روس: ’دانستہ طور پر جنوبی کوریا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی‘

روس کا اے 50 طیارہ (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جنوبی کوریا نے کہا تھا کہ روس کے اے 50 طیارے نے دو مرتبہ اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی (فائل فوٹو)

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کے مطابق روس نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی فضائی حدود میں روس کے جنگی طیارے دراندازی دانستہ حرکت نہیں تھی۔

جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ روس کے ایک فوجی اہلکار نے جنوبی کوریا کی وزارت دفاع سے 'شدید افسوس' کا اظہار کیا ہے اور اسے تکنیکی غلطی قرار دیا ہے۔

سیول کا کہنا ہے کہ منگل کو روسی جنگی طیارے نے دو بار ان کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

اس سے قبل روس کی وزارت دفاع نے کسی خلاف ورزی کے الزام کو مسترد کیا۔

جنوبی کوریا کے بلیو ہاؤس کے مطابق روس نے کہا کہ خلاف ورزی نادانستہ تھی اور یہ کہ وہ اس معاملے کی جانچ کریں گے۔

تاہم روس کی جانب سے ان بیانات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

منگل کو روسی وزارت دفاع نے کہا کہ یہ جاپان اور مشرقی چائنا سی پر روس اور چین کے لڑاکا جہازوں کی مشترکہ نگرانی کی مشق کا حصہ تھا جو کہ دونوں ممالک کے درمیان پہلی بار مشترکہ طور پر فضائی مشق تھی۔

جبکہ چین کی وزرات دفاع نے بدھ کو اس بات کی تردید کی ہے کہ نگرانی کرنے والے کسی بھی طیارے نے کسی بھی ملک کے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

منگل کو کیا ہوا تھا؟

جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ اس کے لڑاکا جہازوں نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر روس کے جاسوسی کرنے والے ’سرویلینس‘ فوجی طیاروں پر انتباہی فائرنگ کی ہے۔

حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کے نگران طیارے نے جزیرے ڈوکڈو کی فضائی حدود کی دو مرتبہ خلاف ورزی کی تھی۔ ڈوکڈو جزیرہ جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان سمندر میں واقع ہے جس پر اس وقت جنوبی کوریا کا قبضہ ہے تاہم جاپان کا بھی اس جزیرے پر دعویٰ ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے لڑاکا جہازوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے روسی جاسوس طیارے پر 360 گولیاں چلائیں۔

روس نے تردید کی ہے کہ اس کے طیارے نے جنوبی کوریا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔

ماسکو سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے دو بمبار طیاروں نے ’نیوٹرل واٹرز‘ میں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت مشق کے لیے پرواز کی تھی (نیوٹرل واٹرز سے مراد وہ سمندری علاقہ ہوتا ہے جو کسی ملک کی حدود میں نہیں سمجھا جاتا ہے۔)

روس نے جنوبی کوریا کی جانب سے فائرنگ کرنے کے دعوے کی بھی تردید کی ہے۔ روس اور جنوبی کوریا کے درمیان اس قسم کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روسی جہاز کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کو روکنے کے لیے جنوبی کوریا نے اپنے F-15 جہاز بھیجے جنھوں نے روسی جہاز پر ہوا میں شدید فائرنگ کی۔

جنوبی کوریا کے مطابق کیا ہوا؟

جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ فوجی نوعیت کے روس کے تین اور چین کے دو طیارے جنوبی کوریا کے دفاعی شناختی زون میں منگل کی صبح داخل ہوئے تھے۔

بیان کے مطابق، دراندازی کرنے والے طیاروں کے اس گروپ میں روس کے دو Tu-95 بمبار، ایک A-50 جاسوس جہاز اور دو چین کے H-6 بمار جہاز شامل تھے۔

روس اور چین کے جاسوس طیارے ماضی قریب میں بھی اس زون میں مبینہ طور پر در اندازی کرتے رہے ہیں۔

کسی بھی دوسرے ملک کے جہاز کو ایسے دفاعی زون میں داخل ہوتے وقت اپنی شناخت کروانی چاہیے۔

جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ روس کا ایک طیارہ A-50 مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے جنوبی کوریا کی دفاعی فضائی حدود کے اندر داخل ہو گیا تھا۔

جنوبی کوریا نے کہا کہ اس کے لڑاکا جہازوں نے مبینہ طور پر دراندازی کرنے والے جہازوں پر دس انتباہی فائر کیے اور مشین گن سے 80 گولیاں چلائیں۔

بیان کے مطابق، روسی جہاز دفاعی زون سے باہر نکل گیا لیکن کچھ ہی دیر کے بعد دوبارہ واپس اسی حدود میں داخل ہوگیا جس پر جنوبی کوریا کے لڑاکا جہازوں نے دوبارہ سے دس انتباہی فائر کیے اور مشین گن سے 280 گولیاں چلائیں۔

دوسری جانب روس نے اپنے بیان میں صرف دو بمبار طیاروں کا ذکر کیا ہے۔ روس نے خاص طور پر اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ اس کے طیارے A-50 نے جنوبی کوریا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔

ڈوکڈو/تاکیشیما

  • جزیرہ جس کی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی ہوئی ہے، اسے جنوبی کوریا میں ڈوکڈو کہا جاتا ہے جبکہ جاپان میں تاکیشیما کہا جاتا ہے۔
  • اس جزیرے کے ملکیت کے جنوبی کوریا اور جاپان دونوں ہی دعویدار ہیں لیکن قبضہ جنوبی کوریا کا ہے۔
  • اس جزیرے کا رقبہ 230,000 مربعہ کلو میٹر ہے۔

فضا میں یہ دفاعی شناختی زون کیا ہوتے ہیں؟

فضا میں دفاعی شناختی زون سے مراد وہ فضائی حد ہوتی ہے جس کی ایک ملک اپنی دفاعی اور سلامتی کے حالات کی وجہ سے نگرانی کرتا ہے۔

اس حد کو بین الاقوامی قوانین تسلیم کرتے ہیں اور یہ عموماً قومی فضائی حدود سے آگے بڑھ کر قائم کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی خطرے کی صورت میں انتباہ کیا جا سکے۔

اس قسم کی خود ساختہ دفاعی شناختی زون کی حدود پر اختلاف ہو سکتا ہے یا دوسرے ہمسائے ملک کے بنائے گئے دفاعی شناختی زون سے متجاوز بھی ہو سکتے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کے قانون کے مطابق، کسی ملک کے زمینی علاقے سے 12 نوٹیکل میل دور تک کا علاقہ اس ملک کی حدود کہلاتا ہے۔

آج کے واقعہ کے مطابق، جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ روس کے فوجی طیارے نے دفاعی شناختی زون کی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے جزیرے کی فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی کی ہے۔

لیکن دوسرے ممالک اس جزیرے پر جنوبی کوریا کی ملکیت کے دعویے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔

اس واقعہ پر ردِ عمل کیا آیا ہے؟

جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کے ادارے کے سربراہ چونگ ایووئی یونگ نے روس کی سلامتی کونسل کو اپنا سخت اعتراض بھیج دیا ہے اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں مناسب کارروائی کرے۔

صدارتی محل سے جاری ہونے والے بیان میں مسٹر چونگ نے کہا کہ ’ہم اس واقعے کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اگر ایسا واقعہ دوبارہ پیش آیا تو ہم اس سے بھی زیادہ شدید کارروائی کریں گے۔‘

جاپانی حکومت نے روس اور جنوبی کوریا دونوں سے اس واقعہ کی شکایت کی ہے۔

جاپان کے چیف کیبنیٹ سیکریٹری، یوشی ہیدا سوگا نے کہا ہے کہ ’تاکیشیما جزیرے پر جاپان کی ملکیت کے ہوتے ہوئے، جنوبی کوریا کے جہازوں کا اس کی فضائی حدود میں انتباہی فائرنگ کرنا جاپان کے لیے مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے اور یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔‘

روئیٹرز نیوز ایجینسی کے مطابق روس نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ وہ اس خطے میں پہلی مرتبہ چین کے ساتھ مشترکہ فضائی مشقیں کر رہا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ جنوبی کوریا کی دفاعی شناختی زون اس کی علاقائی فضائی حدود نہیں ہی اس لیے ان دفاعی شناختی زون میں کوئی ملک بھی داخل ہو سکتا ہے۔

تو کیا یہ ایک غلطی تھی؟

جنوبی کوریا کے حکام کہہ رہے ہیں کہ مبینہ دراندازی کرنے والا طیارہ A-50 جاسوسی کے لیے استعمال ہوتا ہے اور زمین پر دشمن کے اہداف کی نشاندہی بھی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس طیارے نے جنوبی کوریا کا فضائی حدود کی خلاف ورزی ایک مرتبہ نہیں کی بلکہ دوبارہ بھی کی تھی۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ روس چین کے ساتھ مل کر فضائی فوجی مشقیں کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، جنوبی کوریا کی چین کی اس قسم کی مبینہ در اندازیوں اور جاسوس طیاروں کی مداخلت کی وجہ سے تشویش کافی حد تک بڑھ گئی ہے۔ جنوبی کوریا نے چین سے ان معاملات پر بات بھی کی ہے۔

پچھلے برس چین کی پیپلز لبریش آرمی نے روس کی بڑی سطح پر ہونے والی فوجی مشق ’ووسٹوک‘ میں پہلی مرتبہ حصہ بھی لیا تھا۔

یہ ان دونوں کے لیے اپنے فوجی اتحاد اور مشترکہ فوجی قوت کو ظاہر کرنے کا بھی ایک موقع تھا۔ اب انھوں نے یہی کام دوبارہ جزیرہ نما کوریا میں کیا ہے۔ شاید ان میں سے کوئی ایک امریکہ کے اتحادی کے صبر کا امتحان ایسی حالت میں لے رہا ہے یا اسے اکسا رہا ہے جب امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن جنوبی کوریا آرہے ہیں۔

جزیرہ ڈوکڈو پر فضائی حدود کی خلاف ورزی ایک متنازعہ بات ہے۔ یہ جزیرہ اس وقت جنوبی کوریا کے قبضے میں ہے لیکن جاپان بھی اس پر ملکیت کا دعویدار ہے جو اسے تاکیشیما کہتا ہے۔ ان دونوں ملکوں کے درمیان اس وقت تجارتی معاملات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

یہ واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جنوبی کوریا دنیا سے الگ تھلگ خطے میں تو ہو سکتا ہے لیکن اسے اگر اشتعال دلایا گیا تو وہ کارروائی کرے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں