جیل کی سزا کے کلنک سے نبرد آزما مسلم خواتین

ناجیہ
Image caption ناجیہ نے گھر اس لیے چھوڑ دیا کہ ان سے معاشرے میں روا سلوک برداشت نہیں ہو رہا تھا

کہا جاتا ہے کہ مسلم خواتین کو جیل جانے کے داغ کے ساتھ جینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض کو تو ان کے اہل خانہ چھوڑ دیتے ہیں اور بعض اپنے اور اپنے بچے کا مستقبل سنوارنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔ اب ان کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ انھیں زیادہ سے زیادہ توجہ اور تعاون دیا جائے۔

ناجیہ (شناخت چھپانے کے لیے بدلا ہوا نام) نے کہا: 'ایک ایسا بھی وقت آیا جب میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ مجھے جیل واپس چلے جانا چاہیے کیونکہ مجھے باہر کی دنیا میں زندگی بہت مشکل نظر آنے لگی تھی۔'

انھوں نے تین سال کی سزا جیل میں کاٹی لی ہے لیکن وہ کہتی ہیں کہ انھیں اب بھی ایسا لگتا ہے کہ وہ سزا کاٹ رہی ہیں اور اس کی وجہ وہ شرمندگی ہے جو انھیں اپنی برادری میں اٹھانی پڑتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ شوہر کے تعاون کے بعد بھی ان کے لیے گھر سے نکلنا مشکل ہوگیا اور اس کی وجہ لوگوں کی حقارت بھری نظریں تھیں۔ ان کو فکر اور اندیشے کے دورے آنے لگے۔

وہ کہتی ہیں کہ وہ دکان تک نہ جانے کے لیے بہانے تراشتی تھیں کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ کہیں انھیں کوئی شناسا نہ مل جائے۔

انھوں نے بتایا کہ کس طرح 'یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بڑھتی گئیں اور بس بڑھتی گئیں۔'

اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ ایسے میں ان کے پاس کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کی طرف وہ مدد کے لیے دیکھتیں۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ میں ’حلالہ‘ کا آن لائن بزنس

برطانیہ میں جنسی استحصال پر خاموشی کیوں؟

برطانیہ:’مسلمانوں کو امتیازی سلوک کا سامنا‘

'آپ کس سے کہیں؟ کیا کہیں؟ آپ ان چیزوں کے بارے میں ان سے بات نہیں کر سکتے کیونکہ وہ کبھی سمجھیں گے ہی نہیں۔

'ہمارے معاشرے میں عام موضوعات پر بات کرنا بہت مشکل ہے اور یہ ایک موضوع ایسا ہے جس کے بارے میں ایک طرح سے بات کرنے کی ممانعت ہے۔'

ناجیہ اپنی کرنی پر تاسف کا اظہار کرتی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ جہاں کسی جرم کے مرتکب مرد کو ان کے معاشرے میں قبول کر لیا جاتا ہے وہیں انھیں اپنا معاشرہ چھوڑنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی۔

وہ کہتی ہیں: 'میں نے غلطی کی ہے۔ میں کسی کی ہمدردی نہیں چاہتی، لیکن مجھے یقیناً مدد کی ضرورت ہے۔'

Image caption صوفیہ بنسی کہتی ہیں کہ ان کے مرکز پر آنے والی 70 فیصد خواتین کو یا تو قبول کر لیا گیا ہے یا انھیں نوکری مل گئی ہے

محفوظ ماحول

ناجیہ اب بریڈفورڈ میں رہتی ہیں اور انھیں اس شہر میں قائم مسلم ویمن اِن پریزن پروجیکٹ کی جانب سے سپورٹ حاصل ہے۔

اس باز آباد کاری کے پروگرام میں مسلم خواتین کی مخصوص ضروریات کا خيال رکھا جاتاہے جن میں سے بعض کا اپنے اہل خانہ اور دوست کے ساتھ رابطہ نہیں ہے۔ گذشتہ ایک سال میں اس پروگرام کے تحت 55 خواتین کو تعاون دیا گیا ہے۔

اس طرح سے اس کے ذریعے ایسی خواتین کو تعاون فراہم کیا جا سکا ہے جنھیں عام خدمات حاصل کرنا اچھا نہیں لگتا۔

ناجیہ کو تعاون کے لیے بریڈفورڈ آنے کی ہمت کرنے میں ایک سال کا وقت لگ گیا۔

وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ خواتین کے تعاون والے مرکز میں جانے سے قبل کس طرح وہ کار میں بیٹھی اپنے خیالات کو یکجا کررہی تھیں اور گھڑی کی سوئی گھوم رہی تھی۔

انھوں نے کہا: 'ہر چیز میری آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی۔ میں نے سوچا کہ اب وہ مجھے جانچیں گے۔'

لیکن وہ کہتی ہیں کہ اس لمحے کے بعد سے ان کے لیے یہ ماحول محفوظ ہو گیا ہے جہاں وہ کھل کر بات کرنے کے لیے آزاد ہیں بنسبت اس بڑے معاشرے کے جہاں خواتین سے کہا جاتا ہے کہ 'اس کے بارے میں بات مت کرو، بس خاموش رہو۔'

ناجیہ کو جو مشاورت ملی ہے اس نے ان کو اپنی زندگی کی از سر نو تعمیر کرنے اور ملازمت حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

مرکز پر موجود ایک دوسری خاتون نے کہا کہ اس مرکز کی مدد کے بغیر وہ بے گھر ہوتیں۔

اس باز آبادکاری کے پروگرام کو صوفیہ بنسی چلاتی ہیں اور وہ اسے 'ون سٹاپ شاپ' کہتی ہیں جہاں رہائش اور دوسرے فوائد کی خدمات میسر ہیں۔

صوفیہ بنسی کہتی ہیں کہ یہ ایک کامیاب ماڈل ہے جہاں 70 فیصد خواتین کو قبول کیا گیا ہے یا انھیں ملازمت مل گئی ہے۔

ایک تازہ رپورٹ میں وہ کسی جرم کی مرتکب سزایافتہ مسلم خواتین کی مدد کے لیے اپیل کر رہی ہیں جس میں انھیں ان کے اہل خانہ کے ساتھ پھر سے جوڑا جا سکے اور فوجداری انصاف کے نظام کے اندر زیادہ تنوع لایاجا سکے۔

اور اس کا اظہار لیبر پارٹی کے رکن پارلیمان ڈیوڈ لیمی نے بھی کیا ہے۔ فوجداری نظام انصاف میں سیاہ فام اور اقلیتی نسلی برادریوں کے ساتھ روا سلوک کے متعلق ایک جانچ کی صدارت کرتے ہوئے ڈیوڈ لیمی نے کہا کہ جیل میں اقلیتی برادری اور بطور خاص مسلم برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین کے ساتھ علیحدہ جانچ کی جانی چاہیے۔

Image caption یاسمین کہتی ہیں کہ سزا یافتہ مسلم خواتین کے گرد حصار ٹوٹنا چاہیے

مارچ سنہ 2019 سے پریزن ریفارم ٹرسٹ کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ برطانیہ کی جیل میں 226 مسلم خواتین قیدی ہیں اور وہ جیل میں قید تمام خواتین قیدیوں (3832) کا چھ فیصد ہیں۔

یاسمین کو منشیات رکھنے کے جرم میں دو سال کی سزا ہوئی اور رہائی کے بعد انھیں اس بات پر تاسف ہے۔

اب وہ ایک ایجنسی کے ساتھ کام کرتی ہیں اور کسی جرم کے مرتکب کو آزمائشی دور میں مدد کرتی ہیں۔

وہ وضاحت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ 'برمنگھم میں بہت ساری (عام) ایجنسیاں ہیں۔ لیکن ہمارے ثقافتی فرق کی وجہ سے مسلم خواتین کی ضرورتوں کے پیش نظر کچھ ہونا چاہیے تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں اور واضح کر سکیں کہ ان پر کیا گزری۔'

ان کے خیال میں سب سے اہم چیز اس کے متعلق کھلے انداز میں بات کرنا اور اس کے متعلق ایک قسم کی عائد ممانعت کو توڑنا ہے۔

وہ بلیغ انداز میں پوچھتی ہیں کہ 'ہمیں ان کے بارے میں بات کیوں نہیں کرنی چاہیے؟

'ہم چاہتے ہیں کہ ماں باپ اس بات کو سمجھیں کہ یہ کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔'

وہ بتاتی ہیں کہ ان کے جیل جانے کو چھپانے کے لیے ان کی والدہ کس طرح لوگوں سے کہتی تھیں کہ یاسمین 'کام کرنے باہر گئی ہوئی تھی۔'

ماضی کی غلطیوں کو بھولنا

یاسمین کہتی ہیں کہ کاش انھیں بھی ناجیہ جیسی خواتین کی طرح بریڈفورڈ کی خدمات حاصل ہوتیں کیونکہ وہاں انھیں ماضی کی غلطیوں کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنے کا موقع ملا۔

ناجیہ کہتی ہیں کہ انھیں یقین نہیں آتا کہ 'کوئی ایسی بھی سروس ہو سکتی ہے جو ہمارا خیال رکھے اور ہماری ثقافت کو سمجھے۔

'کیونکہ اگر آپ ہماری ثقافت کو نہیں سمجھتے تو آپ یہ نہیں سمجھ سکتے کہ میرے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔'

اسی بارے میں