بورس جانسن: نئے برطانوی وزیر اعظم نے بریگزٹ کے حمایتیوں میں اہم وزارتیں تقسیم کر دیں

Boris Johnson meets the Queen تصویر کے کاپی رائٹ PA Media

برطانیہ میں بورس جانسن نے ٹریزا مے سے وزارتِ عظمیٰ کا قلمدان لینے کے بعد اہم وزارتیں ان حکومتی اراکین میں تقسیم کی ہیں جو بریگزٹ کی حمایت کرتے ہیں۔

ڈومنک ریب کو سیکرٹری خارجہ جبکہ پریتی پٹیل کو سیکرٹری داخلہ کے عہدے سونپے گئے ہیں۔

ناقدین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ بورس جانسن کی کابینہ اب سخت نظریات رکھنے والے سیاست دانوں سے بھر چکی ہے۔ پاکستانی نژاد ساجد جاوید کو، جو اس سے قبل وزیر اعظم ٹریزا مے کی کابینہ میں سیکرٹری داخلہ تھے، کو وزارت خزانہ دی گئی ہے۔

جیرمی ہنٹ سمیت ٹریزامے کی کابینہ کے کئی نام بورس جانسن کی کابینہ میں شامل نہیں کئے گئے۔ اس کے علاوہ ٹریزا مے کی کابینہ کے 17 ممبران یا مستعفی ہوئے یا انھیں نئی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔

دیگر اہم نام جنھیں کابینہ میں شامل کیا گیا ہے، وہ یہ ہیں:

  • سٹیفن بارکلے: بریگزٹ سیکریٹری (عہدہ برقرار رکھیں گے)
  • مائیکل گوو: چانسلر آف ڈچی آف لینکیسٹر
  • بین والیس: سیکریٹری دفاع
  • لِز ٹرس: سیکریٹری بین الاقوامی تجارت
  • میٹ ہینکُک: سیکریٹری صحت (عہدہ برقرار رکھیں گے)
  • گیوِن ولیمسن: سیکریٹری تعلیم
  • نکی مورگن: سیکریٹری ثقافت
  • اینڈرا لیڈسم: سیکریٹری کاروبار
  • امبر رڈ: سیکریٹری ورک اینڈ پینشن (عہدہ برقرار رکھیں گی)
  • جیکب ریس موگ: لیڈر آف کامنز

بورس جانسن کی کابینہ کے چند نئے اراکین کا ماضی دلچسپ رہا ہے۔ مندرجہ ذیل چند مثالیں اس حوالے سے خاصی اہمیت رکھتے ہیں:

پریتی پٹیل (وزیرِ داخلہ)

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پریتی پٹیل کو سیکرٹری داخلہ کا عہدہ دیا گیا ہے

نئی وزیر داخلہ پریتی پٹیل کو نومبر 2017 میں اس وقت سیکریٹری بین الاقوامی ترقی کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا جب اس سال اگست میں برطانوی حکومت کی اجازت کے بغیر اسرائیلی سیاستدانوں، بشمول اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ان کے ملاقات کرنے پر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔

جب یہ تفصیلات سامنے آئی تھیں تو اس وقت برطانیہ کی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے انھیں افریقہ کے ایک سرکاری دورے سے فوری طور پر واپس بلا کر انھیں 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں طلب کیا، جہاں انھوں نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو پیش کیا۔

بعد میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ انھوں نے ستمبر 2017 میں سرکاری حکام کی موجودگی کے بغیر دو مزید ملاقاتیں کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا بورس جانسن برطانیہ کے ٹوٹنے کا موجب بن سکتے ہیں؟

برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اور ان کے مسلمان آباؤ اجداد

’برطانوی قوم میں نیا جذبہ بیدار کریں گے‘

ساجد جاوید (وزیرِ خزانہ)

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی نژاد ساجد جاوید کو وزارت خزانہ کا قلم دان دیا گیا ہے

پاکستان کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے ساجد جاوید کو آج وزیرِ خزانہ کی حیثیت سے تو مشکل سے ہی کبھی اپنا دروازہ خود کھولنا پڑے گا لیکن جب ایک نوجوان کی حیثیت سے انھوں نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تو ان کی رنگت کے لوگوں کے لیے بہت سے دروازے ابھی بند تھے۔

ساجد نے برطانوی شہر برسٹل کے جس علاقے میں آنکھ کھولی اسے بعض اخبارات برطانیہ کا خطرناک ترین علاقہ قرار دیتے ہیں۔

بی بی سی لندن کے ساجد اقبال نے اپنی تحریر میں لکھتے ہیں کہ جب وہ سکول میں زیرِ تعلیم تھے تو انھیں مسلسل یہی مشورہ دیا جاتا رہا کہ 'تم نے یونیورسٹی جا کر کیا کرنا ہے؟ بہتر ہے ریڈیو مکینک ہی بن جاؤ۔' لیکن انھوں نے وہ سب کچھ کر کے دکھایا جس کی ان سے توقع نہیں کی جا رہی تھی۔

جب ساجد نے بینکنگ کے شعبے میں ملازمت کی ٹھانی تو انہیں دو برطانوی بینکوں کی طرف سے انٹرویو کے لیے بلایا گیا لیکن انٹرویو لینے والے اپر کلاس پرائیویٹ تعلیم سے آراستہ انگریز ان کے والد کے پیشہ ورانہ پس منظر سے متاثر نہ ہوئے۔

تاہم بعد میں امریکی بینک چیز مینہیٹن میں ملازمت کے لیے انٹرویو لینے والوں کو ان کی یہی بات اچھی لگی اور انہیں ملازمت دے دی گئی۔ وہ پچیس سال کی عمر میں چیز کے وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچ چکے تھے۔

شاید یہی تجربہ ان کی وزیرِ خزانہ کی اہم وزارت تک رسائی کی وجہ بنا۔

مائیکل گوو (چانسلر آف ڈچی آف لینکیسٹر)

تصویر کے کاپی رائٹ PA Images

مائیکل گوو کے حوالے سے بحث اس بات پر ہو رہی ہے کہ کیا انھیں چانسلر آف ڈچی آف لینکیسٹر بنا کر ان کا پتا کاٹا گیا ہے۔

انہوں نے سنہ 2016 میں موجودہ وزیرِ اعظم بورس جونسن کے بارے میں بیان دیا تھا کہ وہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے اہل نہیں ہیں۔ لیکن پچھلے ہفتے سے ہی وہ بورس جونسن کے گن گاتے دکھائی دیے۔

بدھ کو نئے وزیرِ اعظم نے کیبنٹ میں رد و بدل کیا اور مائیکل گوو کو چانسلر آف ڈچی آف لینکیسٹر کی تعینات کیا ہے۔ گوو سنہ 2010 سے 2014 تک بطور وزیرِ تعلیم امتحانات اور نصاب میں بڑی تبدیلیاں کرنے کے باعث مقبول ہوئے۔

انھوں نے سنہ 2016 میں بریگزٹ کے حق میں بھرپور مہم چلائی شاید اسی وجہ سے ماضی میں بورس جانسن سے شدید تنقید کرنے پر بھی انھیں کابینہ میں شامل کیا گیا۔

البتہ اس حوالے سے مبصرین کا کہنا ہے کہ انھیں ڈپٹی وزیرِاعظم نہ بنانے سے ان کا اس کابینہ میں کردار اتنا مؤثر نہیں ہو گا۔

گوو جنھیں ٹریزا مے نے اپنی کابینہ میں وزیرِ ماحولیات بنایا تھا تو وہ مے کی بریگزٹ معاہدے کے حامی تھے۔

ڈومینک راب (وزیرِ خارجہ)

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بریگزٹ کے بھرپور حامی ہونے کی حیثیت سے ڈومینک راب کو کابینہ میں وزیرِ خارجہ کا انتہائی اہم عہدہ دیا گیا ہے۔

راب کا ماننا ہے کہ بریگزٹ کو عملی جامہ پہنانے میں کسی قسم کی تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور رواں سال 31 اکتوبر کو پہنچائی جائے گی۔

راب پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں اور انھیں سنہ 2015 میں وزیر قانون بنایا گیا تھا لیکن ٹریزا مے نے انھیں وزیرِ اعظم بنتے ہی عہدے سے برطرف کر دیا۔

مگر انھیں بریگزٹ سیکریٹری کی حیثیت سے جولائی سنہ 2018 میں تعینات کیا گیا لیکن انھوں نے چند ماہ بعد ہی ٹریزا مے کے بریگزٹ معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا۔

انھوں نے اپنے کریئر کا آغاز تو ایک بین الاقوامی وکیل کی حیثیت سے کیا تھا لیکن بعد میں وہ وزارتِ خارجہ میں بطور سفیر تعینات رہے۔

بورس جانسن کا انتخاب اور بریگزٹ

Image caption ڈاؤنگ سٹریٹ پر بورس جانسن کے خلاف احتجاج کے مناظر

وزیر خارجہ ہنٹ نے کابینہ کو الوداع کہتے ہوئے بتایا کہ انھیں ایک متبادل وزارت دی جا رہی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا تھا۔

حیرت انگیز طور پر وزیر دفاع پینی مورڈنٹ کو بھی کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا حالانکہ وہ بریگزٹ کی حمایت کرنے والی ایک بڑی آواز ہیں۔

ایسا ہی ایک نام سیکرٹری بین الاقوامی تجارت لیام فارکس کا ہے جنھیں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ بریگزٹ منصوبے کی مخالفت کرنے والے سیکرٹری کاروبار گریگ کلارک بھی ان 17 کی فہرست میں شامل ہیں۔

پینی مورڈنٹ، لیام فارکس اور گریگ کلارک نے کنزرویٹو پارٹی میں وزارت عظمی کے قلمدان کے لیے جیرمی ہنٹ کی حمایت کی تھی۔

منگل کو برطانیہ کی حکمران جماعت کنزرویٹیو پارٹی کے سربراہ کے لیے ہونے والے انتخابات میں بورس جانس بانوے ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر اپنی جماعت کے سربراہ منتخب ہوئے اور بدھ کو اپنا عہدہ سنبھالا۔

مستعفی ہونے والی وزیر اعظم تھریسا مے نے بورس جانسن کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ جماعت کی پچھلی نشستوں پر بیٹھ کر بورس جانسن کی بھر پور حمایت کریں گی۔

یاد رہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) پر کسی معاہدے میں پہنچنے میں ناکامی کے بعد تھریسامے نے 24 مئی کو اپنے عہدے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کر دیا تھا جس کے بعد حکمران جماعت کنزرویٹیو جماعت میں نئے سربراہ کے انتخاب کا عمل شروع ہوا تھا۔

مختلف مراحل میں ہونے والے اس انتخاب کی ابتدا میں دس امیدوار پارٹی کے سربراہ کے عہدے کے لیے سامنے آئے تھے لیکن آخری مرحلے تک پہنچتے پہنچتے صرف دو امیدوار وزیر خارجہ جرمی ہنٹ اور سابق وزیر خارجہ بورس جانسن میدان میں رہے گئے۔

وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ برطانیہ بریگزٹ منصوبے پر عمل کرتے ہوئے 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدگی اختیار کر لے گا۔

انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ڈیڈلائن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں