شام: ریحام اپنی نومولود بہن کو بچانے کی کوشش میں خود ہلاک ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ SY-24
Image caption بچیوں کے والد امجد العبداللہ نے انہیں بچانے کی کوشش کی۔

شام میں حالیہ فضائی حملوں کے بعد ایک اندوہناک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں ایک پانچ برس کی بچی اپنی گرتی ہوئی نومولود بہن کی جان اُس کو قمیض سے پکڑ کر بچا رہی ہے۔

یہ تصویر شام کے شہر ادلب میں اریہا نامی قصبے میں کھینچی گئی ہے جہاں حکومت کی جانب سے بدھ کے روز بمباری کی گئی تھی۔

اس تصویرمیں دیکھا جا سکتا ہے کہ ان بچیوں کا خوفزدہ باپ ان کو بچانے کی غرض سے ان کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یہ تصویر میڈیا ایس وائے-24 کے فوٹوگرافر نے کھینچی اور انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'پہلے پہل تو (فوٹوگرافر کو) کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، لیکن پھر ملبے تلے موجود نومولود بچوں، اور ان کے والد کی آوازیں سنائی دیں۔‘

انتباہ: اس تحریر میں ایک اندوہناک تصویر موجود ہے۔

اس تصویر کی وجہ سے شام میں ہونے والی جنگ پر توجہ ایک مرتبہ پھر مرکوز ہو گئی ہے جہاں روس کی حمایت یافتہ حکومت ادلب کو جہادیوں اور باغیوں سے آزاد کروانا چاہتی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ 29 اپریل کے بعد ہونے والی لڑائیوں میں 350 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین لاکھ تیس ہزار اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اریہا پر بدھ کو ہونے والے فضائی حملوں کے بعد کا منظر

صحافی بشار الشیخ نے اس گھرانے کو اس وقت فلم بند کیا جب وہ اریہا میں ہونے والے فضائی حملے کی کوریج کر رہے تھے۔ انھوں نے یہ تصویر کھینچنے کے بعد ان کی مدد بھی کی۔

کچھ لمحوں بعد ہی یہ عمارت گر گئی اور پانچ برس کی ریحام اور سات ماہ کی تقا کو مزید زخمی کر دیا۔

ان بچیوں کو ملبے کے ڈھیر سے نکالا گیا اور انھیں پہلے ایک مقامی کلینک میں لے جایا گیا جس کے بعد انھیں ادلب کے ایک بڑے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SY-24
Image caption پانچ سالہ ریحام اپنے چھوٹی بہت تقا کو بچانے کی کوشش میں خود بری طرح زخمی ہو گئیں

ایس وائے-24 کے مطابق ریحام زخموں کی تاب نہ لا سکیں اور ہسپتال میں دم توڑ گئیں جبکہ ان کی نومولود بہن اب بھی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں موجود ہیں۔

ان بچوں کے والد کا نام امجد العبداللہ بتایا گیا ہے جن کا تعلق اریہا سے ہے جبکہ ان کی بیوی اسما نوقوہل موقع پر ہی ہلاک ہو گئی تھیں۔

شام کے وائٹ ہیلمٹ نامی سول دفاع کے رضاکاروں نے بتایا کہ انھوں نے اسی گھر کے ملبے سے ایک اور نوجوان کو نکالا تھا۔

برطانیہ میں مقیم شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے مانیٹرنگ گروپ کے مطابق بدھ کے فضائی حملے میں صوبے کے تین علاقوں میں پانچ بچوں سمیت 20 شہری ہلاک ہوئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ خان شیخن میں روس کی جانب سے کیے گئے ان فضائی حملوں میں ایک ہی گھرانے کے دس لوگ ہلاک ہوئے جن میں تین بچے بھی شامل تھے۔

البتہ یہ معلوم نہیں کہ اس گروپ نے ان طیاروں کے روسی ہونے کی تصدیق کیسے کی۔ سوموار کو باغیوں کے زیر قبضہ شہر مرات ال نعمان پر جنگی جہازوں کے حملے میں کم از کم 31 شہری ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں