ایران برطانیہ کشیدگی: ’پاسدران انقلاب کی کشتیوں نے برطانوی ٹینکر کا راستہ روکنے کی کوشش کی‘

برطانوی بحریہ کا جہاز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانیہ کے وزیرِ خارجہ جیرمی ہنٹ نے وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ برطانیہ کے وزیرِاعظم بنے تو وہ برطانوی بحریہ کے بجٹ پر کٹوتی کے فیصلے کو واپس لیں گے۔

ان کا بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے قریب کچھ ایرانی کشتیوں نے ایک برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو روکنے کی کوشش کی تاہم برطانوی بحریہ کے جہاز نے انھیں بھگا دیا۔

ٹیلی گراف میں لکھے گئے ایک آرٹیکل میں ہنٹ کا کہنا تھا کہ خلیج میں پیش آنے والا واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ برطانوی بحریہ کو مضبوط دفاع کے لیے مزید کئی جنگی بحری جہاز درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کرنے جا رہا ہے؟

’ایران کو دھونس جمانے والوں کو جواب دینا آتا ہے‘

’ٹینکروں سے بارودی سرنگ ہٹانے کی ویڈیو‘، ایران کا انکار

ٹوری رہنماؤں نے پہلے ہی یہ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ دفاعی بجٹ کو اگلے پانچ سال میں 15 بلین پاؤنڈز تک بڑھا دیں گے۔

ہنٹ کا کہنا ہے ایرانی اقدام کے پیچھے ناقابل یقین بدنیتی کا عنصر کار فرما ہے۔

ہنٹ کے سیاسی حریف بورس جانسن نے بھی برطانیہ کے دفاعی بجٹ بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس سے قبل برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ خلیج فارس کے قریب کچھ ایرانی کشتیوں نے ان کے ایک تیل کے ٹینکر کو روکنے کی کوشش کی تاہم برطانوی بحریہ کے جہاز نے انھیں بھگا دیا۔

ایک ترجمان کے مطابق برطانیہ کا ایچ ایم ایس مونٹروس نامی جہاز ان تین ایرانی کشتیوں اور بریٹش ہیرٹیج نامی برطانوی آئل ٹینکر کے بیچ میں آگیا تھا اور پھر ایرانی کشتیوں کو دور رہنے کے لیے زبانی طور پر متنبہ بھی کیا تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کا یہ اقدام ’بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے‘۔ ایران نے اپنے ایک ٹینکر کی ضبطگی کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی تاہم ایسے کسی اقدام کی مکمل تردید کی ہے۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث کشتیاں ایرانی پاسداران انقلاب کی ہیں۔ اور ان کا مقصد برطانوی ٹینکر کا راستہ بند کر کے اسے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روکنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانوی بحری جہاز ایچ ایم ایس مونٹروس برطانوی آئل ٹینکر بریٹش ہیرٹیج کی حفاظت پر معمور تھا اور اطلاعات کے مطابق اس نے ایرانی کشتیوں پر اپنی بندوقیں تان لی تھیں۔ ایرانی کشتیوں کو تنبیہ کے بعد کوئی گولی نہیں چلائی گئی۔

بی بی سی کو یہ معلوم ہوا ہے کہ برطانوی ٹینکر ابو موسیٰ جزیرے کے قریب تھا جب اسے ایرانی کشتیوں کی جانب سے روکا گیا۔

یہ جزیرہ متنازعہ علاقائی پانیوں میں واقع ہے لیکن اطلاعات کے مطابق برطانوی جہاز ایچ ایم ایس مونٹروس اس تمام معاملے کے دوران بین الاقوامی پانیوں میں رہا۔

برطانوی حکومت کے ایک ترجمان کے مطابق ’تین ایرانی کشتیوں نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بریٹش ہریٹیج نامی کمرشل ٹینکر کو آبنائے ہرمز جانے سے روکا ہے۔

’ہمیں اس اقدام پر تشویش ہے اور ہم ایرانی حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ علاقے میں کشیدگی کم کی جائے۔‘

ایران کا کیا موقف ہے؟

ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے پاسدرانِ انقلاب کا موقف بیان کرتے ہوئے ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا ہے کہ ایران امریکی ذرائع کے ان دعووں کی تردید کرتا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے برطانوی ٹینکر کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاسدرانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران برطانوی سمیت کسی غیر ملکی جہاز کا راستہ نہیں روکا گیا۔‘

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ برطانیہ نے یہ دعوے ’کشیدگی پیدا کرنے کے لیے‘ کیے ہیں۔

وزیر خارجہ ظریف نے کہا ہے کہ ’ان دعووں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ‘

علاقائی کشیدگی

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو رکوانے کے لیے بین الاقوامی معاہدے سے یکطرفہ طور پر علحیدہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔

اس معاہدے پر سنہ 2015 میں اقوامِ متحدہ سمیت امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ ایران اپنے جوہری منصوبے کو کم تر درجے تک لے جائے گا اور صرف 3 فیصد یورینیم افزودہ کرسکے گا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہونے اور پابندیوں کی بحالی کے اعلان کے جواب میں ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا تھا۔ یہ یورینیم جوہری بجلی گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اسے جوہری بموں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

امریکہ گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکروں کو پہچنے والے نقصان کا الزام ایران پر عائد کرتا ہے جبکہ ایران نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ایران نے کچھ روز قبل فضائی حدود کی حلاف ورزی پر امریکہ کا بغیر پائلٹ کے ایک ڈرون بھی مار گرایا تھا۔ جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ 'ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔'

برطانیہ کے اس بیان کے بعد کہ جون میں آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کی ذمہ دار یقینی طور پر ایرانی حکومت ہے، ایران اور برطانیہ کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہونے لگا ہے۔

برطانیہ ایران پر دوہری شہریت رکھنے والی نازنین زغاری ریٹکلف کی رہائی کے لیے بھی دباؤ ڈال رہا ہے جن کو سنہ 2016 میں جاسوسی کے الزامات میں پانچ سال جیل کی سزا سنائی گئی تھی تاہم وہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات سے انکار کرتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں