میکسیکو سرحدی دیوار: امریکی سپریم کورٹ کا فنڈز کے لیے صدر ٹرمپ کے حق میں فیصلہ

دیوار تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکہ کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوبی سرحد پر دیوار کے ایک حصے کے لیے پینٹاگون کے لیے مختص فنڈز میں سے ڈھائی ارب ڈالر استعمال کر سکتے ہیں۔

اس سے پہلے ریاست کیلیفورنیا کے جج نے اپنے فیصلے میں صدر ٹرمپ کو سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی تاہم سپریم کورٹ کے پانچ ججوں نے اس فیصلے کے خلاف جبکہ چار نے اس فیصلے کے حق میں ووٹ دے کر اب انھیں اجازت دے دی ہے۔

سنہ 2016 کی انتخابی مہم کے دوران امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سرحدی دیوار تعمیر کرنا صدر ٹرمپ کے مرکزی منشور کا حصہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

صدر ٹرمپ نے ایمرجنسی نافذ کرنے کی تصدیق کر دی

ٹرمپ کا میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا حکم

میکسیکو دیوار: ٹرمپ رقم حاصل کرنے میں ناکام

جبکہ ان کی حریف ڈیموکریٹک پارٹی ان کے مؤقف کی سخت مخالفت کرتی آئی ہے۔

امریکہ کی عدالت عظمی کے فیصلے کا مطلب ہے کہ اب ریاست کیلیفورنیا، اریزونا اور نیو میکسیکو میں دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز کا استعمال ہو سکے گا۔

کیلیفورنیا کی عدالت نے یہ دلیل دی تھی کہ امریکی کانگرس نے دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز کو خصوصی طور پر مختص نہیں کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے عدالت کے اس فیصلے کو اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں ’عظیم فتح‘ قرار دیا ہے۔

دریں اثنا گذشتہ جمعے کو امریکہ اور گوئٹے مالا کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق تارکین وطن جو ہونڈوراس اور ایل سیلواڈور سے گوئٹے مالا کے راستے امریکہ آنے کی کوشش کریں گے انھیں امریکہ میں داخل ہونے کی کوشش سے قبل وہاں رکنا پڑے گا اور پناہ لینی پڑے گی۔

امریکہ میں فیصلے پر رد عمل

امریکی ایوان کی سپیکر نینسی پلوسی نے کہا ہے ’سپریم کورٹ کا فیصلہ جو ڈونلڈ ٹرمپ کو فوجی فنڈ چوری کر کے کانگرس سے نامنظور ایک فضول، غیر موثر سرحدی دیوار پر خرچ کرنے کی اجازت دیتا ہے، انتہائی غلط ہے۔ ہمارے بڑوں نے بادشاہت کے بجائے ایک ایسی جمہوریت بنائی تھی جسے لوگ چلائیں۔‘

امریکہ کی شہری آزادی کی یونین اے سی ایل یو نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف نویں سرکٹ کورٹ میں جلد اپیل کریں گے تاکہ ’ٹرمپ کی دیوار سے ہونے والے ناگزیر اور ناقابل تلافی نقصان کو روکا جا سکے۔‘

ماحولیاتی تحفظ کے گروپ سیئرا کلب کی وکیل گلوریا سمتھ نے کہا: 'آج کا فیصلہ جو فوجی فنڈز کو دیوار بنانے کی جانب منتقل کرنے کی اجازت دے رہا ہے یہ کیلیفورنیا، ایریزونا اور نیو میکسیکو میں کمیونٹیز کو بانٹ دیگا اور عوامی زمینوں اور پانیوں کو تباہ کردے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

رواں سال کے اوائل میں صدر ٹرمپ نے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی ان کا کہنا تھا کہ انھیں قومی سلامتی کی خاطر دیوار کی تعمیر کے لیے 6.7 ارب ڈالر درکار ہیں۔ لیکن یہ رقم 3200 کلو میٹر پر پھیلی سرحد پر باڑ لگائے جانے کے تخمیے 23 ارب ڈالر سے بہت کم ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا ایمرجنسی نافذ کرنا امریکی آئین کی روشنی میں ان کا اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا تھا۔

اے سی ایل یو سمیت دیگر تنظیموں اور 20 ریاستوں نے صدر ٹرمپ کے ایمرجنسی اختیارات کو اس طرح استعمال کرنے کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا۔

ماحولیاتی تنظیموں نے دیوار کی تعمیر کے خلاف مہم بھی چلائی، ان کا دعوی ہے کہ اس سے جنگلی حیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

فروری میں کانگرس نے ریاست ٹیکساس میں ریؤ گرانڈے ویلی میں ابتدائی طور پر باڑ لگانے کے لیے 1.38 ارب ڈالر مختص کیے تھے جو صدر ٹرمپ کے مطالبے سے بہت کم رقم تھی۔

امریکی ایوان بالا دیوار کے منصوبے کے لیے مزید فنڈز کی منتقلی کو روکنے کی خاطر قانونی چارہ جوئی کر رہی ہے۔

اسی بارے میں