جمال خاشقجی قتل: ’امریکہ اقوام متحدہ کی رپورٹ پر عمل کرے‘

جمال خاشقجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’اس بات کے معتبر شواہد موجود ہیں کہ سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان اور دیگر اعلی عہدیدار اپنی انفرادی حیثیت میں جمال خاشقجی کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں‘

اقوام متحدہ کی جانب سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی ہلاکت پر متعین نمائندہ تفتیش کار ایگنیس کیلمارڈ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خاشقجی کی موت پر مرتب کی گئی رپورٹ کی سفارشات پر عمل کرے۔

انسانی حقوق کی ماہر ایگنیس کیلمارڈ کا کہنا ہے کہ ’خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس (ہلاکت) پر بات کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی کافی نہیں ہے۔ ہمیں عمل کرنا ہو گا۔‘

اپنی تفتیشی رپورٹ میں ایگنیس کیلمارڈ نے گذشتہ برس اکتوبر میں ترکی کے شہر استنبول میں سعودی سفارت خانے میں جمال خاشقجی کی ہلاکت کو 'ماورائے عدالت قتل' قرار دیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کو اس معاملے میں ایف بی آئی یا عدالتی تحقیقات کروانی چاہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خاشقجی قتل: ریاض نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ مسترد کر دی

’سعودی عرب نے خاشقجی قتل کی تحقیقات میں رکاوٹیں ڈالیں‘

جمال خاشقجی قتل: امریکہ اور سعودی عرب کے بدلتے بیانات

جمال خاشقجی قتل: متحدہ عرب امارات کے مشتبہ جاسوس گرفتار

منگل کے روز لندن میں خاشقجی کی منگیتر کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس میں بات کرتے ہوئے ایگنیس کیلمارڈ نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ اس قتل پر ہونے والی تحقیقات کو عام کرے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ واشنگٹن قتل کی تفتیش میں تعاون کرنے والوں کی لسٹ میں سرِفہرست نہیں ہے۔

جون میں شائع ہونے والی ایگنیس کیلمارڈ کی 101 صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس بات کے 'معتبر شواہد' موجود ہیں کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر اعلی عہدیدار اپنی انفرادی حیثیت میں جمال خاشقجی کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔

سعودی انٹیلیجینس اہلکاروں نے صحافی خاشقجی کو استنبول میں سعودی سفارت خانے کے اندر قتل کیا تھا تاہم حکام کا اصرار ہے کہ اہلکاروں نے یہ سب محمد بن سلمان کے احکامات پر نہیں کیا۔

ایگنیس کیلمارڈ اقوام متحدہ کی نمائندہ نہیں ہیں تاہم وہ اپنی تحقیقات کے نتائج اقوام متحدہ کو رپورٹ کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'خاموش رہنا کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس (ہلاکت) پر بات کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی کافی نہیں ہے۔ ہمیں عمل کرنا ہو گا'

انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنتونیو گوتیرس سے اپنی ہونے والی ایک ملاقات میں مطالبہ کیا تھا کہ خاشقجی کی ہلاکت میں 'انٹرنیشنل کریمنل انویسٹیگیشن' کی جائیں تاہم سیکریٹری جنرل نے ان کی درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی تھی کہ ایسی درخواست کرنے کا اختیار صرف اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو ہے۔

ایگنیس کیلمارڈ کا کہنا تھا اس ہلاکت پر عوامی مطالبات کے باوجود ایکشن نہ لینے کے باعث وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مغرب کو 'جمہوریت کے فقدان' کا سامنا ہے۔

خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیز نے یورپی ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ 'اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیں۔'

خدیجہ چنگیز کا کہنا تھا کہ 'اس طرح کے ردِعمل کا مظاہرہ کرنا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں بہت خطرناک ہے۔'

جمال خاشقجی کی ہلاکت کیسے ہوئی؟

امریکہ میں مقیم واشنگٹن پوسٹ سے منسلک 59 سالہ کالم نگار جمال خاشقجی کو آخری مرتبہ دو اکتوبر سنہ 2018 کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ خاشقجی، جو کہ پرنس سلمان پر تنقید کرتے تھے، سعودی قونصل خانے میں اپنی شادی کے لیے درکار ضروری سرکاری کاغذات لینے گئے تھے۔

ایگنیس کیلمارڈ کا کہنا تھا کہ خاشقجی کو اسی روز قونصل خانے میں 'بہیمانہ طریقے سے قتل' کر دیا گیا تھا۔

سعودی عرب کے ڈپٹی پبلک پراسکیوٹر شالان شالان نے نومبر سنہ 2018 میں رپورٹرز کو بتایا کہ خاشقجی کے قتل کے احکامات اس 'مذاکراتی ٹیم' کے سربراہ نے دیے جسے سعودی ڈپٹی انٹیلیجینس چیف نے خاشقجی کو سعودی عرب واپس لانے کے لیے بھیجا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سعودی انٹیلیجینس اہلکاروں نے صحافی جمال خاشقجی کو استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر قتل کیا تھا

مذاکراتی ٹیم کو خاشقجی کو 'منت سماجت‘ کے ذریعے اور اگر وہ نہیں مانتے تو 'زبردستی' واپس سعودی عرب لانے کا کہا گیا تھا۔

شالان شالان نے بتایا کہ تفتیش کاروں کے مطابق خاشقجی سے قونصل خانے کے اندر زور زبردستی کی گئی اور ٹیکے کے ذریعے انھیں نشہ آور ادویات دی گئیں۔ نشہ آور ادویات کی زیادہ مقدار کے باعث وہ ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کیے گئے اور انھیں قونصل خانے کے باہر مقامی 'معاونین' کے حوالے کر دیا۔

شالان شالان کے مطابق پانچ اشخاص نے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ولی عہد ان تمام معاملات سے لاعلم تھے۔

رپورٹ کیا کہتی ہے؟

ایگنیس کیلمارڈ کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے آفس نے یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ قتل کے ذمہ داروں بشمول ریاستوں اور انفرادی شخصیات کی ذمہ داری کا تعین کریں۔

سعودی حکام کا اصرار ہے کہ خاشقجی کا قتل 'بلااجازت' آپریشن کا نتیجہ تھا تاہم ایگنیس کیلمارڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'یہ ایک ماورائے عدالت قتل تھا جس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے۔'

'عالمی انسانی حقوق کے قوانین کے تناظر میں ریاست کی صرف یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ یہ پتا کرے کے کس ریاستی اہلکار نے خاشقجی کے قتل کے احکامات جاری کیے، آیا ایک یا ایک سے زائد اہلکاروں نے ان کو اغوا کرنے کے احکامات دیے، اور ان احکامات کی پیروی کرتے ہوئے ان کی حادثاتی موت واقع ہوئی، یا اہلکاروں نے اپنے طور پر یہ اقدام کیا۔'

ایگنیس کیلمارڈ نے یہ بھی لکھا کہ 'قابل بھروسہ شواہد' اس بات کے متقاضی ہیں کہ اس معاملے میں اعلی سعودی افسران بشمول سعودی کراؤن پرنس سے مزید تفتیش کی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’سعودی شہزادے محمد بن سلمان پر ویسی ہی پابندیاں عائد کی جائیں جیسی اقوام متحدہ کے دوسرے ممبر ممالک بشمول امریکہ نے ان افراد پر عائد کی ہوئی ہیں جو لوگوں کو ہلاک کرنے میں ملوث ہیں‘

ایگنیس کیلمارڈ کہتی ہیں کہ سعودی شہزادے محمد بن سلمان پر ویسی ہی پابندیاں عائد کی جائیں جیسی اقوام متحدہ کے دوسرے ممبر ممالک بشمول امریکہ نے ان افراد پر عائد کی ہوئی ہیں جو لوگوں کو ہلاک کرنے میں ملوث ہیں۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ سعودی شہزادے کے بیرون ممالک اثاثوں پر پابندیاں اس وقت تک لگی رہنی چاہییں جب تک وہ خاشقجی کے قتل کے الزامات سے باقاعدہ بری نہیں ہو جاتے۔

ایگنیس کیلمارڈ کی رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ اس قتل میں ملوث 11 افراد کا ٹرائل، جو کہ سعودی عرب میں جاری ہے، کو معطل کیا جائے کیونکہ یہ ایک بین الاقوامی جرم ہے جس کا دائرہ کار عالمگیر ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ دوسرے ممالک جیسا کہ ترکی اور امریکہ استغاثہ کا حصہ بن سکیں گے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل خاشقجی کے قتل کی علیحدہ سے کرمنل انویسٹیگیشن کرے اور باقاعدہ احتساب کے لیے طریقہ کار کا تعین کرے، جیسا کہ ٹرائبیونل وغیرہ۔

اسی بارے میں