصول عائد کیا ہے

امریکی صدر نے در حقیقت یورپی یونین کے ممالک، کینیڈا، میکسیکو اور چین سے درآمد ہونے والے اربوں ڈالر کے سامان پر بڑے محصولات عائد کر دیے۔

سر کم نے مزید کہا کہ امریکی صدر 'موسمیاتی تبدیلی پر بین الاقوامی ایکشن کو مزید نظر انداز کر سکتے ہیں یا اقوام متحدہ کی فنڈنگ میں مزید تخفیف کر سکتے ہیں۔'

یورپی یونین اور چین

برطانوی سفیر نے لندن کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جنگی خارجہ پالیسی یورپی یونین میں ان کے روایتی حلیفوں کو بھی ان سے دور کر رہی ہے۔

سر کم کے مطابق جرمنی کی چانسلر اینگلا میرکل اور فرانسیسی صدر امینوئل میکخواں صدر ٹرمپ سے فاصلہ بنائے رکھنے میں مصروف رہے۔

برطانوی سفیر نے کہا: 'میرے خیال سے ہمیں ان کی تقلید کی ضرورت نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ PA Media
Image caption صدر ٹرمپ نے کہا کہ سفیر سر کم دیروک نے برطانیہ کی 'اچھی خدمت نہیں کی ہے'

لیکن انھوں نے لندن کو خبردار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ممکنہ طور پر نئے برطانوی وزیر اعظم (بورس جانسن یا جیریمی ہنٹ) کی زندگی کو سہل نہیں ہونے دے گی جو کہ یورپی یونین سے باہر نکلنے کی تلافی کے طور پر سمندر کے پرے موافق تجارتی معاہدے کے خواہشمند ہوں گے۔

لیک ہونے والے مواد کے مطابق سر کم کا خيال ہے کہ صدر ٹرمپ برطانیہ پر 'ان (امریکہ) اور چین کے درمیان ایک کو منتخب کرنے پر زور ڈالتے رہیں گے۔'

اسی بارے میں