دوسری جنگِ عظیم: دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی لڑائی کون جیتا تھا؟

سویت ٹینک تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

روس آج بھی اس بات پر نازاں ہے کہ جرمن نازیوں کے خلاف سنہ 1943 میں کوسک کے میدان میں تاریخ کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ اس نے جیتی تھی۔

لہذا یہ بات باعثِ حیرت نہیں ہے کہ روسی حکام مغربی مورخین پر اس وجہ سے تنقید کر رہے ہیں کہ انھوں نے ریڈ آرمی (سوویت فوج) کی محاذِ جنگ میں مہارت کے حوالے سے سوالات اٹھائے ہیں۔

دہائیوں تک روسیوں کو اپنے عسکری مورخین کی لکھی گئی جنگی تاریخ پر شک کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

روسی عسکری مورخین 12 جولائی 1943 کو ہوئے معرکہ پروخوروفکا کو ایک اہم موڑ قرار دیتے ہیں جس میں روسی افواج نے نازی ٹینکوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پہلی جنگ عظیم: ہندوستانی فوجیوں کی غیر معمولی کہانیاں

دوسری عالمی جنگ کے مسلمان سپاہیوں کا ذکر کم کیوں؟

بارود کی بو میں سپاہیوں کی حسن پرستی

سنہ 1943 میں پانچ سے 23 جولائی کے دوران لڑی جانے والی کوسک کی جنگ کو دوسری جنگ عظیم کا اہم موڑ قرار دیا جاتا ہے۔

سنہ 1942-43 کے موسِم سرما میں سٹالن گراڈ کے مقام پر ہٹلر کی فوجوں کو زبردست شکست کے بعد روسی فوج نے نازیوں کے بڑے جوابی حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کوسک کی جنگ کے دوران سوویت بندوق بردار فوجی جرمن ٹینک کا مقابلہ کرتے ہوئے

حال ہی میں ایک برطانوی مورخ بین ویٹلے نے پروخوروفکا کے میدانِ جنگ کی 14 سے 16 جولائی کے دوران فضا سے لی گئی تصاویر کا تجزیہ کیا ہے۔ اس وقت تک یہ علاقہ جرمنی کے زیر اثر تھا۔ یہ تصاویر کالج پارک، میری لینڈ میں امریکی نیشنل آرکائیو سے ملی ہیں۔

بین ویٹلے اس جنگ کے دوران مرتب کی گئی رپوٹس اور تاریخی مواد کے تفصیلی مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ 12 جولائی کو پروخوروفکا کے میدانِ جنگ میں جرمنی کے صرف پانچ ٹینک تباہ ہوئے جبکہ جرمنی نے روس کے 200 سے زائد ٹینکوں کو نیست و نابود کیا۔

بین ویٹلے لکھتے ہیں کہ سوویت ٹی-34 نامی درجنوں ٹینک روسی پیادہ فوج کی جانب سے کھودی گئی 15 فٹ گہری ٹینک شکن کھائی میں جا گرے۔ اور جب روسی فوج کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو بچ جانے والے ٹی-34 ٹینکوں کو ایک قطار میں پل کو عبور کروانا شروع کر دیا گیا۔

اس دوران جرمن فوج نے باآسانی پل سے آنے والے ٹینکوں کو ایک ایک کر کے نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption جنگ کے دوران پروخوروفکا میں مرنے والے سوویت فوجیوں کی یادگار

ویٹلے اور ایک جرمن عسکری مورخ کارل ہینز فریزر کا حوالہ ایک جرمن روزنامے ڈائی ویلٹ کے مضمون میں دیا گیا جو اب روس کے اعصاب پر سوار ہے۔

مصنف سوین فیلکس کلر ہوف نے دلیل پیش کی ہے کہ پروخوروفکا کے میدانِ جنگ میں سوویت یونین کی شکست کے ثبوت اتنے واضع ہیں کہ روس نے فیصلہ کیا تھا کہ اس یاد گار کو توڑ دیا جائے گا جہاں 12 جولائی کو سوویت ٹینک کے عملے کی جوان مردی کا جشن منایا جاتا ہے۔

جرمنی میں روسی سفیر سرگے نچائف کا کہنا ہے کہ کلر ہوف کا خیال ’تصور سے باہر‘ تھا۔

ان کا کہنا تھا ’تاریخی حقائق کو دوبارہ لکھنے کی کوشش نالائقی اور ذلت آمیز دکھائی دیتی ہے۔ اس کا مقصد ان برسوں کے واقعات میں تحریف کرنا اور نازی تحریک کو شکست دینے اور یورپ کو براؤن پلیگ سے آزاد کرنے کی کوشش میں سوویت لوگوں کے فیصلہ کن کردار کو کم کرنا ہے۔‘

روس کے فوجی میوزیم کے سربراہ یوری ناتوف نے جرمن مضمون کو تاریخ کی جعلسازی قرار دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سوویت فوج جنگ میں اپنے ٹی-34 ٹینکوں کے ساتھ

کوسک کی جنگ

  • 5 جولائی سنہ 1943 کو جرمن فوجوں نے ایک بڑا غیر متوقع حملہ کیا جس کا مقصد جرمن علاقے میں 160 کلو میٹر تک کے علاقے پر قابض سوویت فوجوں کو گھیرنا تھا۔
  • اس لڑائی میں تقریباً 6,000 ٹینک جن میں (2,700) جرمن ٹینک، 20 لاکھ سپاہی اور 4,000 طیارے شامل تھے۔
  • جرمنی کا حملہ سوویت بارودی سرنگوں اور ٹینک دفاعی نظام کے ذریعے روک دیا گیا۔
  • سوویت یونین کی فضائی طاقت نے جرمنی کے اس حملے کو روکنےمیں اہم کردار ادا کیا۔
  • سوویت افواج نے اگست میں اوریول اور خارکف کے شہروں پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔
  • اس فتح نے ریڈ آرمی کو مشرقی محاذ پر پیش قدمی کرنے کا موقع فراہم کیا۔
اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پہلی جنگ عظیم کی پہلی بار رنگین عکاسی

روسی پارلیمان میں بھی اخبار ڈائی ویلٹ کے خلاف بات کی گئی۔

روس کے ایوانِ زیریں (ڈوما) کے ایک دفاعی ماہر الیگزینڈر شیرین نے جرمن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ڈائی ویلٹ کے مدیر کے خلاف مقدمہ چلائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیچر نے نازی جرمن کرتوتوں پر جرمن قوم کی شرمندگی کو توڑ مروڑ کے پیش کیا ہے۔

دوسری جنگ عظیم میں سوویت فوج کی جوان مردی ولادیمیر پوتن کی صدارت کا اہم موضوع ہے کیونکہ وہ قومی فخر کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ سوویت افواج کو پروخوروفکا کے میدانِ جنگ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا، چاہے وہ کوسک کے دیگر فوجی معرکوں میں آگے رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دوسری جنگ عظیم میں سوویت فوج کی جوان مردی ولادیمیر پوتن کی صدارت کا اہم موضوع ہے

فوجی مورخ الکزے اسایف نے بی بی سی روسی سروس کو بتایا کہ سوویت افواج کو پروخوروفکا کے میدانِ جنگ میں پہنچنے والا نقصان برطانوی مورخ بین ویٹلے کے تجزیے سے مطابقت رکھتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پروخوروفکا کے میدانِ جنگ میں سوویت افواج کے 237 ٹینک تباہ ہوئے جبکہ 14 سیلف پروپیلڈ بندوقوں کو بھی نقصان پہنچا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ جرمنی نے 12 جولائی کے بعد فضائی تصاویر لیے جانے سے قبل میدانِ جنگ میں اپنے مثاثر ہونے والے ٹینک ہٹا دیے ہوں۔ اس صورت میں یہ ٹینک ویٹلے کے تجزیے میں شامل نہیں ہوں گے کیونکہ انھوں نے تصاویر کی مدد سے اپنے نتائج اخذ کیے۔

یہ بھی پڑھیے

پہلی جنگِ عظیم کا آخری محاذ

ہٹلر کی دیوانی ایک ہندو خاتون

تصاویر: یہ ایک صدی کا قصہ ہے

فضا سے لی گئی تصاویر پر مبنی برطانوی مورخ بین ویٹلے کی تحقیق کے مطابق 12 جولائی کو جرمنی کے زیادہ سے زیادہ 27 ٹینک یا تو تباہ ہوئے یا انھیں نقصان پہنچا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی-34 ٹینک سوویت یونین کی ایک متاثر کن ایجاد تھی اور وہ ریڈ آرمی کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی تھی۔

لیکن سوویت افواج کو کوسک کے میدانِ جنگ میں ٹائیگر نامی جرمن ٹینک اور فرڈینینڈ نامی توپخانے کی وجہ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

جنگ کی تصاویر لینے والے فوٹوگرافر ایناتولی یوگروف نے کوکس میں بھی جنگ کی کوریج کی۔ ان کے بھانجے میخیل یوگروف نے ایک اخبار موسکوفسکی کومسومولیز نے بات کرتے ہوئے ایناتولی کے کام پر انھی کی کہی ہوئی باتیں بتائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کوسک کی جنگ میں ٹائگر نامی جرمن ٹینک

ان کے مطابق اکثر تصاویر شائع نہیں ہوئی تھیں۔ میرے انکل نے مجھ سے پوچھا کہ 'کیا آپ کو معلوم ہے کہ پروخوروفکا کی جنگ کی کوئی پینورامک تصاویر اس ملک میں کیوں نہیں دیکھائی جاتی'۔

'کیونکہ ہر تباہ حال جرمن ٹینک کے بدلے ہمارے 10 ٹی-34 ٹینکوں کو نقصان پہنچا تھا! آپ ایسی تصاویر اخباروں میں کیسے چھپوا سکتے ہیں؟'۔

ایناتولی نے اپنے بھانجے کو بتایا کہ کبھی کبھار سووویت فوج کے ہنر مند سنائپر جرمن ٹینک ٹائگر کو سیدھا انکی دیکھنے والی کھڑکی میں گولی مار کر روک لیتے تھے۔ اس سے ٹینک چلانے والے فوجی باہر آ جاتے تھے۔

اس کے علاوہ شاید ہی کوئی طریقہ ٹائگر ٹینگ کو روک پایا۔

پروخوروفکا کے تنازعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ روس کے لیے آج بھی ان کی جنگی تاریخ ایک حساس معاملہ ہے۔ یہ وہی جنگ ہے جس نے دو کروڑ سوویت زندگیاں چھین لیں۔

اسی بارے میں