برطانوی تیل بردار جہاز ایران کی تحویل میں، برطانیہ کابینہ کی کوبرا کمیٹی کا ہنگامی اجلاس

Stena Impero
Image caption آبنائے ہرمز میں کارروائی کی ویڈیو

برطانوی ایوانِ وزیر اعظم ٹین ڈاوئنگ سٹریٹ نے ایک مرتبہ پھر ایران سے مطالیہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزشتہ جمعے کو تحویل میں لیے گئے برطانوی تیل بردار جہاز کو فوری طور پر چھوڑ دیا جائے۔

برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے پیر کو کابینہ کی سیکورٹی کمیٹی (کوبرا) کے ہنگامی اجلاس کی صدرات کی تاکہ برطانوی تیل بردار جہاز کو ایران کی طرف سے تحویل میں لیے جانے اور خطے میں سیکیورٹی کی تازہ ترین صورت حال پر غور کیا جا سکے۔

وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے برطانوی تیل بردار جہاز کو پکڑنے کو ایک انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابل قبول فعل قرار دیا۔

برطانوی وزیر خارجہ متوقع طور پر اس بارے میں لیے جانے والے ممکنہ اقدامات سے ارکان پارلیمان کو آگاہ کریں گے۔

یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ وزراء ایران کے اثاثے منجمد کرنے کے بارے میں بھی سوچ رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کی کابینہ کے ارکان نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ ملک کی اندرونی سیاست کی وجہ سے حکومت ایران سے تنازع سے غفلت برت رہی ہے۔

برطانوی تیل بردار جہاز سٹینا ایمپرو کے پکڑے جانے سے برطانیہ اور ایران میں پائی جانے کشیدگی میں مزید شدت آئی ہے اور ایران کی یہ کارروائی چند ہفتے قبل برطانیہ کی طرف سے ایران کے ایک تیل بردار جہاز کو پکڑے جانے کے رد عمل میں سامنے آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاسداران انقلاب کی گن بوٹ آبنائے ہرمز میں گشت کرتی ہیں

برطانوی تیل بردار جہاز سٹینا ایمپرو کو ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے گزشتہ جمعہ کو جہاز رانی کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔

ایرانی پاسدارن انقلاب کے اس برطانوی جہاز کو تحویل میں لیے جانے سے چند لمحے قبل ایرانی فوج اور جہاز کے عملے کے درمیان ہونے والی بات چیت کی آڈیو ریکارڈنگ بھی سامنے آ گئی ہے۔

ایرانی حکام واضح طور پر جہاز کے عملے کو یہ کہتے ہوئے سنے جا سکتے ہیں کہ وہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جہاز کی تلاشی لینا چاہتے ہیں۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری ہونے والی ایک خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ برطانوی تیل بردار جہاز کو مچھلیاں پکڑنے والے ایک چھوٹی کشتی سے ٹکر کے بعد تحویل میں لیا گیا۔ ایرانی حکام کے مطابق سٹینا ایمپرو کے عملے نے اس چھوٹی سی کشتی کی طرف سے کی جانے والی کالز کا جواب بھی نہیں دیا۔

برطانوی وزیر خارجہ جیرمی ہنٹ نے کہا ہے کہ برطانوی جہاز کو غیر قانونی طور پر عمان کی سمندری حدود سے پکڑ کر زبردستی ایرانی بندرگاہ بندر عباس لے جایا گیا۔

خیال رہے کہ چند ہفتے قبل برطانوی شاہی بحریہ نے ایران کے تیل بردار جہاز گریس ون کو جبل الطارق کے ساحل کے قریب سے مبینہ طور پر یورپی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شام کو تیل فراہم کرنے کے شبہے میں اپنی تحویل میں لیے لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Stena Bulk

برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ گریس ون کو قانون کے تحت تحویل میں لیا گیا جبکہ ایران نے اسے بحری قزاقی قرار دیا تھا اور یہ دھمکی دی تھی کہ جواباً وہ بھی کسی برطانوی جہاز کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے۔

برطانوی شاہی بحریہ اور کیا کر سکتی ہے؟

برطانیہ کے سابق وزیر ائین ڈنکن سمتھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکومت کے رد عمل پر چند جائز سوال اٹھتے ہیں اور اس جہاز کے پکڑے جانے کے وقت برطانیہ کی بحریہ کا جہاز ایچ ایم ایس مونٹ روز وہاں سے کافی دور تھا۔

انھوں نے کہا کہ دو ہفتے قبل ایرانی تیل بردار جہاز کے پکڑنے کی کارروائی کے بعد اس بات کا ادارک ہونا چاہیے تھا کہ خلیج میں برطانوی جہازوں کو حفاظت کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

حکمران جماعت ٹوری پارٹی کے رکن کا کہنا تھا کہ جہاں تک انھیں علم ہے امریکہ نے برطانیہ کو اس بارے میں مدد فراہم کرنے کی پیش کش کی تھی لیکن ان کی پیش کش کو قبول نہیں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ یہ ایک بڑی ناکامی ہے جس کا حکومت کو جلد از جلد جواب دینا ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Erwin Willemse
Image caption جہاز کے عملے میں کوئی برطانی شہری شامل نہیں ہے

برطانیہ کے سابق ریئر ایڈمرل ایلکس برٹن نے کہا کہ برطانوی بحری بیڑے اتنا بڑا نہیں جس کی وجہ اس کی صلاحیت بھی محدود ہے۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو فور کے ایک پروگرام میں کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ برطانوی بحریہ میں کمی کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 2005 میں برطانوی بحریہ کے پاس 31 فریگٹیس اور تباہ کن جہازتھے جن کو کم کر کے 19 کر دیا گیا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں برطانوی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی بحری صلاحیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ایک کثیر الملکی سمندری فورس بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

برطانوی وزیر دفاع ٹوبیس ایل وڈ کا کہنا ہے کہ ہر سمندری جہاز کی نگہبانی کرنا ناممکن ہے۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال بین الاقوامی تعاون کی متقاضی ہے۔ انھوں نے تجویز دی کہ برطانوی بحریہ میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے اگر برطانیہ بین الاقوامی سطح پر ایک موثر قوت کے طور پر کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

تیل بردار جہاز اور اس کے عملے کے ساتھ کیا ہوا؟

سٹینا ایمپرو اب بھی جنوبی ایران کی بندر گاہ بندر عباس پر کھڑا ہے۔

اس تیل بردار جہاز کے مالک سٹینا بلک جن کا تعلق سویڈن سے ہے ان کا کہنا ہے کہ وہ جہاز کے 23 رکنی عملے سے ملنے کےلیے باضابط کئی درخواستیں کر چکے ہیں۔ عملے کے ارکان کا تعلق انڈیا، روس، لیٹویا اور فلپائن سے ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق عملے کے تمام ارکان کو پوچھ گچھ کے لیے جہاز سے اتار لیا گیا ہے۔

عملے میں شامل ایک شخص کے رشتہ دار نے، جن کا تعلق انڈیا سے ہے، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ وہ سب شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور جب سے جہاز کو پکڑا گیا ہے انھیں ان کی طرف سے کوئی پیغام موصول نہیں ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سویڈن کی کمپنی ان سے مستقل رابطے میں ہے اور انھیں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اس جہاز کے عملے کا کوئی رکن برطانوی شہری نہیں ہے لیکن جہاز برطانوی جھنڈے کے ساتھ سفر کرتا ہے۔

جہاز رانی کے ایک رسالے سے وابستہ رچرڈ میڈ کے مطابق تاریخی طور پر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس جہاز کی حفاظت کی ذمہ داری برطانیہ کی حکومت کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں