ریل گاڑی کے ڈبے جب کینوس بن جائیں

نیروبی ٹرین

کینیا کے دارالحکومت نیروبی کے بیچ و بیچ جہاں ایک طرف ریل گاڑیاں اور ٹریک ویران پڑے ہیں تو وہیں ابھرتے ہوئے فنکار اپنے فن کی نمائش سے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

مصروف سڑک سے چند میٹر کے فاصلے پر یہ سٹیشن اونچے درختوں اور بڑھی ہوئی گھاس سے ڈھکا ہوا ہے۔ گذشتہ ایک سال سے زائد عرصے تک یہ جگہ بم سکواڈ یا بی ایس کیو نامی سٹریٹ آرٹ گروہ کے پاس رہی ہے۔

گرافیٹی والی ریل گاڑیاں نیروبی ریلوے میوزیم کا حصہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے یہ ریل گاڑیاں کئی دہائیاں پہلے یہاں کھڑی کی گئیں تھیں۔

بیروبی ٹرین آرٹ

گذشتہ سال یہاں کی انتظامیہ نے ایک ریل گاڑی بی ایس کیو کے تین بانی اراکین کو کرائے پر دی تھی۔۔ جنھوں نے اس جگہ کو سٹوڈیو میں تبدیل کر لیا۔

فنکاروں کا یہ گروپ 15 افراد پر مشتمل ہے اور ان کا فن ملحقہ علاقے تک پھیل چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عالم اسلام میں فن نقاشی

سوڈان کے انقلاب کو ہوا دیتے فن پارے

شامی ثقافت بچانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی

اس جگہ کے ہر کونے میں موجود رد کردہ بورڈ، مشینری کے پرزے اور مجسمے یا تو ہٹا دیے گئے ہیں یا ان پر تصاویر بنا کر فن کی نمائش کی گئی ہے۔

ہر دن یہاں چھوٹے سے ریڈیو پر موسیقی چلتی ہے اور فنکار اپنے فن پاروں پر جھکے کام کرتے نظر آتے ہیں۔

بیروبی ٹرین آرٹ

26 سالہ برائن مواسیا ویاندے، جو فنکاری میں اپنے تخلص ایم سیل سے جانے جاتے ہیں، بی ایس کیو کے بانی اراکین میں سے ایک ہیں۔ وہ خطاطی اور فائن آرٹ کے ساتھ اپنی لگن کا استعمال کرتے ہوئے آیبسٹریکٹ پینٹنگ، جسم پر نقش کرنے یا ٹیٹو، سٹیکر اور ٹی شرٹس بناتے ہیں۔

وہ پورٹریٹ تصاویر بھی بناتے ہیں۔ ایک سپرے کین پر پورٹریٹ بناتے ہوئے وہ بی ایس کیو کے بارے میں اپنا جرات مندانہ مقصد بیان کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’یہ ابھی سے ایک مہم بن گئی ہے۔ میرے لیے آج سے پانچ یا سات سال بعد کینیا میں آرٹ خاص کر کے ثقافتی سٹریٹ آرٹ بی ایس کیو سے جانا جائے گا۔‘

بیروبی ٹرین آرٹ

برائن اور ان کے دیگر ساتھیوں کا فن کافی مقبول ہو گیا ہے۔ اشتہار دینے والے افراد، کمپنیاں اور موسیقار ان کے فن پاروں کو پس منظر میں استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ کئی گاہک بڑے بڑے میورلز (دیوار پر نقش) بنوا رہے ہیں۔

انھیں لگتا ہے کہ ان کا انداز ’زیادہ اصل اور افریقی‘ ہے جو ’نوجوان افریقیوں کے طور پر اظہار کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔

نیروبی ٹرین آرٹ

ایسے لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ آرٹ سے اچھے پیسے نہیں کمائے جاسکتے۔۔ ایم سیل ان کے لیے ایک مثال ہیں۔

وہ یونیورسٹی کے پہلے سال میں تھے جب ان کے والد انتقال کر گئے۔ تب سے وہ اپنا خرچہ خود اٹھا رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ انھوں نے سیکھا کہ اگرچہ یہ مشکل تھا لیکن وہ اپنے فن سے پیسے کما سکتے ہیں۔

لیکن انھیں ایسا نہیں لگتا کہ وہ خود سے کوئی سمجھوتہ کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’فن کے ذریعے مسائل کا حل ہمیشہ سے ضروری رہا ہے۔ چاہے کوئی بھی مسئلہ ہو، فنکار ہونے کے ناطے یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ خود کو محدود نہ کرتے ہوئے مسئلے کا حل تلاش کریں۔‘

نیروبی ٹرین آرٹ

30 سالہ اوچنگ کینیتھ اوٹینو اپنے دوسرے نام کیمسٹ سے جانے جاتے ہیں۔ یہ بھی بی ایس کیو کے بانی اراکین میں سے ایک ہیں۔

اپنے اردگرد فنکاروں کو کام کرتے دیکھتے وہ گذشتہ سال کے بارے میں بتاتے ہیں کہ یہ کیسا رہا۔

وہ کہتے ہیں ’ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا۔ کام بہت بڑھ گیا ہے۔ ہم روز حیران رہ جاتے ہیں کیونکہ یہ دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔‘

کیمسٹ بہت سی پورٹریٹ تصاویر بناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب وہ نیروبی کی گلیوں سے گزرتے ہیں تو انھیں آس پاس چلتے پھرتے لوگوں کی آنکھوں میں جھانکنا بہت لطف دیتا ہے۔

نیروبی ٹرین آرٹ

’آپ بات کیے بغیر اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں اور یہی چیز مجھے پسند ہے۔ آپ انھیں غلط بھی سمجھ سکتے ہیں۔ کئی مرتبہ آپ لوگوں کی خاص باتیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔۔ اور یہی وہ احساس ہے جسے وہ اپنے فن پاروں میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

بی ایس کیو میں دوسرے ممبران کی نسبت کیمسٹ نے باقائدہ کسی آرٹ سکول میں تعلیم حاصل نہیں کی کیونکہ ان کے خاندان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔

لیکن انھیں کینیا کے جانے مانے فنکار پیٹرک موکابی نے تربیت دی جنھوں نے شاید پوری ایک نسل کو متاثر کیا ہے۔

بدلے میں اب کیمسٹ ابھرتے ہوئے فنکاروں کو تربیت دے رہے ہیں۔

22 سالہ ڈیوڈ موچیری، جو اس شعبے میں ویز کے نام سے جانے جاتے ہیں، ایک ابھرتے ہوئے فنکار ہیں۔ انھوں نے اپنا کام بی ایس کیو کو بھیجا جس کے بعد انھیں انٹرن یا کام سیکھنے والے فنکار کے طور پر رکھ لیا گیا۔

نیروبی ٹرین آرٹ

وہ کیوبزم سے متاثرہ شیر نما تصویر پر کام کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’میں کوشش کر رہا ہوں کہ ہر روز کچھ نیا کام کرکے خود کا امتحان لوں‘

’میں ایک نیا انداز اپنانا چاہتا ہوں جو ان فنکاروں سے متاثر ہوگا جن کا کام میں یہاں دیکھ رہا ہوں۔‘

25 سالہ الیکس موانگی اپنے دوسرے نام لوائنز آرٹ سے جانے جاتے ہیں۔ وہ اپنے تازہ کام کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں: ’میں نے نیروبی میوزیم میں ایک بندر دیکھا اور سوچا ’کیسا لگے اگر ایک بندر فوجی ہو‘۔ اس لیے میں نے اس بندر کو ہیلمیٹ اور کپڑے پہنا دیے۔‘

نیروبی ٹرین آرٹ

لوائنز آرٹ کہتے ہیں کہ بی ایس کیو میں تمام فنکار ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ’ہم ایک دوسرے کی رہنمائی کرتے ہیں، خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں اور مل جل کر کام کرتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے سے بات چیت کرنا اور خیالات شئیر کرنا اچھا لگتا ہے۔ اس طرح ہم ایک دوسرے سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔‘

لوائنز کے بالکل پیچھے 23 سالہ ابروہ ڈونگو اپنے فن پارے پر کام کر رہے ہیں۔

نیروبی ٹرین آرٹ

جس درد بھری تصویر پر وہ کام کر رہے ہیں وہ ان کے خوشگوار انداز سے بالکل منختلف ہے۔

اس پورٹریٹ ی طرف اشارہ کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’لوگ سمجھ نہیں سکتے کہ اپنا خرچہ اٹھانے کے لیے کچھ لوگوں کو کتنی محنت کرنی پڑتی ہے۔‘

’یہ اسے سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

لیکن اپنے کام کے معاملے میں وہ پرامید ہیں۔

’میں یہی سب جانتا ہوں۔ یہ کیرئر میرے لیے زندگی گزارنے کا طریقہ ہے اور میں روز یہ کام کرتا ہوں۔ بس ہم کسی طریقے سے یہ سمجھنا چاہ رہے ہیں کہ اس سے پیسے کس طرح کمائے جا سکتے ہیں۔‘

24 سالہ ایلن کیوکو تھنک کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ ایک میز پر لگے اپنے کینوس کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

نیروبی ٹرین آرٹ

’انھوں نے یونیورسٹی میں گرافک ڈیزائنگ پڑھنا شروع کیا لیکن پھر یونیورسٹی چھوڑ دی تاکہ یہ فن سیکھ سکیں۔‘

’مجھے سٹریٹ آرٹ پسند ہے۔ اور میں نے سوچا کہ ان لوگوں کے ساتھ رہنے سے میں یہ کام سیکھ پاؤں گا۔‘

تھنک کے مطابق سٹریٹ آرٹ ایک وسیع شعبہ ہے۔ ’کینوس، کاغذ یا کمپیوٹر پر آپ کچھ بھی بنا کر اسے سڑکوں پر لے جا سکتے ہیں۔‘

نیروبی ٹرین آرٹ

زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کی چاہ بی ایس کیو کے کام کو متاثر کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا گروہ ہے جو اکیلے کام کرنے کے بجائے لوگوں کو اپنے کام میں شامل کرنا چاہتا ہے۔

بی ایس کیو کے بانی ایم سیل کہتے ہیں ’میں ابھرتے ہوئے نوجوانوں کو موقع دینا چاہتا ہوں۔‘

’ہم ایک ایسی جگہ بنانے جا رہے ہیں جہاں آکر بچے کہہ سکیں ’میں بھی بی ایس کیو کے فنکاروں جیسا بننا چاہتا ہوں۔‘‘

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں