کیا بورس جانسن برطانیہ کے ٹوٹنے کا موجب بن سکتے ہیں؟

بورس جانسن اور روتھ ڈیویڈسن تصویر کے کاپی رائٹ WPA Pool
Image caption بورس جانسن اور رتھ ڈیویڈسن کے درمیان ماضی میں شدید اختلاف رہے ہیں

سکاٹ لینڈ میں روتھ ڈیوڈسن کی توانا قیادت میں سکاٹش کنزرویٹیو پارٹی کا حالیہ برسوں میں احیا ہوا ہے اور پارٹی میں نئی جان پڑی ہے۔

پارٹی کے مخالفین اس بات کے قائل ہیں کہ بورس جانسن کے وزیراعظم بننے سے یہ سارا عمل رک جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ اس سے سکاٹ لینڈ اور برطانیہ کا اتحاد بھی خطرے میں پڑ جائے اور بات علیحدگی تک پہنچ جائے۔

یہ بات سچ ہے کہ جانسن صاف گو، سادہ لوح، اور منکسرالمزاج، برطانیہ کے یورپی یونین میں رہنے کے حامی روتھ ڈیوڈ سن سے اس سے زیادہ مختلف ہو سکتے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے دوست نہیں ہیں اور ماضی میں ایک دوسرے کی شدید مخالفت کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اور ان کے مسلمان آباؤ اجداد

’برطانوی قوم میں نیا جذبہ بیدار کریں گے‘

بریگزٹ یا نیا وزیراعظم؟

بریگزٹ: کیا برطانیہ تاریخی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے؟

کچھ مبصرین یہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ بورس جانسن کو سکاٹ لینڈ کے رائے دہندگان انگلش اشرافیہ اور حکمران طبقے کی علامت کے طور پر دیکھیں گے جنھیں سکاٹ لینڈ کے لوگ پسند نہیں کرتے لیکن شاید پالیسی شخصیت سے زیادہ اہم ثابت ہو۔

بورس جانسن شاید اختیارات کی تقسیم سے پوری طرح آگاہ نہیں تھے جب انھوں نے ٹیکسوں کی وصولیوں میں ایسی تبدیلیاں تجویز کیں اور انھیں یہ خیال نہیں آیا کہ آمدن پر ٹیکس کا تعین سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ کیا کرتی ہے۔

لیکن اس کے بعد سے انھوں نے سکاٹ لینڈ کی ٹوری پارٹی کے ارکان سے یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ ایوان وزیر اعظم ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں سکاٹ لینڈ کے معاملات دیکھنے کے لیے ایک خصوصی ’یونین یونٹ‘ تشکیل دیں گے۔ اگر انھیں معلوم ہو کہ انھیں کس کس بات کا علم نہیں ہے تو شاید وہ اس طرح کی حماقتوں سے بچ سکیں۔

کئی لحاظ سے شاید بریگزٹ بورس جانسن کے زوال کی وجہ نہ بنے۔

سکاٹ لینڈ جو یورپی یونین میں رہنے کا حامی ہے، ان کا مسئلہ یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ میں بغیر معاہدے کے بریگزٹ کا خیال اتنا پسند نہیں کیا جاتا جتنا باقی برطانیہ میں کیا جاتا ہے۔ جتنا مشکل یا سخت بریگزٹ بورس جانسن لے پائیں گے اتنا ہی سکاٹ لینڈ کی سکاٹش پارٹی کو نقصان ہو گا۔

بورس جانسن جو بدھ کو باقاعدہ وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیں گے اگر ایسی بریگزٹ پالیسی اپناتے ہیں جو کہ سکاٹ لینڈ میں پسند نہیں کی جاتی تو یہ ممکن ہے کہ سکاٹ لینڈ کے لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ اب مزید برطانیہ کا حصہ رہنا ان کے بہترین مفاد میں ہے یا نہیں۔

کچھ حالیہ عوامی سروے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپی یونین سے بغیر کسی معاہدے کے علیحدگی کی صورت میں سکاٹ لینڈ میں 60 فیصد رائے دہندگان برطانیہ سے آزادی کے حق میں رائے دیں گے۔

برطانیہ سے علیحدہ ہونے کی خواہش کی وجہ یہ نہیں ہے کہ بریگزٹ کا معاہدہ کیسا ہو گا یا کسی خاص سیاستدان کی شخصیت یا کردار کیسا ہے بلکہ اس کی بنیاد یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ میں لوگوں کی امنگیں اور خواہشات برطانیہ کے دیگر علاقوں سے مختلف ہیں اور انھیں موجود یونین میں ہم آہنگ نہیں کیا جا سکتا۔

اگر بورس جانسن برطانیہ کو یکجا رکھنا چاہتے ہیں تو انھیں ان شعلوں کو ہوا نہیں دینی ہو گی بلکہ انھیں بجھانا ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں