یورپی ہیٹ ویو: فرانس کے شہر بورڈوا میں گرمی کا نیا ریکارڈ قائم

فرانس، بورڈوا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس کے شہر بورڈوا میں بچے خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے مشہورِ زمانہ واٹر مرر پر بیٹھے ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب مغربی یورپ ان سال گرمی کی دوسری لہر کے لیے تیار ہو رہا ہے تو فرانس کے شہر بورڈوا میں تاریخ میں جب سے ریکارڈ درج ہونا شروع ہوئے ہیں اس وقت سے اب تک کا بلند ترین درجۂ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے۔

منگل کے روز فرانس کے محکمۂ موسمیات نے اس جنوب مغربی شہر میں 41.2 سینٹی گریڈ (106.1 فارن ہائیٹ) کا درجہ حرارت ریکارڈ کیا جو اس سے پہلے 2003 میں ریکارڈ کیے گئے 40.7 سینٹی گریڈ کے ریکارڈ سے کہیں زیادہ ہے۔

موسم کی پیشینگوئی کرنے والے اداروں کے مطابق اس ہفتے یورپ بھر کے مختلف ممالک بشمول بیلجیئم، جرمنی اور نیدرلینڈ میں ریکارڈ توڑ گرمی پڑنے کا امکان ہے۔

عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) کی ایک ترجمان کلیئر نلِس کا کہنا ہے کہ یہ گرمی کی لہریں واضح طور پر 'موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہیں۔'

وہ بتاتی ہیں کہ 'جیسا کہ ہم نے جون میں دیکھا کہ یہ اب پہلے سے زیادہ آتی ہیں، جلد شروع ہوجاتی ہے اور پہلے سے زیادہ شدید ہوتی ہے۔ یہ کوئی ختم ہونے والا مسئلہ نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 23 جولائی 2019 کو فرانس کے شہر بورڈوا میں ایک تھرمامیٹر پر 42 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجۂ حرارت دیکھا جا سکتا ہے۔

موسم کتنا گرم ہوسکتا ہے؟

فرانس کے زیادہ تر حصوں میں اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے جو کہ وارننگ کا دوسرا بلند ترین درجہ ہے۔

فرانس کے محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے پیرس میں جمعرات کے روز درجۂ حرارت نئی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔ موجودہ ریکارڈ 40.4 سینٹی گریڈ ہے جو کہ 1947 میں قائم ہوا تھا۔

گرمی کی متوقع لہر کا موازنہ اگست 2003 میں فرانس میں آنے والی گرمی کی لہر سے کیا جا رہا ہے جس میں گرمی کی وجہ سے 15 ہزار اموات ہوئی تھیں۔

Image caption یورپ بھر میں ریکارڈ درجۂ حرارت کی توقع کی جا رہی ہے۔

کئی دیگر ممالک میں بھی درجۂ حرارت کے 40 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • پہلی مرتبہ بیلجیئم نے ملک بھر کے لیے ایک موسمیاتی ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔
  • سپین نے گزشتہ ماہ جنگل کی تباہ کن آگ سے متاثر ہونے والے اپنے زاراگوزا خطے میں ریڈ الرٹ جاری کیا۔
  • یورپی کمیشن کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کا کہنا ہے کہ سپین اور پرتگال میں جنگل کی آگ کا خطرہ انتہائی زیادہ ہے۔
  • نیدرلینڈز میں حکومت نے اپنا ’نیشنل ہیٹ پلان’ متحرک کر دیا ہے۔
  • برطانیہ میں درجۂ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بورڈوا کے ایک سٹیشن پر ایک شخص پٹری پار کر رہا ہے۔ فرانس کے محکمۂ ریل نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کا پٹڑیوں پر اثر پڑ سکتا ہے جس سے ٹرینوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

کیا تیاریاں کی جا رہی ہیں؟

اپنے ایٹمی ری ایکٹر کو ٹھنڈا رکھنے والے پانی کو گرم ہونے سے محفوظ رکھنے کے لیے فرانس کی توانائی کمپنی ای ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ ٹارن ایٹ گیرون کے جنوبی خطے میں واقع گولف ٹیک ایٹمی بجلی گھر کے دو ری ایکٹر بند کر دیں گے۔

اس کے علاوہ اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو رہے ٹور ڈی فرانس سائیکل ریس میں حصہ لینے والے سائیکلسٹس کے پیروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے برف اور انھیں ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے لیے پانی کے اضافی پوائنٹس کا انتظام کیا گیا ہے۔

فرانس کی حکومت 'اقتصادی وجوہات کی بناء پر' ان علاقوں میں دن ایک سے شام چھے بجے تک جانوروں کے نقل و حمل پر پابندی عائد کر رہی ہے جہاں گرمی کے الرٹ جاری کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 26 جون 2019 کو لی گئی اس تصویر میں گزشتہ ماہ کی ہیٹ ویو کے دوران ایک جیگوار کو چڑیا گھر کے تالاب میں نہاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اب تک درجۂ حرارت کتنے بلند رہ چکے ہیں؟

فرانس کے محکمۂ موسمیات نے جنوب مغربی علاقوں میں 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجۂ حرارت ریکارڈ کیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ باقی ماندہ ہفتے میں بھی گرمی 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں جائے گی۔

گزشتہ ماہ یورپ کے کئی علاقوں میں گرمی کی شدید لہر کی وجہ سے یہ ریکارڈ پر موجود گرم ترین جون قرار پایا۔

فرانس میں گرمی کا اب تک کا بلند ترین ریکارڈ بنا جبکہ جون کے نئے بلند ترین درجۂ حرارت چیک ریپبلک، سلوواکیہ، آسٹریا، اینڈورا، لکسمبرگ، پولینڈ اور جرمنی میں ریکارڈ کیے گئے۔

کیا یہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہے؟

عالمی حدت کو اس اچھوتی صورتحال کا ذمہ دار قرار دینا ایک پیچیدہ کام ہے۔ یوں تو گرمی کی لہر جیسے کئی شدید موسمی حالات قدرتی طور پر وقوع پذیر ہوتے ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ان میں تیزی آ سکتی ہے۔

انیسویں صدی کے اواخر تک جانے والے ریکارڈز کے مطابق زمین کی سطح کا اوسط درجۂ حرارت صنعتی دور سے اب تک تقریباً ایک ڈگری بڑھ چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بورڈوا کے ایک ریٹائرمنٹ ہوم میں ایک عمر رسیدہ شخص سخت گرمی سے بچنے کے لیے پانی پی رہے ہیں۔

جرمنی کے شہر پوٹسڈیم کے ایک موسمیاتی انسٹیٹیوٹ کے مطابق سنہ 1500 سے لے کر اب تک یورپ کی پانچوں گرم ترین گرمیاں اکیسویں صدی میں آئی ہیں۔

سائنسدان اس حوالے سے فکرمند ہیں کہ فوسل ایندھن کے استعمال سے تیز ہونے والی گرمی کے ہمارے سیارے کی آب و ہوا کے استحکام پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

اسی بارے میں