'ٹرمپ نے اوباما کو تکلیف پہنچانے کے لیے ایران سے معاہدہ ختم کیا'

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکہ میں برطانیہ کے سابق سفیر کے لیک ہو جانے والے ایک میمو کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو سابق صدر براک اوباما کو تکلیف پہنچانے کے لیے ختم کیا۔

معروف اخبار میل آن سنڈے کے مطابق برطانوی سفیر سر کم ڈیروک نے صدر ٹرمپ کے اس قدم کو 'سفارتی غارت گری' کے عمل سے تعبیر کیا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ یہ میمو سنہ 2018 میں اس وقت بھیجا گیا جب برطانیہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے امریکہ سے اپیل کی تھی کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر قائم رہے۔

اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری سرگرمی کو محدود رکھنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

معاہدے میں یہ بھی طے پایا تھا کہ سخت معاشی پابندیاں ہٹانے کی صورت میں ایران بین الاقوامی جانچ کرنے والوں کو اپنے یہاں آنے اور جوہری پروگرام کی تفتیش کرنے کی اجازت دے گا۔

صدر ٹرمپ کے خیال میں یہ معاہدہ بہت کارگر ثابت نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

صدر ٹرمپ دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

برطانوی سفیر کی ای میلز لیک، تحقیقات کا مطالبہ

ایران جوہری معاہدہ: کیا کوئی راستہ بچا ہے؟

اخبار کے مطابق بورس جانسن امریکہ سے برطانیہ لوٹ آئے اور سر کم نے لکھا کہ بظاہر صدر ٹرمپ اس جوہری معاہدے کو 'شخصی وجوہات' کی بنا پر ترک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ اس معاہدے کو ان کے پیش رو صدر براک اوباما نے طے کیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ برطانوی سفیر نے امریکی صدر کے مشیروں کے درمیان اختلاف کی نشاندہی کی تھی اور کہا تھا کہ معاہدے سے دستبردار ہونے کی صورت میں وائٹ ہاؤس کے پاس 'روزانہ' کی بنیاد پر اس کے متعلق کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔

اخبار کے مطابق سر کم نے بورس جانسن کو لکھا کہ 'نتیجہ وائٹ ہاؤس کے ظاہری تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ کو غیر معمولی رسائی حاصل ہوئی اور آپ نے صدر کے علاوہ سب سے ملاقات کی لیکن حقیقت میں انتظامیہ سفارتی غارت گری کے عمل پر کاربند ہے جو کہ بظاہر نظریاتی اور شخصی فرق کا نتیجہ ہے کیونکہ یہ معاہدہ اوباما کا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/PA Media

'اس کے علاوہ وہ اس کے بعد کی حکمت عملی کو بروئے کار نہیں لا سکتے اور وزارت خارجہ سے رابطے میں پتہ چلا ہے کہ ان کے پاس یورپ یا خطے میں اپنے شراکت دار اور اتحادیوں تک پہنچنے کا کوئی منصبوبہ بھی نہیں ہے۔'

یہ تازہ انکشاف سکاٹ لینڈ یارڈ کی میڈیا کو تادیب کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے لیک ہونے والے سفارتی میموز کی اشاعت سے باز رہنے کے لیے کہا تھا۔

انھوں نے متنبہ کیا تھا کہ جن صحافیوں نے سابق سفارت کار کے مراسلوں کی مزید تفصیلات جاری کی ہیں وہ سرکاری رازداری کے قانونی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے سامنے آنے والے میموز میں برطانوی سفارت کار نے ٹرمپ انتظامیہ کو 'بے سلیقہ اور نااہل' کہا تھا۔

جس پر امریکی صدر نے فوراً ہی غصے میں جواب دیا تھا اور سر کم کو 'انتہائی احمق شخص' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان کو مزید برداشت نہیں کر سکتے۔

حکومت نے ان رپورٹس کی اشاعت پر انکوائری شروع کر دی ہے۔

لیکن سر کم اپنے سفارتی عہدے سے یہ کہتے ہوئے دستبردار ہو گئے کہ اب ان کا کام کرتے رہنا 'ناممکن' ہے۔

ان کے استعفے کے بعد پولیس نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے اسسٹنٹ کمشنر نیل باسو کے ساتھ مل کر میموز کے لیک ہونے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے اس کے ذمہ دار کو ان کے کیفر کردار تک پہنچانا 'واضح طور پر عوامی مفاد' میں ہے۔

پریس کی آزادی کا تنازع

لیکن مدیروں اور سینیئر سیاست دانوں نے، جن میں وہ دو افراد بھی شامل ہیں جو برطانیہ کے وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل ہیں، مزید تفصیلات شائع کرنے کے خلاف سکاٹ لینڈ یارڈ کی تنبیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے کہا کہ وہ 'مکمل طور پر' لیک ہونے والے دستاویز کو شائع کرنے کا دفاع کرتے ہیں اگر وہ واقعی عوامی مفاد میں ہے۔

ان کے حریف بورس جانسن نے کہا یہ درست ہے کہ جو بھی اس لیک کے لیے ذمہ دار ہے اس کو پکڑ کر اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے لیکن پولیس کی جانب سے میڈیا کو نشانہ بنانا غلط ہے۔

اس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر باسو نے مزید کہا کہ میٹرو پولیٹن پولیس کا عوامی مفاد میں شائع کی جانے والی سٹوریز کو روکنے کا 'کوئی ارادہ نہیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'ہمیں یہ بتایا گيا ہے کہ اس مخصوص دستاویز کی اشاعت اب تک کی اطلاعات کے مطابق سرکاری راز کے قانون کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے اور جو عوامی مفاد کے تقاضوں کو پورا نہ کرے وہ مجرمانہ عمل ہو سکتا ہے۔'

میل آن سنڈے نے لیک ہونے والے میموز میں سے مزید تفصیلات کو شائع کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

اخبار کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ مفاد عامہ میں ہے اور کہا کہ سامنے آنے والی اہم معلومات صدر ٹرمپ کو ایران کے جوہری معاہدے سے باز رکھنے کی برطانوی کوششوں کو ظاہر کرتی ہیں۔

انھوں نے مزید کہا: 'اس سے بہتر مفاد عامہ میں کیا ہو سکتا ہے کہ ہم یہ جانیں کہ ہم اس نتیجے پر کیسے پہنچے جس کا نتیجہ عالمی امن کو خطرہ ہو سکتا تھا۔'

اس کے جواب میں وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے 'حساس مواد' کی اس لیک کو 'مکمل طور پر ناقابل قبول' قرار دیا اور کہا کہ لیک کرنے والے اس کے 'نتائج کو بھگتنے کے لیے تیار رہیں۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے باز رکھنے پر برطانیہ اور امریکہ کی اپروچ میں اختلاف ہے یہ بات 'کوئی خبر نہیں ہے۔'

اسی بارے میں