غیر سفید فام خواتین ارکان نے ٹرمپ کے بیان کو ’توجہ ہٹاؤ‘ قرار دے دیا

چار ڈیموکریٹ خواتین ارکان کانگریس تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty
Image caption کانگریس ارکان الیگزینڈرا اوکاسیو کورتیز، راشدہ طلیب، الحان عمر اور آیانا پریسلی نے پیر کو اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ 'اس چارے کو نہ لیں'

امریکی کانگریس کی رکن چار خواتین نے جنھیں صدر ٹرمپ نے سلسلہ وار ٹویٹ کے ذریعے ’نسل پرستانہ` فقروں کا نشانہ بنایا تھا، امریکی صدر کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کے بیان کو 'توجہ ہٹانے' والا قرار دیا ہے۔

کانگریس کی ارکان الیگزینڈرا اوکاسیو کورتیز، راشدہ طلیب، الحان عمر اور آیانا پریسلی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ 'ان ( صدر ٹرمپ) کی باتوں پر دھیان نہ دیں‘ یعنی توجہ بٹانے کے جال میں نہ پھنسیں۔

اس سے قبل پیر کو صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ یہ چاروں خواتین جو کہ امریکی شہری ہیں 'ملک چھوڑ سکتی ہیں۔'

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان کا دفاع کیا اور نسل پرستی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے چاروں خواتین نے جنھیں 'دی سکواڈ' کہا جا رہا ہے، کہا کہ توجہ پالیسی پر ہونی چاہیے نہ کہ صدر کے الفاظ پر۔

آیانا پریسلی نے کہا: 'یہ محض ایک خلل ہے اور اس کا مقصد ٹرمپ کی انتظامیہ میں اوپر سے لے کر نیچے تک پھیلی سخت بدنظمی اور بدعنوانی کے کلچر سے لوگوں کی توجہ کو ہٹانا ہے۔'

الحان عمر اور راشدہ طلیب دونوں نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے اپنے مطالبے کو دہرایا۔

امریکی کانگریس کی چاروں خواتین کا یہ ردعمل گذشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے ان پر نسل پرستانہ سلسلہ وار ٹویٹ کے ذریعے نشانہ بننے کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

'اوباما کو تکلیف پہنچانے کے لیے ایران سے معاہدہ ختم کیا'

صدر ٹرمپ دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

’ایرانی صدر کا بیان احمقانہ اور تضحیک آمیز ہے‘

امریکی صدر پر ریپ کا الزام، ٹرمپ کی تردید

اتوار کو صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر کے ذریعے چاروں خواتین سے کہا تھا کہ 'وہ وہاں واپس جائیں اور اپنے مکمل طور پر ناکام اور جرائم سے متاثرہ علاقے ٹھیک کرنے میں ان کی مدد کریں جہاں سے وہ آئی ہیں۔'

خیال رہے کہ چاروں خواتین امریکی شہری ہیں اور ان میں سے تین امریکہ میں پیدا ہوئی ہیں جبکہ ایک صومالیہ میں پیدا ہوئیں اور کم عمری میں امریکہ منتقل ہو گئيں۔

صدر کے بیان کو وسیع پیمانے پر نسل پرستانہ کہہ کر مذمت کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹ سے تعلق رکھنے والی چار خواتین کو اپنی ٹویٹ میں تنقید کا نشانہ بنایا

کانگریس کی رکن خواتین نے کیا کہا؟

خاتون رکن پریسلی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی 'ہمیں تنہا اور خاموش کرنے کی کوشش' کو مسترد کرتیں ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ وہ 'چار افراد سے زیادہ ہیں۔'

انھوں نے کہا: 'ہماری ٹیم بڑی ہے۔ ہماری ٹیم میں ہر وہ شخص شامل ہے جو مزید مساوی اور انصاف پسند دنیا بنانے کا پابند ہے۔'

چاروں خواتین نے امریکہ میں صحت کی سہولیات، اسلحہ کے زور پر کیے جانے والے تشدد اور خاص طور پر میکسیکو کی سرحد پر تارکین وطن کی حراست کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ الحان عمر نے 'بڑے پیمانے پر جلاوطنی پر مارے گیے چھاپوں' اور 'سرحد پر انسانی حقوق کی پامالی' کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 'تاریخ ہمیں دیکھ رہی ہے۔'

رکن پارلیمان الحان عمر نے کہا کہ چار سیاہ فام خواتین پر ٹرمپ کا 'واضح نسل پرستانہ حملہ سفید فام قوم پرستوں کا ایجنڈا ہے'۔ اس کے ساتھ انھوں نے کہا وہ 'ہمارے ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔'

راشدہ طلیب نے اسے 'نسل پرستانہ، غیر ملکیوں سے نفرت والی کتاب کا تسلسل' قرار دیا۔

انھوں نے کہا: 'ہم اپنی توجہ صدر ٹرمپ کو ملکی قوانین کے تحت جوابدہ کرنے پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔‘

اوکاسیا کورٹیز نے بچپن میں واشنگٹن ڈی سی جانے کی کہانی سنائی اور کہا کہ لوگ نوجوانوں کو بتائیں کہ 'صدر چاہے کچھ بھی کہیں، یہ ملک آپ کا ہے۔'

انھوں نے کہا 'ہمیں جس چیز سے پیار ہے ہم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔' اس کے ساتھ انھوں نے مزید کہا: 'کمزور ذہن اور رہنما پالیسی کو چیلنج کرنے اور ان پر مباحثہ کرنے سے بچنے کے لیے ملک کے متعلق آپ کی وفاداری کو چیلنج کرتے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صدر ٹرمپ نے کیا کہا تھا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹس میں ان خواتین کو ’واپس جانے‘ کا مشورہ دینے سے پہلے کہا تھا کہ یہ خواتین’ دراصل ان ممالک سے آئیں ہیں جن کی حکومتیں مکمل طور پر تباہی کا شکار ہیں۔‘

اس کے بعد انھوں نے کہا کہ سپیکر نینسی پیلوسی (ان خواتین کے لیے ) ’جلد از جلد مفت سفری انتظامات کر کے بہت خوش ہوں گی۔‘

صدر ٹرمپ کی یہ ٹویٹ گذشتہ ہفتے نینسی پلوسی کی ڈیموکریٹ پارٹی کی غیر سفید فام نسلوں سے تعلق رکھنے والی چار خواتین ارکانِ پارلیمان سے جھڑپ کے بعد سامنے آئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے تین سلسلہ وار ٹویٹس میں الزام لگایا کہ یہ خواتین اراکان کانگریس ’بیہودہ‘ انداز میں انھیں اور امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔

انھوں نے اپنی ٹویٹس میں لکھا ’ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی ’ترقی پسند‘ خواتین ارکان کانگریس کو دیکھنا بہت دلچسپ ہے جو دراصل خود ان ممالک سے آئی ہیں جہاں کی حکومتیں مکمل طور ہر ناکام اور تباہ حال ہیں، اور (اگر ان کے ہہاں حکومت ہے بھی) تو دنیا بھر سے سب سے زیادہ کرپٹ اور نااہل ہیں اور اب وہ یہاں باآوازِ بلند چالاکی کے ساتھ امریکی عوام کو جو کہ کرہ ارض پر سب سے عظیم اور طاقت ور قوم سے تعلق رکھتے ہیں، بتا رہی ہے کہ حکومت کیسے چلائی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ وپاں واپس کیوں نہیں چلی جاتیں جہاں سے آئی ہیں اور اپنے مکمل طور پر ناکام اور جرائم سے متاثرہ علاقے ٹھیک کرنے میں ان کی مدد کریں اور پھر واپس آ کر ہمیں بتایئں کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے۔‘

’یہ علاقے آپ کی مدد کے طلب گار ہیں اور کیا آپ وہاں جلدی نہیں جا سکتیں؟ مجھے یقین ہے کہ نینسی پلوسی آپ کے جلد مفت سفری انتظامات کر کے پر بہت خوش ہو گی۔‘

اگرچہ صدر نے اپنی ان ٹویٹس میں ان خواتین ارکانِ کانگریس کا براہِ راست نام نہیں لیا تاہم نینسی پلوسی کے حوالے سے عام خیال یہی ہے کہ وہ الیگزینڈرا کورتیز، راشدہ طلیب، پریسلی اور الحان عمر کی بات کر رہے تھے۔

گذشتہ ہفتے کے دوران سپیکر نینسی پلوسی اور الیگزینڈرا کورتیز کے درمیان سرحدی سکیورٹی بل کے معاملے پر اس وقت جھگڑا ہوا تھا جب ڈیموکریٹ رکن کانگریس نے سپیکر پر الزام لگایا تھا کہ وہ غیر سفید فام خواتین رکن پارلیمان پر تنقید کرتی ہیں۔

کیا ردعمل سامنے آیا؟

سپیکر پارلیمان نینسی پلوسی نے صدر ٹرمپ کی ٹویٹس کا حوالے دیتے ہوئے انھیں ’غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی ‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ’جب امریکی صدر چار خواتین ارکان کانگریس کو اپنے ملک واپس جانے کا کہتے ہیں تو وہ ثابت کر رہے ہوتے ہیں کہ ’امریکہ کو ایک مرتبہ پھر عظیم بنانے‘ کا ان کا منصوبہ امریکہ کو ایک مرتبہ پھر سفید فاموں کا ملک بنانے کا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہمارا تنوع ہی ہماری طاقت ہے اور ہمارا اتحاد ہی ہماری قوت ہے۔‘

ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدواروں نے بھی صدر ٹرمپ کی مذمت کی۔ امریکی سینیٹر الزبتھ وارن نے کہا کہ یہ ’قابل اعتراض فقرہ‘ ایک ’نسل پرستانہ اور غیرملکیوں سے نفرت پر مبنی حملہ‘ ہے۔

بیتو اوروک کا کہنا تھا ’ یہ نسل پرستانہ ہے۔ یہ خواتین ارکان کانگریس بھی اتنی ہی امریکی ہیں جتنے آپ۔‘ جبکہ برنی سینڈرز نے بھی صدر ٹرمپ پر نسل پرستی کا الزام عائد کیا۔

رپبلکنز کی جانب سے اس پر فوری ردعمل تو سامنے نہیں آیا تاہم رپبلکنز کی حامی کالم نگار اور جان میکین کی بیٹی میگھن میکین کا کہنا تھا کہ ’یہ نسل پرستانہ ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ صرف رکن پارلیمان الحان عمر کے متعلق بھی ہے تب بھی یہ نسل پرستانہ ہے۔ ہم لوگوں کو اس ملک میں یہ کہہ کر خوش آمدید نہیں کہتے کہ واپس جاؤ۔‘

بہت سے دیگر تجزیہ کاروں نے بھی ٹوئٹر پر صدر ٹرمپ کے اس پیغام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

وائٹ ہاؤس پر رپورٹنگ کرنے والے رپورٹر برائن جے کریم نے امریکی صدر کو ٹویٹ کرتے ہویے کہا ’ بہت زیادہ نسل پرست، صبح بخیر‘ جبکہ امریکی سیاسی مبصر جوش روگن کا کہنا تھا ’ یہ ٹرمپ کے لیے ایک نیا، افسوسناک، نسل پرستانہ اور انتہائی گرا ہوا مقام ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے اس تنقید کا تاحال جواب نہیں دیا ہے تاہم اس کے بعد سے وہ امریکی بارڈر فورس کے حراستی مراکز میں قید تارکین وطن کے متعلق ٹویٹس کرتے رہے ہیں کہ ’مجھے افسوس ہے کہ انھیں ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

اسی بارے میں