جوہری ہتھیاروں کی روک تھام: نیٹو کی کوشش ’ہتھیاروں کی نئی دوڑ سے بچنا ہے‘

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ چین اور روس سے بات کر چکے ہیں اور دونوں ہی اس حوالے سے 'بہت، بہت پرجوش ہیں'۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے نئے جوہری معاہدے پر چین اور روس دونوں دستخط کریں۔

انھوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر دونوں ممالک سے بات کر چکے ہیں اور دونوں ہی اس حوالے سے 'بہت، بہت پرجوش ہیں'۔

صدر ٹرمپ کا یہ تبصرہ روس کے ساتھ سرد جنگ میں طے پانے والے جوہری معاہدے سے دونوں ممالک کی دستبرداری کے بعد آیا ہے۔

اس معاہدے سے دستبرداری نے ہتھیاروں کی نئی دوڑ کے خدشات کو بڑھاوا دیا ہے۔ سرد جنگ کے دور میں طے پانے والے 'انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز' (آئی این ایف) معاہدے نے 500 سے لے کر 5500 کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری پر پابندی عائد کر دی تھی۔

جمعے کے روز امریکہ کی جانب سے دستبرداری سے پہلے واشنگٹن نے الزام لگایا کہ روس نے ایک نئی قسم کا کروز میزائل بنا کر اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے تاہم ماسکو نے الزام کی تردید کی ہے۔

اس سے قبل نیٹو کے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ ان کے ادارہ امریکی اور روس کے درمیان جوہری میزائلوں کی روک تھام سے متعلق معاہدے سے دستبرداری کے بعد ہتھیاروں کی نئی دوڑ سے بچنے کی کوشش کرے گا۔

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولنبرگ اور امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سرد جنگ کے معاہدے کے خاتمے کے لیے روس کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔

نیٹو اور امریکہ نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک نئی قسم کا میزائل بنا کر معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس کی روس نے تردید کی ہے۔

یہ معاہدہ سنہ 1987 میں سابق امریکی صدر رونلڈ ریگن اور سابقہ سوویت یونین کے سربراہ میکائل گورباچوف کے درمیان طے پایا تھا تاہم تیس سال سے زیادہ عرصے بعد اس کے خاتمے سے اسلحے کی نئی دوڑ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’امریکہ روس پر بھروسہ کر سکتا ہے، نہ ہی کرے گا‘

روس کی جنگی مشقیں تین لاکھ فوجی شریک

’جوہری جنگ رکوانے والا‘ روسی ہیرو چل بسا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایس ایس سی 8/9 ایم 729 کروز میزائل

امریکیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس بات کے شواہد ہیں کہ روس نے 9 ایم 729 نامی میزائل (جنھیں نیٹو ایس ایس سی 8 کے نام سے جانتی ہے) نصب کر دیے ہیں۔ اس الزام کو پھر نیٹو ممالک کے سامنے رکھا گیا اور تمام نے امریکی دعوؤں کی حمایت کی ہے۔

فروری میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر دو اگست تک روس معاہدے کی تعین کردہ حدود میں واپس نہ آیا تو امریکہ اس سے دستبردار ہو جائے گا۔

اس کے فوری بعد روسی صدر پوتن نے معاہدے کی اپنے ملک پر لاگو تمام ذمہ داریوں کو بھی معطل کر دیا تھا۔

خطرات کیا ہیں؟

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اس طرح جوہری جنگ کے خلاف ایک اہم ترین پیش رفت ’رول بیک‘ ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے بلسٹک میزائلوں کا خطرہ کم نہیں بلکہ بڑھنے کا امکان ہے۔‘ اس کے علاوہ انھوں نے تمام فریقوں کو ’بین الاقوامی آرمز کنٹرول کے لیے نیا متقفہ راستہ‘ تلاش کرنے کی تائید بھی کی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ ناکام ہو جاتا ہے تو روس، امریکہ، اور چین کے درمیان ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو جائے گی۔

عسکری امور کے ایک روسی ماہر پیول فلیگنہاور نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اب چونکہ یہ معاہدہ ختم ہو رہا ہے ہم نئے ہتھیاروں کی تیاری اور انھیں نصب کرنے کا عمل دیکھیں گے۔‘

گذشتہ ماہ نیٹو کے سربراہ جینز سٹولٹنبرگ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ روسی میزائل جو کہ اس معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہیں، انتہائی چھوٹے سائز کے، جوہری ہتھیار لے جانے کے قابل، موبائل اور انتہائی مشکل سے پکڑے جانے والے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ میزائل منٹوں میں یورپی شہروں تک پہنچ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ آئی این ایف معاہدہ کئی دہائیوں سے ہتھیاروں کے کنٹرول کے سلسلے میں اہم ترین ستون تھا اور اب ہم اس معاہدے کا ختم ہونا دیکھ رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس بات کے بالکل کوئی شواہد نہیں ہیں کہ روس اس معاہدے کی پاسداری کرے گا اور ہمیں اس معاہدے کے بغیر رہنے اور مزید روسی میزائلوں والی دنیا میں رہنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

نیٹو کے ردِعمل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ حتمی تاریخ کے بعد ہی دیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ نیٹو کا اپنے زمینی جوہری میزائلوں کو یورپ میں نصب کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم روایتی فضائی اور میزائل دفاع کا نظام اور نئی مشقیں سب ردِعمل کا حصہ ہو سکتی ہیں۔

’انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز ٹریٹی‘ ہے کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
  • یو ایس ایس آر اور امریکہ کے درمیان 1987 میں طے پایا۔ یہ آرمز کنٹرول کا وہ معاہدہ تھا جو کہ تمام کم اور درمیانے فاصلے تک مارک کرنے والے جوہری اور غیر جوہری میزائلوں کو تیاری کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ اس میں وہ میزائل شامل نہیں جو کہ سطح آب سے لانچ کیے جاتے ہیں۔
  • امریکہ کو 1979 میں سویت یونین کے ایس ایس 20 میزائل نظام کے نصب کرنے کے حوالے سے خدشات تھے اور انھوں نے جواب میں پرشنگ اور کروز میزائل یورپ میں نصب کیے جس کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے
  • 1991 تک 2700 میزائلوں کو تلف کیا جا چکا تھا
  • دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی انسٹالیشنز کا جائزہ لینے کی اجازت تھی

تجزیہ: ایسے معاہدہوں کا کوئی فائدہ نہیںجانتھن مارکس، بی بی سی کے سکیورٹی نامہ نگار

آئی این ایف معاہدے کا ترک کیا جانا ہتھیاروں کی روک تھام کے حامیوں کے لیے ایک بہت بڑا سیٹ بیک ہے۔ یہ واحد معاہدہ ہے جس نے جوہری ہتھیاروں کی ایک پوری کیٹیگری ممنوع کر دی تھی۔

یہ ایک ایسے وقت پر ترک کیا جا رہا ہے جب امریکہ کے خیال میں روس دوبارہ ابھر رہا ہے اور وہ اسے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔

ماسکو اور واشنگٹن کے خیال میں ایسے معاہدہوں کا کوئی فائدہ ہے۔

سرد جنگ کے دور کا اہم ترین معاہدہ، نیو سٹارٹ ٹریٹی، جو کہ طویل رینج کے میزائلوں پر پابندی لگاتا ہے فروری 2021 میں ختم ہو رہا ہے۔ اس کی تجدید بھی اب یقینی نہیں ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ہتھیاروں کی روک تھام بظاہر اتنا اہم نہیں تھا۔

اب کیونکہ خطرہ بڑھ رہا ہے تو ہتھیاروں کے روک تھام کے معاہدے استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتے تھے۔

اس کے بجائے ہتھیاروں کی روک تھام بالکل اسی وقت مشکلات کا شکار ہے جب مصنوعی ذہانت اور ہائیپر سونک میزائلوں جیسی ٹیکنالوجی تیار کی جا رہی ہے۔


یہ مسائل پیدا کیسے ہوئے؟

سنہ 2007 میں روسی صدر پوتن نے کہا تھا کہ یہ معاہدہ روسی مفاد میں نہیں رہا۔

انھوں نے ایسا ایک ایسے وقت پر کہا تھا کہ جب صدر بش نے 2002 میں ہلسٹک میزائل شکن معاہدے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا تھا۔

سنہ 2014 میں صدر اوباما نے روس کے زمینی کروز میزائل ٹیسٹ کرنے پر آئی این ایف معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اطلاعات کے مطابق انھوں نے اُس وقت اس معاہدے سے علیحدگی اس لیے نہیں اختیار کی کیونکہ ان پر یورپی رہنمائوں نے دباؤ ڈالا تھا۔

تاہم بعد میں نیٹو نے امریکی الزامات کی حمایت کر دی اور روس پر باضابطہ طور معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔

اسی بارے میں