بدلتا سعودی عرب: عالمی سٹارز کی نئی منزل

BTS تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اگرچہ سعودی عرب روایتی طور پر بین الاقوامی موسیقی کے دوروں کے لیے رکنے کی کوئی اہم جگہ نہیں ہے لیکن پھر بھی بڑے نامور موسیقار ادھر رکتے رہتے ہیں۔

گذشتہ جنوری میں ماریہ کیری وہاں رکنے والی مشہور گلوکارہ تھیں۔

اس کے بعد نکی مناج نے جدہ میں کنسرٹ کرنے کی حامی بھری لیکن بعد میں عورتوں اور ایل جی بی ٹی برادری کے حقوق کے حمایت میں وہاں جانے کا ارادہ بدل لیا۔

یہ بھی پڑھیئے

سعودی عرب میں پہلی بار 25 سرکاری سکولوں کی نجکاری

سعودی عرب کی نئی ویزہ پالیسی کا اعلان

’سعودی شہزادے صرف جھوٹی اور کڑوی باتیں کرتے ہیں‘

سعودی خواتین کو طلاق کا فیصلہ موبائل پر بھیجا جائے گا

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ملک میں اگلے برس سینیما کھولنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا

اور اب جنوبی کوریا کے لڑکوں کے ایک بینڈ نے کہا ہے کہ وہ اکتوبر میں ریاض میں پرفارم کریں گے۔

سو سعودی عرب کیوں چاہتا ہے کہ ہائی پروفائل سٹار وہاں آ کر پرفارم کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کہتے ہیں کہ وہ ملک میں اصلاحات لانا چاہتے ہیں

اقتصادیات

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کہتے ہیں کہ وہ جدید سعودی عرب کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے اپنے وژن 2030 کے منصوبے کے مطابق ملک میں معاشرتی اور اقتصادی اصلاحات لانا چاہتے ہیں۔

سعودی عرب کا آمدنی کے لیے کافی عرصے سے تیل پر انحصار ہے، لیکن تیل کی قیمتوں میں عدمِ استحکام سے پتہ چلتا ہے کہ اس پر زیادہ دیر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس لیے اقتصادی اصلاحات اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری لانے کی ضرورت کے پیشِ نظر سعودی عرب دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کاروبار کے لیے تیار ہے۔

اور بی ٹی ایس جیسے فنکاروں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا بھی ان میں سے ایک طریقہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریاض میں کھلنے والا ایک نیا سنیما

معاشرتی اصلاحات

ایک شعبہ جس میں سعودی عرب چاہتا ہے کہ ترقی ہو وہ اینٹرٹینمنٹ کی صنعت ہے۔

بہت سے سعودی باشندے فلمیں اور کانسرٹ دیکھنے کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ وہ ملک میں ہی پیسہ خرچ کریں نئے سنیما گھر اور شاپنگ سینٹر بنائے گئے ہیں جہاں مقبول فنکاروں کو مدعو کیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب میں رہائش پذیر 24 سالہ یاسمین نے ریڈیو 1 نیوز بیٹ کو بتایا کہ ’وہ سعودی عرب اور باقی دنیا کے درمیان بین الثقافتی رابطہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’سعودی عرب میں پوری دنیا سے آ کر لوگ بسے ہوئے ہیں اس لیے ایسا کر کے وہ ہر کسی کی پسند کا خیال رکھ رہے ہیں۔‘

ان معاشرتی اصلاحات میں عورتوں کے گاڑی چلانے اور ان فٹبال میچ دیکھنے پر پابندی ختم کرنا بھی شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ماریہ کیرے نے جنوری میں سعودی عرب میں پرفارم کیا تھا

ابھی تک وہاں کس کس نے پرفارم کیا ہے؟

دسمبر 2017 میں نیلی نے جدہ میں پرفارم کیا تھا۔ تاہم اس کنسرٹ میں صرف مردوں کو جانے کی اجازت تھی۔

فارمولا ای کنسرٹ میں جیسن ڈیرولو، اینکریک ایگلیسیاس، ڈیوڈ گیوٹا، ون ریپیبلک اور دی بلیک آئیڈ پیز نے تین دن تک پرفارم کیا تھا۔

جنوری میں ماریہ کیری نے پرفارم کیا تھا اور ان کے ساتھ شان پال اور ڈی جے ٹییسٹو بھی تھے۔

مزید پڑھیئے

سعودی عرب میں تبدیلی آ گئی ہے، پہلی بار خاتون نیوز اینکر

سعودی عرب میں گلوکار کو گلے لگانے پر خاتون گرفتار

سعودی عرب: سینیما پر عائد پابندی ختم کرنے کا اعلان

اگرچہ ان کے سعودی عرب میں پرفارم کرنے پر بہت تنقید ہوئی لیکن انھوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ سعودی عرب میں عورتوں اور مردوں کے درمیان صنفی برابری کے کام کرنے کا یہ ایک سنہری موقع تھا۔

ان کے پبلک ریلیشنز کے نمائندے کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب میں پرفارم کرنے والی پہلی بین الاقوامی خاتون آرٹسٹ کے ماریا کیری اس ایونٹ کی اہمیت تسلیم کرتی ہیں اور وہ سب کے لیے مساوات کی بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتی رہیں گی۔

اور یہ صرف گلوکاروں تک ہی محدود نہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ای (ورلڈ ریسلنگ اینٹرٹینمنٹ) نے بھی اپنا کراؤن جیول ایونٹ سعودی عرب میں رکھا، اگرچہ اس کی خواتین پہلوانوں کو وہاں پرفارم کرنے کی اجازت نہیں ملی۔

تو پھر حقیقت کیا ہے؟

یاسمین کہتی ہیں کہ ’اب اتنی سختی نہیں جتنے پہلے ہوتی تھی۔‘

وہ کہتی ہیں کہ کافی کی دکانوں اور ریستورانوں میں سب ایک ہی حصے میں بیٹھتے ہیں اور اب اس طرح کی تفریق نہیں ہوتی۔

لیکن ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیمیں کہتی ہیں کہ اس بارے میں شک ہے کہ اصل میں کتنی تبدیلی آئی ہے۔

تنظیم کے مطابق اگرچہ عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی گئی ہے لیکن انھیں پھر بھی بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ سعودی حکام نے ڈرائیونگ پر پابندی ختم کرنے سے پہلے کئی اہم انسانی حقوق کی کارکنوں کو یہ الزام لگا کر گرفتار کر لیا تھا کہ ان کے غیر ملکی تنظیموں سے روابط ہیں۔

خواتین کو ابھی بھی بیرونِ ملک جانے، پاسپورٹ اور ہیلتھ کیئر کے حصول اور کام کرنے کے لیے بھی کسی مرد سرپرست کی ضرورت ہوتی ہے چاہے وہ شوہر، والد، بھائی یا بیٹا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب میں اب عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت ہے

سعودی عرب کے ایل جی بی ٹی حقوق کے ریکارڈ پر بھی اسے تنقید کا سامنا ہے۔

اصل میں سعودی عرب میں جنسی رجحان یا صنفی شناخت کے متعلق کوئی تحریری قوانین نہیں ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ’جج شادی سے باہر سیکس، گے سیکس اور دوسرے غیر اخلاقی عوامل میں مبینہ طور پر ملوث پائے گئے افراد کو اسلامی قوانین کے تحت سزا دیتے ہیں۔‘

اسی بارے میں