عرب دنیا میں اب سیکس کے بارے میں بات کرنا ممنوع نہیں

عرب معاشرہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عرب معاشرے میں ایک طویل عرصے سے سیکس پر بات کرنے کو پریشان کن تصور کیا جاتا ہے

عرب دنیا میں کچھ خواتین اور مرد بیڈروم کے اندر اور باہر کے اصولوں کو از سر نو لکھ رہے ہیں۔ اس موضوع پر ایک شارٹ فلم بنانے کے لیے میں نے گذشتہ ایک سال یہاں گزارا اور عرب دنیا کو جاننے کی کوشش کی۔

اگر دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں سیکس کے حوالے سے منفی حالات کا جائزہ لینا کافی آسان ہے۔

اس میں کئی موضوع زیرِ بحث ہیں جیسے خاندان میں عورت کے کنوارے پن سے لگاؤ، جنسی آزادی یا ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے خلاف کارروائی اور پورن ویب سائٹس پر بندش کے نام پر میڈیا کی آزادی پر قدغن، وغیرہ۔

ایسے سخت رویے رائے عامہ کے پولز میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر حال ہی میں ایسا ہی ایک سروے بی بی سی نیوز نے خطے کے دس عرب ممالک میں کیا جس میں فلسطینی علاقے بھی شامل تھے۔

یہ سروے عرب بیرومیٹر نامی ریسرچ نیٹ ورک نے کیا جس میں کافی حیرت انگیز باتیں سامنے آئیں۔

مثال کے طور پر جواب دینے والے زیادہ تر لوگوں نے کہا کہ وہ اپنے ملک میں خاتون حکمران کو تسلیم کریں گے۔ لیکن جنس اور سیکس سے متعلق اکثر پہلوؤں پر لوگ اب بھی قدامت پرست اور تنگ نظر سوچ کےحامل نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا عرب دنیا میں مذہب سے دوری بڑھ رہی ہے؟

مور کبھی سیکس نہیں کرتا: انڈین جج

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ خاندانی معاملات پر آخری فیصلہ مرد کا ہونا چاہیے۔ سات میں سے چھ ممالک میں جہاں یہ سوال پوچھا گیا، لوگوں نے ’غیرت کے نام پر قتل‘ کو ہم جنس پرستی سے زیادہ قابل قبول قرار دیا ہے۔

شناخت کی کھوج

لیکن یہ مکمل تصویر نہیں ہے۔ اگر آپ ذرا غور سے دیکھیں تو آہستہ آہستہ کچھ لوگ رواداری اور آزاد سوچ اپنا رہے ہیں اور ان مثبت پہلوؤں کی سبز شاخیں دراڑوں سے نکلتی نظر آ رہی ہیں۔

صفا تمیش کی ہی مثال لے لیں جو منتدا الجنسنیہ نامی ایک غیر سرکاری تنظیم کی شریک بانی ہیں۔

منتدا کی تنظیم فلسطینی معاشرے میں جنسی آزادی کے فروغ کے لیے سرگرم ہے۔ یہاں لوگوں کو سیکس کی تعلیم دینے کے علاوہ مباشرت کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو صرف بچے پیدا کرنے تک محدود نہیں بلکہ اس میں پیار اور اُنسیت کی پیچیدگیوں پر بھی بات ہوتی ہے۔

منتدا کی شروعات اسرائیل میں رہنے والے عرب نژاد سے ہوئی اور اب اس کی شاخ مقبوضہ غرب اردن میں بھی ہے۔

Image caption مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک پناہ گزین کیمپ میں خواتین سیکس کی تعلیم پر ورکشاپ میں شریک ہیں

رسمی سیکس کی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے خطے میں اکثر لوگ سیکس کے لیے گلی محلے میں مستعمل عربی الفاظ استعمال کرتے ہیں جو خصوصاً خواتین کے لیے زبان کی حد تک شرم و ندامت کا باعث ہے۔

اس کے نتیجے میں علاقائی سطح پر کئی لوگ سیکس کے بارے میں بات کرنے کے لیے انگریزی اور فرانسیسی زبان استعمال کرنے میں زیادہ آسانی محسوس کرتے ہیں۔

منتدا کا کلیدی کام فلسطینیوں کو عربی زبان میں اپنے جسم اور جنسی ترجیحات کو بیان کرنے میں آسانی محسوس کرانا ہے۔

صفا اور ان کے دائرے کے لوگوں کے لیے اس قسم کے مسائل کے بارے میں اپنی مادری زبان میں بات کرنے کے اثرات ان تک ہی محدود نہیں بلکہ ان سے آگے نکل جاتے ہیں۔

منتدا کے کام کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کو عربی زبان میں اپنے جسم اور جنسی شناخت کے بارے میں بات کرنے میں مدد دینا ہے۔

صفا اور اس کے احباب میں اپنی مادری زبان میں ان امور پر بات کرنے کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے جو کہ صرف ذاتی نوعیت کے نہیں ہوتے۔

اس کے متبادل عمومی طور پر بولے جانے والی زبان عبرانی ہے جو مقبوضہ فلسطین میں اپنی ذات کے اظہار کے لیے بولی جاتی ہے۔

Image caption سندرین عطااللہ جیسے ماہرینِ جنسیات مانتے ہیں کہ عرب دنیا کو جنسی معاملات پر کھل کر بات کرنی چاہیے

خود اظہاری

شناخت اور زبان سے متعلق یہ سوالات سرحد کے اس پار اردن میں خالد ہادی عبدل کے بھی ہیں۔

وہ ہم جنس پرست میڈیا شخصیت ہیں اور وہ ’مائ کلی‘ کے بانی ہیں جو کہ ایک آن لائن میگزین ہے۔ یہ میگزین صنف ک تبدیلی کی سرجری اور غیرت سے متعلق تشدد کے موضوعات پر اشاعت کرتا ہے۔

شناخت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صفا اور خالد ایک صفحے پر ہیں۔ خالد نے ’مائی کلی‘ کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل شروع کیا تھا جس میں وہ اپنی ذات کو اپنے مجموعی کلچر میں دکھانا چاہتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’عرب خطے میں ہم سب اپنی ذات کے ساتھ اپنی کمیونٹی کا حوالہ دیتے ہیں، اس لیے میرے لیے اتنی اونچی آوازوں میں اپنی آواز بلند کرنا مشکل تھا۔‘

ان کا کہنا ہے ’یہ اس خطے کے نوجوانوں کے لیے درست ہے کیونکہ ان کے لیے نوکری تلاش کرنا والدین سے الگ ہو کر رہنا یا پھر اپنے جنسی حقوق تو چھوڑیں، شخصی آزادی کے لیے بھی ریاست پر منحصر کرنا بہت مشکل ہے۔‘

لبنان کے مشہور ترین سیکس تھراپسٹس میں سے ایک سندرین عطااللہ کا دن بھر کا کام سیکس کے حوالے سے کھل کر بات چیت کرنا ہے۔

بیروت میں اپنے کلینک کے علاوہ سندرین قاہرہ کے ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم الحب الثقافہ (ثقافت ہی محبت ہے) کے سٹارز میں سے ایک ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا دنیا میں سیکس ہر جگہ ایک جیسا ہے؟

کیا سیکس کی لت کوئی بیماری ہے؟

سندرین اور ان کے ساتھی ایک طویل عرصے سے سیکس سے متعلق بات کر رہے ہیں اور ایک قدیم روایت کی پیروی کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’ہماری تاریخ کے زیادہ تر ادوار میں عرب ثقافتیں آج کی جنسی پابندیوں اور عدم برداشت کے لیے نہیں بلکہ اس کے الٹ کے لیے مشہور تھیں۔ مثال کے طور پر دسویں اور گیارہویں صدی کے درمیان بغداد میں لکھی گئی ’انسائیکلوپیڈیا آف پلیژر‘ یا ’لذت کی انسائیکلوپیڈیا‘ کو دیکھیں جس کے 43 ابواب میں تقریباً ہر طرح کی جنسی روایت اور ترجیحات کا احاطہ کیا گیا ہے۔‘

’اس انسائیکلوپیڈیا کا پیغام واضح ہے اور وہ یہ کہ سیکس انسانیت کے لیے خدا کا تحفہ ہے اور ہمیں اس کا مزہ لینا چاہیے۔‘

آن لائن ردِ عمل

یہ عربی تحریریں اب خطے کے زیادہ تر حصوں میں بھلا دی گئی ہیں اور ان کے ساتھ سیکس کے بارے میں بات کرنے کی آزادی بھی ختم ہوچکی ہے۔ نہ صرف اس کے مسائل کے بارے میں بلکہ اس کی لذتوں کے بارے میں اور نہ صرف مردوں کے لیے بلکہ عورتوں کے لیے بھی اس پر بات کرنا معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔

صفا، خالد اور سیندرین بنیاد پرست نہیں بلکہ اصلاح پسند ہیں۔ جہاں وہ اس ’جنسی سٹیٹس کو‘ پر سوالات اٹھا رہے ہیں، وہیں وہ ثقافت اور روایات کے ساتھ کام کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے چھوٹے اور محفوظ دائرہ کار سے باہر نکلیں۔

یقیناً بی بی سی عربی کے یوٹیوب چینل پر ان کے کاموں سے متعلق دکھائی جانے والی فلموں پر شدید منفی آن لائن ردِعمل اور ان خواتین اور مردوں کو ذاتی طور پر ملنے والی دھمکیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ اب بھی اس طرح کی ممنوعہ چیزوں سے نمٹنا کتنا مشکل ہوسکتا ہے۔

ایک ایسے خطے میں جہاں تنازع اور کرپشن عروج پر ہیں اور کروڑوں افراد یا تو بے روزگار ہیں یا پھر دربدر ہیں وہاں جنسی زندگیوں کو زیادہ بھرپور بنانا شاید کسی کے لیے اتنا بڑا مسئلہ نہ ہو۔

پر اگر ہم آنے والے دنوں میں ایک خوش اور صحت مند معاشرہ دیکھنا چاہتے ہیں تو اس بارے میں کھل کر بات کرنا بہت اہم ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں