امریکہ کا خلیج عمان اور یمنی پانیوں میں مفادات کے تحفظ کے لیے فوجی اتحاد بنانے کا اعلان

میرین جنرل جوزف ڈنفورڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میرین جنرل جوزف ڈنفورڈ امریکی صدر کے ساتھ اپریک میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے

امریکہ کے ایک سینیئر فوجی جنرل کا کہنا ہے کہ ایران اور یمن کے اطراف سمندر کی حفاظت کے لیے امریکہ ایک بین الاقوامی فوجی اتحاد قائم کرنا چاہتا ہے۔

امریکی میرینز کے جنرل جوزف ڈنفرڈ کا کہنا ہے کہ وہ خلیجی خطے میں 'جہاز رانی کی آزادی کو یقینی' بنانا چاہتے ہیں کیونکہ اس علاقے میں اہم تجارتی گزر گاہیں ہیں۔

گذشتہ ماہ امریکہ نے ایران کے حمایت یافتہ جنگجوؤں پر خلیجی پانیوں میں دو تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے۔

ایران کی تنبیہ: امریکہ ہر قسم کی جارحیت سے باز رہے

یو اے ای: بحری جہازوں پر حملوں میں ’ریاستی عنصر‘ ملوث

جنرل ڈنفرڈ کا کہنا ہے کہ فی الحال امریکہ کی ایسے کافی ممالک سے بات چیت چل رہی ہے جو اس منصوبے کی حمایت کرنے پر آمادہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ 'کمانڈ اینڈ کنٹرول' کے عمل کے لیے بحری جہاز مہیا کرے گا تاہم مقصد یہ ہے کہ دوسرے ممالک بھی کشتیاں دیں گے جو امریکی بحری جہازوں کے درمیان گشت کر سکیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ دوسرے ممالک کی افواج کے ساتھ براہ راست کام کرتے ہوئے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا کہ کون کون سے ممالک اس منصوبے میں کس طرح اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

Image caption خلیج عُمان میں ٹینکروں کا محل وقوع

یہ منصوبہ کتنا بڑا ہو گا؟ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے جنرل ڈنفرڈ کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کتنے ممالک اس کا حصہ بننے پر رضامند ہوتے ہیں۔

'اگر حصہ بننے والے ممالک کی تعداد کم ہوئی تو یہ ایک چھوٹا منصوبہ ہو سکتا ہے ۔ تاہم اگر مزید ممالک اس کا حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کریں گے تو اس میں توسیع کر دی جائے گی۔'

آبنائے ہرمز اور باب المندب فوجی اہمیت کے بحری راستے ہیں جو سمندر سے خلیج اور بحیرۂ احمر تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔

باب المندب کے بحری راستے سے روزانہ چالیس لاکھ بیرل تیل گزرتا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ہے؟

امریکہ جہاز رانی کے متعلق اتنی تشویش کیوں رکھتا ہے؟

امریکہ نے ایران پر جون میں آبنائے ہرمز سے کچھ ہی فاصلے پر دو تیل بردار ٹینکروں کو آبی بارودی سرنگ سے تباہ کرنے کا الزام لگایا جس کی ایران نے تردید کی۔

اس کے کچھ ہی دنوں بعد ایرانی فوج نے امریکی ڈرون کو خلیج کے علاقے میں تباہ کر دیا۔ ایران کا موقف تھا کہ ڈرون نے ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور اس سے امریکہ کو 'سیدھا پیغام ملے گا۔'

امریکہ نے ایران کی تردید کی اور اپنے موقف پر اصرار کیا کہ ان کا ڈرون بین الاقوامی فضائی حدود میں تھا۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹوئٹر پر ایران کے لیے پیغام دیا کہ اس نے ایک 'بہت بڑی غلطی کی ہے!'

امریکہ نے ایران کے خلاف جوابی فضائی کاروائی کی منصوبہ بندی کر لی تھی لیکن بعد میں حملے کو منسوخ کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption خلیج عمان میں دو تیل بردار ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے

ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ اپنے تیل کی برآمدات نہ کر سکا تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیں گے۔

امریکہ کے صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے اس سے پہلے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ جوہری معاہدے پر ازسرنو مذاکرات نہیں کرے گا تو وہ ایران کی تیل برآمدات پر پابندی عائد کر دیں گے۔

ڈرون کو گرانے کے بعد ایران کے پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی نے کہا تھا کہ 'ایران کسی ملک کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا لیکن ہم ایران کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔'

برطانیہ کہ بیان کے بعد کہ ایرانی حکومت ہی 'تقریباً یقیناً' تیل کے ٹینکروں پر حملے کی ذمہ دار ہے، ایران اور برطانیہ کے درمیان بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MEGHDAD MADADI/AFP/GETTY IMAGES
Image caption جون میں ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کی فضا سے امریکی ڈرون کو تباہ کر کے گرا دیا تھا

امریکہ ایران کشیدگی: گذشتہ واقعات

مئی 2018: امریکی صدر یکطرفہ طور پر 2015 کے جوہری معاہدے سے دست بردار ہو گئے اور ایک بار پھر ایران پر پابندیا عائد کرنا شروع کر دیں جس کی وجہ سے ایرانی معیشت پر بھی منفی اثر پڑنا شروع ہو گئے۔

2 مئی 2019: صدر ٹرمپ نے ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کے لیے ایرانی تیل خریدنے والے ملکوں کے لیے پابندیوں سے استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

5 مئی 2019: امریکہ نے خلیج میں اپنے بی-25 بمبار جہازوں کے دستے تعینات کر دیے جس کی وجہ انھوں نے ایران سے متعلق 'پریشان کن' اور کشیدگی میں اضافہ دینے والے اشارے بتائے۔

8 مئی 2019: ایرانی صدر نے کہا کہ پابندیوں کے جواب میں ایران جوہری معاہدے میں کیے گئے اپنے وعدوں سے دست بردار ہو جائے گا بشمول اس کے کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بڑھائے گا۔ افزودہ یورینیم کا استعمال جوہری ری ایکٹر کے ایندھن کے لیے استعمال ہوتا ہے ساتھ ہی اس کی مدد سے جوہری ہتھیار بھی بنائے جا سکتے ہیں۔

12 مئی 2019: متحدہ عرب عمارات کے ساحلی علاقے کے قریب خلیج اومان میں چار تیل کے بحری ٹینکروں کو حملہ کر کے نقصان پہنچایا گیا۔ متحدہ عرب عمارات کا کہنا تھا دھماکے مقناطیسی بحری بارودی سرنگ سے ہوئے جس میں 'ریاستی عناصر ملوث تھے۔' امریکہ نے ایران کو ان دھماکوں کا ذمہ دار ٹہرایا جبکہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ US DEPARTMENT OF DEFENSE

13 جون 2019: خلیج اومان کے علاقے میں دو ٹینکروں پر بم حملہ ہوا۔ امریکہ نے ایک بار پھر ایران پر ذمہ داری کا الزام لگایا اور ساتھ ایک مبینہ ویڈیو ثبوت پیش کیا جس میں ایرانی اہلکاروں کو ٹینکروں سے ایک مقناطیسی بارودی سرنگ اتارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو واقعے میں نہیں پھٹی تھی۔ ایران کا موقف تھا کہ یہ وڈیو جھوٹی اور من گھڑت ہے۔

17 جون 2019: ایران نے اعلان کیا کہ اگر یورپ ایرانی تیل کی خرید و فروخت کا تحفظ نہ کر سکا تو 27 جون تک وہ جوہری معاہدے میں لکھی گئی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کی حد عبور کرے گا۔

20 جون2019: ایرانی افواج نے آبنائے ہرمز کی فضا میں امریکی ڈرون کو تباہ کر کے گرا دیا۔

4 جولائی 2019: برطانوی میرینز نے شام کے ساتھ یورپی یونین کی طرف سے لگائی گئی تجارتی پابندیوں کی خلاف ورزی کے شبہے میں ایرانی تیل کے ٹینکر 'گریس ون' کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

اسی بارے میں