دبئی کے امیر شیخ المکتوم اور ان کی مفرور بیوی کے درمیان لندن میں قانونی جنگ کا آغاز

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دبئی کے امیر شیخ محمد المکتوم اپنی اہلیہ شہزادی حیا بنت الحسین کے ہمراہ

دبئی کے امیر اور ان کی بیوی کے درمیان بچوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے لندن میں عدالتی جنگ شروع ہو رہی ہے۔

امیر شیخ محمد المکتوم اور ان کے بیوی حیا بنت الحسین شاہی خاندان کی تیسری خاتون ہیں جو کہ متحدہ عرب امارات سے جان بچانے کے لیے فرار ہوئی ہیں۔

ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ لندن میں کسی نامعلوم مقام پر اپنی جان کے ڈر سے چھپی ہوئی ہیں۔ شہزادی حیا کے قریبی ذرائع کے مطابق انھیں خوف ہے کہ انھیں اب بھی اغوا کر کے دبئی کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

برطانیہ میں ہونے والا مقدمہ ان کی اولاد کے متعلق ہے جو شہزادی حیا کے ساتھ ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’زندگی کو خطرہ‘، دبئی کے حکمران کی اہلیہ لندن میں

دبئی کے امیر کی بیٹی شیخہ لطیفہ کہاں گئیں؟

’لاپتہ‘ اماراتی شہزادی کی تصاویر شائع کر دی گئیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادی حیا کے قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے

شہزادی حیا ابتدائی طور پر پناہ لینے جرمنی چلی گئیں تھیں۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ لندن کے کینسنگٹن پیلس گارڈنز میں آٹھ کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈز مالیت کے ایک گھر میں رہ رہی ہیں۔

خیال ہے کہ شہزادی حیا برطانیہ میں رہنا چاہتی ہیں۔ تاہم ان کے شوہر کی جانب سے ان کی واپسی کے مطالبے کی صورت میں یہ معاملہ برطانیہ کے لیے سفارتی سطح پر درد سر بن سکتا ہے کیونکہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات کے آپس میں گہرے تعلقات ہیں۔

جب وہ دبئی سے فرار ہوئی تھیں تو شیخ المکتوم نے غصے میں ایک نظم لکھ کر اپنے انسٹاگرام کے صفحے پر پوسٹ کی تھی جس میں انھوں نے ایک نامعلوم خاتون کی بے وفائی کا ذکر کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادی حیا ڈورسیٹ کے برینسٹن سکول اور آکسفورڈ کی تعلیم یافتہ ہیں

شہزادی حیا کون ہیں؟

شہزادی حیا مئی 1974 میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد اردن کے بادشاہ حسین تھے اور ان کی والدہ ملکہ عالیہ الحسین تھیں اور وہ صرف تین سال کی تھیں جب ان کی والدہ ملک کے جنوب میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

اردن کے موجودہ بادشاہ عبداللہ دوئم ان کے سوتیلے بھائی ہیں۔

شہزادی حیا بچپن میں ایک طویل عرصہ برطانیہ میں رہ چکی ہیں۔ انھوں نے آکسفرڈ یونیورسٹی سے سیاست، معاشیات اور فلسفے کی مشترکہ ڈگری (پی پی ای) حاصل کرنے سے قبل برسٹل کے بیڈمنٹن سکول اور ڈورسٹ کے برائنسٹن سکول سے تعلیم حاصل کی۔

اس سے قبل وہ انٹرویوز میں بتا چکی ہیں کہ انھیں عقاب پالنے، نشانے بازی اور بھاری مشینری کا شوق ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اردن میں بھاری ٹرک چلانے کا لائسنس رکھنے والی واحد خاتون ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شہزادی حیا گھڑ سواری میں بہت مہارت رکھتی ہیں

گھوڑوں کی شوقین شہزادی

شہزادی حیا نے نوجوانی میں ہی گھڑ سواری شروع کی۔ جلد ہی اس کھیل میں ان کی گہری دلچسپی پیدا ہوگئی اور انھوں نے گھڑ سواری کو بطور پروفیشنل ایتھلیٹ اپنا لیا۔ گھڑ سواری کے ان کے کریئر کا سب سے نمایاں لمحہ وہ تھا جب انھوں نے سنہ 2000 کے سڈنی اولمپکس میں اردن کی نمائندگی کی اور اپنے ملک کا پرچم تھاما۔

10 اپریل 2004 کو 30 سال کی عمر میں حیا کی شادی شیخ محمد سے ہوئی جو کہ متحدہ عرب امارات کے وزیرِ اعظم اور نائب صدر اور دبئی کے حکمران ہیں۔ اس وقت وہ 53 سال کے تھے اور شہزادی حیا ان کی چھٹی اہلیہ تھیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان کے مختلف بیویوں سے 23 بچے ہیں۔

حیا کی طرح شیخ محمد بھی گھوڑوں کے شوقین ہیں۔ وہ گوڈولفن نامی گھڑ دوڑ کے اصطبل کے بانی اور مالک ہیں۔

تو ایسا کیا ہوا کہ انھیں دبئی کی پر آسائش زندگی چھوڑنا پڑی اور وہ ’اپنی زندگی کے بارے میں خوفزدہ‘ کیوں ہیں؟

شہزادی حیا کے قریبی ذرائع کے مطابق انھیں حال ہی میں گزشتہ سال شیخ محمد المکتوم کی بیٹی شیخہ لطیفہ کی دبئی میں پراسرار واپسی کے بارے میں کچھ پریشان کن حقائق کا علم ہوا ہے۔

شیخہ لطیفہ نے گزشتہ سال مارچ میں ملک سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن عینی شاہدین کے مطابق وہ جس کشتی میں بھاگ رہی تھیں سکیورٹی اہلکار اسے روک کر انھیں زبردستی واپس دبئی لے آئے تھے۔

اس واقعے نے بین الاقوامی ہیومن رائٹس تنظیموں میں کافی تشویش پیدا کر دی تھی اور انھوں نے اماراتی حکومت سے کہا تھا کہ وہ شہزادی کے محفوظ ہونے کو ثابت کریں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں