ٹرمپ کا سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے کے حق میں ویٹو

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادہ محمد بن سلمان پر جمال خاشقجی کے قتل پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو آٹھ ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کے خلاف کانگریس کی طرف سے منظور کردہ قرارداد کو ویٹو کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ تین قراردادیں امریکہ کی عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت کو کمزور کریں گی اور امریکہ کے اتحادیوں سے تعلقات کو نقصان پہنچائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب کی دھمکی، یمن انکوائری کی قرارداد تبدیل

یمن میں ’غذائی قلت سے 85000 بچے ہلاک‘

یمن کے سابق رہنما عبداللہ صالح ’ہلاک‘

یمن خودکش حملے میں کم ازکم 48 سپاہی ہلاک

’پاکستانی فوج یمن کی جنگ میں حصہ نہیں لے گی‘

امریکی صدر کی طرف سے یہ قدم امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں سے مشرق وسطیٰ کے ان دو اہم ملکوں اور امریکہ کے اتحادیوں کو جدید ترین امریکی اسلحے کی فروخت کے خلاف قرار دادیں منظور کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

کانگریس کے چند اراکین کا کہنا ہے کہ انھیں ڈر ہے کہ یہ اسلحہ یمن کی جنگ میں شہری آبادیوں کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔

انھوں نے یمن کی جنگ میں سعودی عرب کے کردار کی شدید مذمت کی ہے اور اس کے علاوہ گزشتہ سال سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر بھی سعودی عرب پر شدید تنقید کی تھی۔

حکمران جماعت رپبلکن پارٹی کے رہنما مچ میکونیل نے بدھ کو کہا تھا کہ آئندہ چند دنوں میں صدر ٹرمپ کی طرف سے قرار دادوں کو ویٹو کیے جانے پر رائے شماری کرائی جائے گی۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ سینیٹ میں ویٹو کے خلاف رائے شماری میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہو سکے گی۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک یہ تیسرا موقع ہے کہ انھوں نے منتخب ایوانوں کی رائے کے خلاف ویٹو کرنے کے اپنے اختیارات استعمال کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یمن کی جنگ میں بچے اور خواتین بری طرح متاثر ہوئے ہیں

اس سال مئی میں وائٹ ہاؤس نے ہنگامی حالات کا اعلان کر کے اسلحہ کی فروخت کو آگے بڑھنے کے لیے متعلقہ قوانین سے جان بچائی تھی۔

اس وقت صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ انھیں ایران سے خطرے کے پیش نظر یہ فیصلہ کرنا پڑا۔

اس فیصلے کے خلاف کیپیٹال ہل میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا خاص طور پر ان اراکین کی طرف سے جنھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ سعودی عرب کی سربراہی میں یمن میں برسرِ پیکار فوج یہ اسلحہ عام شہریوں کے خلاف استعمال کرے گی۔

قانون سازوں جن میں حزب اقتدار رپبلکن جماعت کے کچھ ارکان بھی شامل تھے انھوں نے کہا تھا کہ کانگریس سے بالا بالا یہ فیصلہ کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔

صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت روکنے کے لیے پیش کی گئی قرارد داد کے حق میں اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اسلحے کی فروخت بند کرنے سے یمن کی جنگ طول پکڑ سکتی ہے اور تیر باہدف امریکی بموں کی سعودی عرب کی فوج کو فراہمی روکنے سے زیادہ شہری ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے میں ایران کی ریشہ دوانیوں کے خلاف ایک دیوار بنے ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری پروگرام کے بارے میں معاہدے سے امریکہ کی طرف سے یک طرفہ علیحدہ ہونا ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
یمن میں تیس لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ہیں

اسی بارے میں