امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان: ’افغان امن عمل میں امریکہ کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا‘

مورگن اورٹیگس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور صدر ٹرمپ کے مابین اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں رہنماوں کے مابین مثبت اور کامیاب مذاکرات ہوئے تاہم افغان امن عمل میں امریکہ کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔

جمعرات کی رات پریس بریفنگ میں امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم عمران خان کے مابین مثبت اور کامیاب مذاکرات ہوئے جس کے بعد اب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پیشرفت کا وقت آ گیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان امن عمل میں امریکہ کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان کے مطابق عمران خان کی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے بھی اہم ملاقات ہوئی جس میں دونوں جانب سے باہمی تعلقات مزید بڑھانے کا اظہار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

عمران خان امریکہ سے ’ورلڈ کپ جیت کر آئے‘

’ٹرمپ پاکستان سے ایک نیا رشتہ استوار کرنا چاہتے ہیں‘

ثالثی کی پیشکش: ’پاکستان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا‘

ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش، انڈیا کا انکار

’کپتان نے واشنگٹن کو لاہور بنا دیا‘

مارگن اورٹیگس نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ افغانستان اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرے۔ امریکہ نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں افغانستان میں اربوں ڈالرخرچ کیے جبکہ نیٹو فورسز نے بھی قربانیاں دیں تاہم خطےمیں امن کے لیے کوئی حتمی ڈیڈ لائن نہیں دے سکتے۔

واضح رہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان امریکہ کا دورے مکمل کر کے جمعرات کو پاکستان واپس پہنچے۔

عمران خان نے اپنے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، وزیر خارجہ مائیک پومپیو، امریکی ایوانِ نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی سے بھی ملاقات کی تھی۔

عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ملاقات کے موقع پر ٹرمپ نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کرنے میں کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ پیشکش پیر کو پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر کی گئی تھی۔

صدر ٹرمپ نے عمران خان سے کہا تھا 'میں دو ہفتے قبل انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تھا اور ہم نے اس موضوع پر بات کی جس پر انھوں نے کہا کہ کیا آپ اس معاملے پر ثالث بننا چاہیں گے؟ جواب میں میں نے پوچھا کہاں؟ تو انھوں نے کہا کشمیر۔ کیونکہ یہ معاملہ کئی سالوں سے چل رہا ہے، میرا خیال ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ حل ہو جائے، کیا آپ بھی چاہتے ہیں کہ معاملہ حل ہو جائے؟ اگر میں مدد کر سکوں تو میں بخوشی ثالث کا کردار نبھانے کے لیے تیار ہوں۔ اگر میں کوئی مدد کر سکتا ہوں تو مجھے ضرور بتائیں۔'

صدر ٹرمپ کی جانب سے کی گئی پیشکش پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور انڈیا کے مابین ثالثی کا کردار ادا کریں اور وہ اپنی جانب سے انڈیا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستانی قوم کی دعائیں صدر ٹرمپ کے ساتھ ہوں گی اگر وہ مسئلہ کشمیر حل کرا سکیں۔

جہاں پاکستان کی جانب سے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا گیا وہیں انڈیا نے کشمیر کے مسئلے کے حل میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنے کے امکان کو رد کر دیا۔

اسی بارے میں