برطانیہ نے ایرانی تیل بردار ٹینکر چھوڑنے پر مشروط آمادگی ظاہر کر دی

جہاز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’ایرانی تیل بردار بحری جہاز کو اس شرط پر چھوڑا جا سکتا ہے اگر برطانیہ کو اس بات کی ضمانت دی جائے کہ خام تیل شام نہیں لے جایا جا رہا‘

برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ جیریمی ہنٹ نے کہا ہے جبرالٹر سے تحویل میں لیے گئے ایرانی تیل بردار بحری جہاز کو اس شرط پر چھوڑا جا سکتا ہے اگر برطانیہ کو اس بات کی ضمانت دی جائے کہ خام تیل شام نہیں لے جایا جا رہا۔

چار جولائی کو جبرالٹر میں برطانیہ کے رائل میرینز نے ایرانی تیل بردار سپر ٹینکر کو تحویل میں لے لیا تھا۔ برطانوی بحریہ کے مطابق انھیں خدشہ تھا کہ یہ ٹینکر خام تیل شام لے جا رہا ہے جو یورپی یونین کی دمشق پر لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’ایران کا اقدام ناقابل یقین بدنیتی پر مبنی ہے‘

’ایران کو دھونس جمانے والوں کو جواب دینا آتا ہے‘

یو اے ای: بحری جہازوں پر حملوں میں ’ریاستی عنصر‘ ملوث

ایران کے اس اقدام کو ’بحری قذاقی` قرار دیا تھا اور بعد ازاں برطانیہ نے الزام عائد کیا تھا کہ خلیج فارس کے قریب کچھ ایرانی کشتیوں نے ایک برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو روکنے کی کوشش کی تاہم برطانوی بحریہ کے جہاز نے انھیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

جیریمی ہنٹ کا کہنا ہے کہ تہران سے حالیہ ’تعمیری‘ بات چیت کے بعد وہ پراعتماد ہیں کہ ایران کی کشیدگی میں اضافہ کرنے کی خواہش نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انھوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف کو دوبارہ یقین دلایا ہے کہ ’برطانیہ کے لیے باعث تشویش یہ بات ہے کہ (پکڑے گئے ایرانی جہاز کی) منزل کیا ہے، نہ کے تیل کا ماخذ۔‘

انھوں نے کہا کہ ایران کو بتایا گیا ہے کہ برطانیہ تیل بردار جہاز کو چھوڑنے کے عمل میں سہولت کار کا کردار صرف اس صورت میں ادا کر سکتا ہے 'اگر برطانیہ کو یہ شواہد دیے جائیں کہ اس جہاز کی منزل شام نہیں ہو گی۔'

جیریمی ہنٹ نے کہا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ بھی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتے ہیں اور وہ کشیدگی میں اضافے کے خواہش مند نہیں ہیں۔

ایرانی تیل بردار جہاز کیوں پکڑا گیا تھا؟

بی بی سی کو بتایا گیا تھا کہ برطانوی رائل میرینز نے جبرالٹر حکومت کی درخواست پر ایران کے تیل بردار بحری ٹینکر کو قبضے میں لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'برطانیہ کے لیے باعث تشویش یہ بات ہے کہ (پکڑے گئے ایرانی جہاز کی) منزل کیا ہے، نہ کے تیل کا ماخذ'

حکام کا کہنا تھا کہ اس بات کے شواہد موجود تھے کہ ایرانی ٹینکر خام تیل کو شام میں موجود بینیاس نامی تیل صاف کرنے کے کارخانے لے کر جا رہا تھا۔

تیل صاف کرنے کا یہ کارخانہ یورپی یونین کی جانب سے شام پر عائد کی گئی پابندیوں کی زد میں ہے۔

ایران کا کیا ردِ عمل تھا؟

ایران نے دعوی کیا تھا کہ تیل بردار ٹینکر کی منزل شام نہیں تھی۔ ایران نے یہ دھمکی بھی دی تھی کہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے وہ برطانیہ کا تیل بردار جہاز قبضے میں لے گا۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے برطانیہ کے اس اقدام کو 'ایک طرح کی بحری قذاقی‘ قرار دیا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ ایرانی جہاز کو فی الفور چھوڑا جائے اور اسے اس کی منزل کی جانب سفر جاری رکھنے میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

ایران نے تہران میں برطانیہ کے سفیر رابرٹ میکائیر کو طلب کر کے اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کروایا تھا۔

عباس موسوی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکہ کی پالیسیوں کی پیروی کرتا ہے جو کہ ایران اور ایرانی قوم کے لیے قابل قبول عمل نہیں ہے۔

گذشتہ ہفتے ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے ایرانی حکومت کے اہلکار نے برطانیہ کو تنبیہ کی تھی کہ 'اس خطرناک کھیل' میں ملوث نہ ہو۔

اس کے بعد کیا ہوا؟

نو جولائی کو برطانیہ نے ایرانی پانیوں میں اپنے بحری جہازوں کو درپیش خطرے کا لیول ’تشویش ناک حد تک‘ بڑھا دیا تھا۔

برطانیہ کی وزارتِ دفاع کے مطابق دس جولائی کو ایرانی کشتیوں نے ایک برطانوی تیل بردار بحری جہاز کو روکنے کی کوشش کی تاہم برطانوی نیوی نے اسے ناکام بنا دیا۔

کشتیوں کے حوالے سے خیال ہے کہ یہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے تعلق رکھتی تھیں۔ برطانوی جہاز کو اس وقت روکنے کی کوشش کی گئی جب یہ خلیج فارس سے آبنائے ہرمز کی طرف جا رہا تھا۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر برطانوی نیوی کا جہاز، جو کہ تیل بردار جہاز سے کچھ فاصلے پر سکیورٹی کے پیش نظر چل رہا تھا، وہ ایرانی کشتیوں کے سامنے آ گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ایرانی حکومت نے برطانیہ کو تنبیہ کی تھی کہ وہ 'اس خطرناک کھیل' میں ملوث نہ ہو

ایران نے برطانیہ کے اس دعوی کو مسترد کر دیا تھا۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ برطانیہ اس طرح کے دعوے صرف 'کشیدگی کو جنم دینے' کے لیے کر رہا ہے۔

جیمز روبنز

بی بی سی، سفارتی تجزیہ کار

جیریمی ہنٹ نے دانستہ ایران کے وزیرِ خارجہ پر زور دیا ہے کہ برطانیہ تیل کی منزل مقصود، شام، کے حوالے سے تشویش کا شکار تھا نہ کے تیل کے ماخد، ایران، سے۔

ایران اس بات کو نہیں مانتا کہ یورپی یونین کی جانب سے شام پر عائد کی گئی پابندیوں کا اطلاق ان پر بھی ہوتا ہے۔ تاہم تیل کی منزل اور اس کے ماخد کے حوالے سے غیر مبہم بات کر کے برطانیہ یہ واضح کر دینا چاہتا ہے کہ ایران کے حوالے سے اس کی خارجہ پالیسی امریکہ کی ایران پر خارجہ پالیسی سے مختلف ہے۔

واشنگٹن تہران کے حوالے سے اپنے سخت ایجنڈے کی پیروی کر رہا۔ واشنگٹن اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران پر تیل کی برآمدات پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے اور یہ وہ بات ہے جس کی سپورٹ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک نہیں کرتے۔

ایران برطانیہ پر بالخصوص اور دوسرے یورپی ممالک پر بالعموم یہ الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اسے امریکہ کی ایران کو معاشی طور پر مکمل تباہ کرنے کی کوششوں سے نہیں بچاتے۔

برطانیہ کا ایرانی جہاز چھوڑنے کی آفر کے پیچھے کئی عوامل کار فرما ہیں۔ یہ عوامل صرف ادھر تک محدود نہیں کہ موجودہ بحران سے نجات پائی جائے بلکہ اس بات کا بھی اظہار ہے کہ برطانیہ اپنے آپ کو ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی سے بھی اپنے آپ کو لاتعلق کرے۔

اسی بارے میں