فلسطینی گھروں کو مسمار کرنے کی اسرائیلی کارروائی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گھروں کو اسرائیل کی سپریم کورٹ کے حکم مسمار کیا جا رہا ہے

سینکڑوں اسرائیلی فوجیوں نے پیر کو مقبوضہ فلسطین کے گاؤں صور باھر میں فلسطین شہریوں کے گھروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا ہے۔

فلسطینی شہریوں کی طرف سے شدید احتجاج اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے اس اقدام کی مذمت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں اور بارودی مواد کی مدد سے سولہ رہائشی عمارتوں کو پیر کو گرانا شروع کیا جن میں سو سے زیادہ اپارٹمنٹس تھے۔

وادی الحمس کے رہائشیوں نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ یہ کارروائی نصف شب کے بعد ہی شروع کر دی گئی تھی جب سینکڑوں اسرائیلی فوجیوں نے بلڈوزروں کے ساتھ صور باھر کو گھیرے میں لے لیا تھا۔

فلسطینیوں کی تنظیم پی ایل او نے اپنی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ان گھروں میں مقیم لوگوں کو جن میں بڑی تعداد میں معصوم بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں، نصف شب کو بیدار کر کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا۔

اسرائیلی فوج ان گھروں کو جو اسرائیل کی طرف سے کھڑی کی گئی دیوار کے قریب واقع ہیں خطرہ تصور کرتی ہے۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ اسرائیلی فوج کے اس موقف کو تسلیم کرتے ہوئے ان رہائشی عمارتوں کو گرانے کے لیے پیر تک کی مہلت دی تھی۔ فلسطین شہریوں اور اسرائیل فوج کے درمیان اس معاملے پر سات سال سے مقدمہ بازی جاری تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیلی فوجیوں نے کئی عمارتوں کو گھیرے میں لے لیا

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے ایک ایسی مثال قائم ہو گی جس کو بنیاد بنا کر ان تمام گھروں اور عمارتوں کو گرایا جا سکتا ہے جو سینکڑوں کلو میٹر طویل دیوار کے قریب واقع ہیں جو مقبوضہ غرب اردن کے گرد بنائی گئی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق دس سال قبل فلسطینی اتھارٹی نے ان عمارتوں کی تعمیر کے اجازت نامے جاری کیے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں