شمالی کوریا: نئی قسم کے میزائلوں کا تجربہ

تصویر کے کاپی رائٹ European Photopress agency
Image caption شمالی کوریا نے بظاہر یہ تجربہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان مشترکہ مسقوں کے درعمل میں کیا ہے

جنوبی کوریا کی فوج کے جوائنٹ چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے درمیانی فاصلے پر مار کرنے والے دو میزائل چلائے ہیں جو سمندر میں جا کر گرے۔ شمالی کوریا کے مشرقی ساحل وانسان سے جمعرات کی صبح چلائے گئے میزائل سمندر میں گرے۔

جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیف آف سٹاف کے حکام نے کہا کہ ایک میزائل چھ سو نوے کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے سمندر میں گرا اور یہ میزائل بظاہر نئے ڈیزائن کے تھے۔

گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن سے ملاقات کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شمالی کوریا نے میزائل کا تجربہ کیا ہو۔

یہ تجربہ جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان سالانہ فوجی مشقوں پر شمالی کوریا کی طرف سے ناراضی کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ شمالی کوریا کی طرف سے خبردار کیا گیا تھا کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان یہ سالانہ مشقیں جوہری ہتھیاروں کو ختم کیے جانے والے مذاکرات پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔

جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے مطابق پہلا تجربہ مقامی وقت کے مطابق جمعرات کی صبح پانچ بج کر 34منٹ پر کیا گیا جب کہ دوسرا میزائل پانچ بج کر57 منٹ پر چلایا گیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں میزائلوں نے چار سو تیس میل کا سفر طے کیا اور پچاس کلو میٹر کی اونچائی تک جانے کے بعد جاپان کے سمندر میں جسے مشرقی سمندر بھی کہا جاتا ہے اپنے ہدف کی طرف گئے۔

جنوبی کوریا کے فوجی حکام نے مزید بتایا کہ امریکی اور جنوبی کوریا کے انٹیلی جنس ماہرین اور فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان دو میزائلوں میں سے ایک نئے ڈایزائن کا لگ رہا تھا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
شمالی کوریا کے کم جونگ ان امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ سنگاپور میں مذاکراتی میز پر بیٹھیں گے۔

جاپان کے دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ یہ میزائل جاپان کے پانیوں تک نہیں پہنچے اور ان تجربوں سے ملک کے دفاع پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ان تجربوں کی نگرانی نے کی۔

جنوبی کوریا کی وزارتِ دفاع نے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ یہ کام فوری طور پر روک دے کیونکہ یہ کارروائیاں کشیدگی کرنے میں معاون ثابت نہیں ہو سکتے۔ شمالی کوریا واضح طور پر ناخوش ہے

اس سال جون میں ٹوئٹر پر دعوت دیے جانے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان سے کوریا کے غیر فوجی علاقے میں اچانک ملاقات کی تھی جہاں انھوں نے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کے لیے مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس ملاقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو کی طرف سے کہا گیا تھا کہ عملی مذاکرات جولائی میں شروع کیے جانے کا امکان ہے لیکن اس کے بعد امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان اگلے ماہ ہونے والی مشترکہ سلانہ فوجی مشقوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے یہ مشقیں گزشتہ سال سنگاپور میں امریکی صدر کے ساتھ شمالی کوریا کے رہنما کی بالمشافہ ملاقات کی روح کے منافی ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا نے ان سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کو منسوخ کرنے سے انکار کر دیا ہے لیکن ان کو بڑی حد تک محدود کر دیا ہے۔

امریکہ میں واشنگٹن سینٹر آف نیشنل انٹرسٹ کے سربراہ ہنری کزیانس کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا مشترکہ فوجی مشقوں پر واضح طور پر پریشان ہے اور غصے میں ہے۔

گزشتہ سال کم جان ان نے کہا تھا کہ شمالی کوریا جوہری تجربے بند کرے گا اور بلاسٹک میزائلوں کے مزید تجربے نہیں کرے گا۔

سٹلائٹ کے ذریعے حاصل کی گئی شمالی کوریا کی تصاویر سے علم ہوا ہے کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام جاری ہے اور جن سے ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے کہ شمالی کوریا اب بھی جوہری مواد افژودہ کر رہا ہے جو جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے کے قابل ہے۔

شمالی کوریا پر شدید ترین اقتصادی پابندیوں کے باوجود وہ اس بات کا مظاہرہ کر رہا ہے کہ اس میں اتنی صلاحیت اور سکت باقی ہے کہ وہ جدید ہتھیاروں کی تیاری جاری رکھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ European Photopress Agency

اس ہفتے کے شروع میں کم جونگ نے ایک نئی آبدوز کا معائنہ کیا جس میں بلاسٹک میزائل نصب کرنے کی صلاحیت پیدا کی جا سکتی ہے۔

شمالی کوریا نے اس سال مئی میں بھی ایک کم فاصلے پر مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کیا تھا جو سنہ دو ہزار سترہ میں بین البراعظمی میزائل کے تجربے کے بعد پہلا ایسا تجربہ تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے درعمل میں اس امید کا اظہار کیا تھا شمالی کوریا کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں ہونے والے مذاکرات خطرے میں پڑ جائیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا تھا کہ' صدرکم جانتے ہیں کہ میں ان کے ساتھ ہوں اور وہ اپنے وعدے توڑنے نہیں چاہتے۔'

اسی بارے میں