بحیرۂ احمر کا ڈائیونگ ریزورٹ: سوڈان کا سیاحتی مقام جو کبھی اسرائیلی جاسوسوں کا اڈہ تھا

عروس ریزورٹ
Image caption عروس ریزورٹ

عروس سوڈان کے صحرائی علاقے میں بحیرہِ احمر کے ساحل پر ایک انتہائی پرامن تفریحی ریزورٹ ہے مگر یہ مسحورکن ریزورٹ اسرائیلی جاسوسوں کے لیے ایک خفیہ مشن کا بیس بھی رہا ہے۔ انھی واقعات پر مبنی فلم ’ریڈ سی ڈائیونگ ریزورٹ‘ بھی حال ہی میں نیٹفلکس پر ریلیز کی گئی ہے مگر شاید اس جگہ کی اصل کہانی فلم سے بھی زیادہ شاندار اور حیران کن ہے۔

ایک چمکدار پمفلٹ دعویٰ کرتا ہے ’بحیرہِ احمر پر واقع عروس، ایک الگ ہی شاندار دنیا۔۔۔ سوڈان میں غوطہ خوری اور صحرائی تفریح کا مرکز۔‘

تصاویر میں ساحل پر سورج کی روشنی میں چمکتے رنگ برنگے مکان نظر آتے ہیں۔ ایک جوڑا غوطہ خوری کا سامان پہننے مسکرا رہا ہے۔ نایاب مچھلیوں کی تصاویر کے ساتھ دنیا کے شفاف ترین ساحلی پانیوں کی تشہیر کی جا رہی ہے۔ بروشر کا مصنف لکھتا ہے کہ رات ہوتے ہی آسمان پر دمکتے لاکھوں ستارے جنت کا نظارہ پیش کرتے ہیں۔

بہترین کورل ریف اور ایک قدیم ڈوبی ہوئی کشتی کے ساتھ بظاہر عروس گاؤں غوطہ خوری کا شوق رکھنے والوں کے لیے کسی خواب سے کم نہیں۔

یہ پمفلٹ ہزاروں کی تعداد میں چھپے اور یورپ کے مختلف ٹریول ایجنٹس کو دیے گئے۔ خارطوم اور جنیوا کے دفاتر میں یہاں کے لیے بکنگ کی جانے لگی اور وقت کے ساتھ ساتھ سینکڑوں سیاح یہاں جانے لگے۔

سفر بہت طویل تھا مگر جب سیاح اس نخلستان میں پہنچ جاتے تو انھیں اولین درجے کی سہولیات، تازہ ترین کھانے اور شراب میسر ہوتی۔ اس ریزارٹ کی وزٹرز بک میں باندھے گئے تعریفوں کے پُل اس بات کا ثبوت دیتے ہیں۔

عروس پمفلٹ
Image caption عروس کا پمفلٹ

سوڈان کا انٹرنیشنل ٹوئرسٹ کارپوریشن بھی خوش تھا۔ اس نے یہ مقام خود کو یورپی کاروباری شخصیات کہنے والے ایک گروہ کو کرائے پر دیا اور ان کی کوششوں سے ملک میں پہلے غیر ملکی سیاح آ رہے تھے۔

ایک انتہائی غیر معمولی مشن

مگر ایک بات یہاں آنے والے سیاحوں اور مقامی حکام کو نہیں معلوم تھی: ریڈ سی ڈائیونگ ریزورٹ ایک فریب تھا۔ دراصل اس کے پیچھے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ تھا۔

لیکن موساد نے اسے ایک انتہائی غیر معمولی مشن کے لیے استعمال کیا: سوڈان کے پناہ گزین کیمپوں میں پھنسے ہزاروں ایتھوپیائی یہودیوں کو نکال کر اسرائیل لے جانا۔

اسرائیلیوں کے لیے سوڈان ایک دشمن ملک تھا جو کہ عرب دنیا سے منسلک تھا اور یہ کام صرف رازداری کی بنیاد پر چل سکتا تھا، یعنی سوڈان یا اسرائیل میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔

یہ آپریشن اس قدر خفیہ رکھا گیا کہ اس کے بارے میں صرف ان لوگوں کو پتا تھا جو کہ آپریشن میں براہِ راست طور پر ملوث تھے۔ ان ایجنٹوں کے گھر والوں کو بھی اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔

عروس ریزورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Raffi Berg
Image caption موساد کے جاسوس دن کے وقت ریزارٹ کے مہمانوں کو ان کشتیوں میں گھماتے اور رات کو انہی میں یہودی پناہ گزینوں کو محفوظ مقامات تک پہنچاتے

ایتھوپیائی یہودی کون ہیں؟

ایتھوپیا کے یہودیوں کا تعلق ’بیتِ اسرائیل‘ نامی برادری سے تھا۔ یہ برادری کہاں سے آئی، اس بارے میں کچھ واضح نہیں۔

کئی صدیوں تک یہی خیال کیا جاتا تھا کہ یہ بنی اسرائیل کی اُس شاخ سے ہیں جو کہ ملکہِ شیبا اور پیغمبر حضرت سلیمان کے ایک بیٹے کے ہمراہ 950 قبل مسیح میں ایتھوپیا آ گئے تھے اور اپنے ساتھ ’آرک آف دی کوویننٹ‘ لے آئے تھے۔

’آرک آف دی کوویننٹ‘ اس طلائی صندوق کو کہتے ہیں جس میں یہودی عقیدے کے مطابق پتھر کی وہ دو سلیٹیں رکھی گئی تھیں جس پر حضرت موسیٰ کو خدا کی جانب سے ملنے والے دس احکامات درج تھے۔

ایک اور خیال کے مطابق وہ قدیم اسرائیل میں خانہ جنگی سے بھاگ کر یہاں آئے تھے یا پھر یروشلم میں 586 قبل مسیح میں ایک یہودی عبادت گاہ کے تباہ کیے جانے کے بعد ملک بدر ہو کر یہاں آئے تھے۔

1970 کی دہائی کے ابتدا میں اسرائیل کے مذہبی راہبوں نے اس بات کی سرکاری توثیق کر دی تھی کہ ’بیت اسرائیل‘ یہودیوں کے ان دس لاپتہ قبائل میں سے ایک ہیں جن کا آٹھویں صدی قبل مسیح میں اسرائیل کی سلطنت پر حملے کے بعد سے تاریخ میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔

ایتھوپیا کے یہودی مقدس کتاب تورات کو مانتے ہیں اور یہودی مذہب کا انجیل میں پیش کردہ انداز طرز اپنائے ہوئے ہیں اور ان کی عبادت گاہیں روایتی یہودی عبادت گاہوں یعنی کنیسا سے ملتی جلتی ہیں۔

مگر کئی صدیوں تک یہودیوں سے قطع تعلقی کے بعد وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ دنیا میں واحد یہودی ہیں۔

اِن میں سے ایک فرد، فرید اکلم 1977 میں ایتھوپیائی حکام کو مطلوب تھے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ ملک میں باغیوں کی حمایت کرتے ہیں اور وہ یہودیوں کو اسرائیل جانے پر اکسا رہے ہیں۔

تاہم فرید خوراک کے بحران اور خانہ جنگی سے بچنے کے لیے ہجرت کرنے والے غیر یہودی ایتھوپیائی پناہ گزینوں کے ساتھ سوڈان فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

فرید اکلم تصویر کے کاپی رائٹ AAEJ Archives Online
Image caption فرید اکلم (بائیں)

سوڈان سے نکل کر انھوں نے ریلیف ایجنسیوں کو خط لکھے اور اسرائیل جانے میں مدد مانگی۔ ان میں سے ایک خط موساد کے ہاتھ لگ گیا۔

اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم مناخم بیگن کے خیال میں اسرائیل مشکل میں مبتلا یہودیوں کے لیے غیر مشروط پناہ گاہ تھا۔ مناخم بیگن خود بھی نازی یورپ سے ہجرت کر کے آئے تھے اور بیت اسرائیل بھی اسی زمرے میں آتی تھی۔ انھوں نے فوراً موساد سے کہا کہ وہ آپریشن کریں۔

موساد نے اپنے ایک اہلکار کو حکم دیا کہ وہ فرید کو تلاش کریں اور ایتھوپیائی یہودیوں کو سوڈان سے سمگل کر کے اسرائیل لانے کا انتظام کریں۔

اسرائیلی افسر دانی بتاتے ہیں کہ یہ ایک انتہائی مشکل مرحلہ تھا۔ ’سوکھی گھاس کے ڈھیر میں سوئی تلاش کرنے‘ کے بعد فرید انھیں خرطوم میں ملے اور دونوں نے ایک ٹیم بنا لی۔

فرید نے ایتھوپیا میں اپنی برادری کو پیغام بھیجنا شروع کر دیے کہ اسرائیل جانے کا راستہ سوڈان کے ذریعے ہے اور انھیں بھی وہاں آ جانا چاہیے۔

اس پیشکش میں 2700 سال پرانا خواب پورا کرنے کا لالچ بھی پوشیدہ تھا۔ سنہ 1985 کے آخر تک تقریباً 14000 بیت اسرائیل والوں نے یہ خطرہ مول لیا اور 800 کلومیٹر کا خطرناک سفر پیدل طے کیا۔

سوڈان میں مقیم ایک ایتھوپیائی یہودی خاندان تصویر کے کاپی رائٹ AAEJ Archives Online
Image caption سنہ 1983 میں سوڈان میں مقیم ایک ایتھوپیائی یہودیوں کا خاندان

اس سفر کے دوران تقریباً 1500 یہودی پناہ گزین ہلاک، لاپتہ یا اغوا ہوگئے۔ چونکہ سوڈان جیسے مسلم اکثریتی ملک میں اور کوئی یہودی نہیں رہتے تھے اسی لیے انھوں نے اپنا مذہب چھپا کر رکھا اور مقامی آبادی میں گھل مل گئے تاکہ سوڈانی خفیہ پولیس انھیں پکڑ نہ پائے۔

اس کے باوجود انھوں نے اپنی یہودی روایات اور عبادات نہیں چھوڑیں جیسے کہ یومِ سبت سے پہلے آگ کے شعلے بند کر دینا یا کھانے میں صرف وہ گوشت کھانا جو یہودی قوانین کے مطابق ذبح کیا گیا ہو۔

ریسکیو مشن

چھوٹے پیمانے پر خفیہ آپریشن کا فوراً ہی آغاز ہو گیا اور فرید اور دانی کی نگرانی میں جعلی کاغذات پر خرطوم ہوائی اڈے سے لوگوں کو بھیجنے کا کام شروع کر دیا گیا۔ مگر جیسے جیسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا، یہ بات واضح ہوگئی کہ اس کا کوئی اور حل نکالنا پڑے گا۔

دانی کہتے ہیں ’میں سمندر کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ سوڈان ایتھوپیا کی طرح نہیں تھا جہاں خانہ جنگی اور پہاڑوں کی وجہ سے یہودیوں کو زمینی راستے سے ساحل تک نہیں پہنچایا جا سکتا تھا۔ سوڈان سے اگر ہم بحیرہِ احمر کو استعمال کرتے اور وہاں کشتی پہنچ جاتی تو ہم بڑے پیمانے پر کام کر سکتے تھے۔‘

سوڈان کے ساحل پر ممکنہ لینڈنگ کے علاقوں کی تلاش کے دوران ہی دانی اور ایک اور ایجنٹ کو عروس کا غیر آباد ریزورٹ ملا۔ یہ مقام پورٹ سوڈان سے تقریباً 70 کلومیٹر شمال میں واقع تھا۔

’ہمیں ایک ایسی چیز نظر آئی جو کہ بظاہر ایک سراب تھی۔ ہمیں عمارتیں نظر آئیں جن کی چھتوں پر لال ٹائلیں لگی تھیں۔۔۔ مگر ہم تو سوڈان میں تھے!‘

اس جگہ کے منتظم نے انھیں بتایا کہ ایک اطالوی کمپنی یہاں ریزورٹ چلاتی تھی مگر کچھ سالوں سے یہ بند ہے۔ اس نے دروازے کھول کر انھیں گھمایا پھرایا اور ساری جگہ دکھائی۔

دانی کہتے ہیں ’ہمیں فوراً سمجھ آ گیا۔ اگر ہمیں یہ گاؤں مل جائے تو ہم تو یہاں کے بادشاہ بن جائیں گے پھر ہم کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘

Presentational white space
نقشہ

’ریڈ سی ڈائیونگ ریزورٹ‘

اس کے بعد جو ہوا وہ نیٹ فلکس کی فلم ’ریڈ سی ڈائیونگ ریزورٹ‘ کا موضوع ہے۔

یہ فلم جنوبی افریقہ اور نمیبیا میں عکس بند کی گئی ہے جس کے لیے انھوں نے اسی ریزورٹ کی جیسی ایک آبادی بسائی۔ اس فلم میں موساد کا آپریشن اور سیاحتی مقام دکھایا گیا۔ اس فلم میں مرکزی کردار ’کیپٹن امریکہ‘ کا کردار ادا کرنے والے کرس ایونز کا ہے۔ ان کا کردار دراصل دانی پر مبنی ہے۔

فلم یہ بات واضح کر دیتی ہے کہ یہ اصل واقعات سے صرف متاثر ہو کر بنائی گئی ہے اور ان کی عکاسی نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ فلمسازوں کے پاس کہانی کو موڑنے توڑنے کی کافی گنجائش تھی۔

کچھ سینز میں تو اصل واقعات کی عکاسی کی جا رہی ہے مگر کچھ تو بالکل ہالی وڈ کے کرشمے میں، مثال کے طور پر اس ریزورٹ کے راستے کوئی یہودی نہیں بچائے گئے، وہ تو صرف بہانہ یا کوور تھی۔ اس کے علاوہ فلم کے برعکس امریکیوں کو اس آپریشن کا کچھ پتا نہیں تھا، اور فلم میں تو یہاں تک دیکھایا گیا ہے کہ امریکیوں نے پناہ گزینوں کو ایئر لفٹ کیا (اصل میں یہ کام اسرائیلی فضائیہ نے کیا)۔

سنہ 1974 میں مکمل ہونے والی اطالوی تاجروں کی بنائی ہوئی یہ ریزورٹ لال چھتوں والے 15 بنگلوں کا کلسٹر تھا، جہاں ایک بڑا باورچی خانہ، ایک بڑا ڈائنگ روم تھا جس کا دروازہ ساحلِ سمندر پر کھلتا تھا۔

کوئی انفرا سٹرکچر نہیں تھا یہاں تک کہ رسائی کے لیے سڑک بھی نہیں تھی مگر اطالوی تاجر ایک جینریٹر لائے اور پورٹ سوڈان سے تازہ پانی لاتے۔ پانچ سال تک وہ کامیابی کے ساتھ اسے چلاتے رہے بعد میں سوڈانی حکام سے تنازعات کے بعد انھوں نے ایک اور سال بعد اسے بند کر دیا۔

اس آپریشن میں ملوث ایک ایجنٹ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ جگہ چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے، آگر آپ کی پشت پناہی کے لیے موساد نہ ہو!‘

خود کو ایک جعلی سوئس سیاحتی کمپنی کا ڈائریکٹرظاہر کر کے دانی نے سوڈانی حکام کو اس بات کا قائل کر لیا کہ وہ اس ریزورٹ کو دوبارہ آباد کر سکتا ہے اور سیاحوں کو واپس لا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ ریزورٹ اسے ڈھائی لاکھ ڈالر پر کرائے پر دے دیا۔

پمفلٹ

جعلی ریزورٹ

دانی اور اس کے ٹیم ممبران نے پہلا سال اس کی تعمیرِ نو پر لگا دیا۔ ریزورٹ پر اسرائیل کا بنا ہوا سمگل شدہ ساز و سامان جیسے ایئر کنڈشنر، آؤٹ بورڈ موٹرز، اور بہترین واٹر سپورٹس کا سامان لایا گیا۔

انھوں نے 15 مقامی سٹاف جیسے ویٹر، ڈرائیور وغیرہ کو نوکری پر بھی رکھا۔ ایک باورچی کو مقامی ہوٹل سے توڑا گیا۔ موساد اہلکار کا کہنا ہے کہ ہم نے انھیں دوگنی تنخواہ دی۔ سٹاف میں سے کسی کو ریزورٹ کا اصل مقصد معلوم نہیں تھا یا کہ ان کے گورے باس موساد کے ایجنٹ ہیں۔

خواتین کو روزمرہ آپریشنز کا انچارج بنایا گیا کیونکہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس سے شکوک میں کمی آئے گی۔

غوطہ خوری کے ساز و سامان کے سٹور روم میں کسی سٹاف والے کو جانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس میں خفیہ ریڈیو سامان رکھا گیا تھا جسے ایجنٹ تل ابیب سے بات کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

دن بھر مہمانوں کی دیکھ بھال کرنے کے بعد رات کے اندھیرے میں ایک ٹیم 900 کلومیٹر دور غیداریف کے مقام پر اکٹھی ہوتی۔

قبیلے بیت اسرائیل کی ایک ٹیم کو ایتھوپیائی یہودیوں کو کیمپس سے بھگا کر غیداریف لانے کی ذمہ داری دی گئی۔

پہلے ایتھوپیائی یہودیوں کو 24 گھنٹے کا نوٹس دیا جاتا تھا کہ انھیں لے کر جایا جا رہا ہے۔ انھیں یہ نہیں بتایا جاتا تھا کہ کہاں لے جا رہے ہیں، بس یہ سمجھتے تھے کہ یروشلم لے جائیں گے۔

دانی بتاتے ہیں کہ بعد میں انھیں کوئی نوٹس نہیں دیا جاتا تھا کیونکہ بات لیک ہونے کا خطرہ ہوتا تھا۔ ’انھیں بس خاموشی سے اٹھایا جاتا اور کہا جاتا چلو۔‘

وہاں سے ٹرکوں میں ڈال کر درجنوں پناہ گزینوں کو دو روز کی مسافت پر لے جایا جاتا۔ سفر صرف رات کو ہوتا، اور دن بھر وہ چھپ کر بیٹھے رہتے۔

آپریشن کے ابتدائی دونوں میں ٹرکوں کو چیک پوائنٹس سے گزرنا پڑتا مگر ایک واقعے میں جب ایک گارڈ نے ٹرک پر فائر کھول دیا تو یہ راستہ ترک کر دیا گیا۔

جب پناہ گزینوں کو وادی میں اتارا جاتا تو کبھی کبھی وہ یہ سمجھتے کہ انھیں مقدس شہر تک پہنچا دیا گیا ہے اور وہ اتر کر زمین چومتے۔

جب وہ ریزورٹ کے قریب پہنچتے تو اسرائیلی بحریہ کے خصوصی دستے چھوٹی چھوٹی کشتیوں پر آتے اور پناہ گزینوں کو ایک اسرائیلی بحری جہاز پر لے جاتے جو انھیں اسرائیل لے جاتی۔

ایتھوپیائی یہودیوں

ایک اور ایجنٹ نے بھی نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ’سارا وقت ہی خطرہ رہتا تھا۔ ’ہمیں پتا تھا کہ اگر ہم میں سے کوئی بھی پکڑا گیا تو ہمیں خارطوم کے وسط میں ٹانگ دیا جاتا۔‘

یہ آپریشن مارچ 1982 میں روک دیا گیا کیونکہ ٹرانسفر کے دوران سوڈانی فوجیوں نے انھیں دیکھ لیا۔ ان کا خیال شاید یہی ہوگا کہ سمگلرز ہیں اسی لیے فوجیوں نے فائرنگ شروع کر دیا تاہم پناہ گزین بچ کر بھاگ گئے۔

ایتھوپیائی یہودی

اس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ بحری راستے سے لے جانا بہت خطرناک ہے اور نیا پلان بنایا گیا۔ ایجنٹوں سے کہا گیا کہ سی 130 ہرکیولیز طیاروں کے لینڈنگ کے لیے موضوع مقام ڈھونڈا جائے۔ پناہ گزینوں کو خفیہ طور پر ملک سے ایئر لفت کیا جانا تھا۔

ادھر اسرائیلیوں نے ریزورٹ چلانا جاری رکھا اور اب تک تو اس جگہ کا چرچا بھی کافی ہو چکا تھا۔

ایک سابق امریکی مہمان نے بتایا کہ عروس بہت خوبصورت تھا۔ ’انھوں نے یہاں خوبصورت کیبنز بنائے ہوئے تھے، آپ کو کشتیاں ملتی تھیں اور آپ غوطہ خوری کر سکتے تھے۔ زیرِ آب مناظر تو انتہائی دلکش تھے۔‘

’مجھے یاد ہے کہ یورپی سٹاف تو بہت نوجوان تھا اور صحت مند بھی دکھتا تھا۔ کھانے کے وقت لوگ بیٹھ کر یہ بات کر رہے ہوتے تھے کہ کسی نے یہاں ریزورٹ کیوں بنا دیا! اور اس بات کا جواب یہی تھا کہ یہ جگہ اس قدر خوبصورت ہے۔ لوگ یہی امید ظاہر کرتے تھے کہ یہ جگہ کامیاب ہو جائے۔‘

ریزورٹ کے مہمانوں میں مصری آرمی کا ایک یونٹ، اور برطانوی سپیشل فورسز کا یونٹ بھی آیا۔ اس کے علاوہ خارطوم میں تعینات غیر ملکی سفارتکار اور سوڈانی حکام بھی آتے اور انھیں کچھ معلوم نہیں تھا کہ ان کے میزبان اصل میں کون ہیں۔

عروس اتنے پیسے بنا لیتا تھا کہ اپنا خرچہ چلا لیتا اور موساد اس بات پر بہت خوش تھی کہ چلو جیب سے خرچہ کر کے ریزورٹ تو نہیں چلانا پڑ رہا۔

محفوظ مقام تک ایئر لفٹ

ادھر دوسری جانب ایئر لفٹ جاری تھا۔ اسرائیلی فضائیہ کے ماہرین نے دوسری جنگِ عظیم کا ایک برطانوی ایئر فیلڈ ڈھونڈ لیا اور مئی 1982 میں پہلی پرواز وہاں رات کے اندھیرے میں اتری جس پر اسرائیلی کمانڈو سوار تھے۔

دانی یاد کرتے ہیں ’بہت سے ایتھوپائیوں نے تو اس سے پہلے بڑے ٹرک نہیں دیکھے تھے تو ان کو ہری لائٹ لہراتے کمانڈو تو خلائی مخلوق معلوم ہوتے تھے۔ وہ جہاز کے اندر جانے سے ڈرتے تھے۔‘

اسرائیلی ایئر کرافٹ سی 130 تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسرائیلی ایئر کرافٹ سی 130

دو مرتبہ ایئر لفٹ کرنے کے بعد موساد کو پتا چلا کہ سوڈانی حکام کو شک پڑ رہا ہے اور انھوں نے طیاروں پر حملہ کرنے کا پلان بنا لیا ہے۔ پھر ٹیم سے کہا گیا کہ وہ کوئی اور لینڈنگ ایریا ڈھونڈیں۔

انھوں نے غیداریف کے قریب مناسب مقامات دیکھے جن میں کم سفر کرنا پڑتا تھا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ یہ لینڈنگ ایریا نہیں تھے، بس کھلا صحرا تھا۔

ایک ایجنٹ کا کہنا ہے ’ان لینڈنگ سٹریپس پر بہت تھوڑی روشنی تھی۔ دو چھوٹی سی انفر ریڈ لائٹیں تھیں۔ سی 130 کے پائلٹوں کو اندھیرے میں انھیں ڈھونڈا پڑتا تھا اور وہ بھی ایک طویل فلائٹ کے بعد۔

’اس کے مقابلے میں اینتبے کی پرواز تو بہت آسان تھی۔‘ اینتبے میں اسرائیلی پائلٹوں نے 1976 میں یوگینڈا میں ایک ہمت مندانہ ریسکیو آپریشن کیا تھا جن اسرائیلی سی 130 بغیر بتائے ایئر پورٹ پر اتر آیا تھا اور 100 لوگوں کو کمانڈوز نے بچا لیا۔

ان پیچیدگیوں کے باوجود 17 خفیہ پروازیں ریڈ ڈائیونگ ریزورٹ کے ایجنٹوں کی نگرانی میں مکمل کی گئیں۔

1984 کے آخر میں سوڈان میں قحط آ گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پناہ گزینوں کو نکالنے کے عمل میں تیزی لائی جائے۔ امریکہ مداخلت اور سوڈانی صدر جعفر نمیری کو ایک بھاری رقم دینے کے بعد اسرائیل نے سوڈان کو اس بات پر قائل کر لیا کہ یہودیوں کو یورپ جانے دیا جائے۔ مگر انھوں نے اس بات کی اجازت صرف اس صورت میں دی کہ انھیں خفیہ طورپر کیا جائے ناکہ عرب ممالک ان پر تنقید نہ کریں۔

ایتھوپیائی یہودیوں کو یہودی بیلجیئن ایئر لائن سے ادھار پر لیے گئے بوئنگ طیارے پر پھر 28 خفیہ ایئر لفٹ آپریشنز کے ذریعے برسلز لے جایا گیا اور پھر وہاں سے اسرائیل۔ اس آپریشن کا نام آپریشن موزم (موسیٰ) رکھا گیا۔

بوئنگ 707 تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایتھوپیائی یہودی بوئنگ 707 پر سوار ہیں

اس حوالے سے اسرائیل میں تو میڈیا بلیک آؤٹ تھا مگر آخر کار خبر باہر آ ہی گئی۔

کہانی منظرِ عام پر آگئی

دنیا بپر کے اخباروں نے یہ کہانی 5 جنوری 1985 کو شائع کر دی اور سوڈان نے فوراً پروازیں بند کر دیں۔ سوڈان نے اس آپریشن میں ملوٹ ہونے سے انکار کر دیا اور ان الزامات کی تردید کی کہ انھوں نے ’ایتھوپیائی صہونی‘ منصوبے کا ساتھ دیا۔

دو ماہ بعد امریکی نائب صدر جارج بش کی براہِ راست درخواست پر ایک آخری خفیہ ایئر لفٹ کی اجازت دی گئی جس میں صدر نمیری نے 492 ایتھوپیائی یہودیوں کو جانے دیا۔ اگرچہ صدر نے اصرار کیا کہ انھیں یورپ لے جایا جائے مگر طیارے کے اڑنے کے بعد سیدھا اسرائیل لے جایا گیا۔

ادھر موساد اپنا ریزورٹ چلاتی رہی اور اسے ایک خفیہ آپشن کے طور پر رکھا گیا۔ ادھر خفیہ آپریشن کے رکنے کے باوجود ایجنٹس کو مہمانوں کا خیال کرنا پڑتا اور ایسٹر کی چھٹیوں میں تو رش کی وجہ سے انھیں اور لوگوں کو بلانا پڑا۔

ادھر فضا بدل رہی تھی۔ صدر نمیری کے خلاف ملک میں احتجاج بڑھنا شروع ہوگیا تھا اور 6 اپریل 1985 کو ان کی حکومت کا تختہ الٹا دیا گیا۔

سوڈانی صدر جعفر نمیری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سوڈانی صدر جعفر نمیری

نئی حکومت نے موساد کے جاسوسوں کو ملک سے نکالنے کو اپنی ترجیح بنا لیا چاہے وہ حقیقی جاسوس تھے یا خیالی۔ موساد کے سربراہ نے ریزورٹ خالی کرنے کا حکم جاری کیا تاہم ایجنٹوں نے یہ بہتر جانا کہ وہ ایسٹر ویک اینڈ کے رش کو فزار کر ہی جائیں۔ پھر انھیں ایک موقع ملا تو انھوں نے ریزورٹ کے سٹاف سے کہا کہ وہ غوطہ خوری کے لیے بہتر مقامات ڈھونڈنے جا رہے ہیں اور اس کام میں انھیں چند روز لگیں گے۔

ایک اور ایجنٹ کہتے ہیں ’ہم چھ کے چھ دو گاڑیوں میں سورج نکلنے سے پہلے ریزورٹ سے نکلے۔ ایک سی 130 ایک ایسے مقام پر اترا جو ہم نے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا تھا۔ ہم اس پر بیٹھے اور گھر آ گئے۔‘

’جب سیاح اٹھے ہوں گے تو انھوں نے خود کو صحرا میں تنہا پایا ہوگا۔ مقامی سٹاف تو تھا مگر گورے سارے چلے گئے تھے۔‘

جب تل آبیب میں سی 130 اترا تو ایئر پورٹ سے وہ انھی سوڈانی گاڑیوں میں نکلے جن پر بیٹھ کر انھوں نے ریزورٹ چھوڑا تھا۔

اور ان کے جانے کے بعد یہ ریزورٹ بند ہی ہو گیا۔

تصویری خاکہ تصویر کے کاپی رائٹ Raffi Berg

آئندہ چھ برسوں کے درمیان اور آپریشن ہوئے جن کے ذریعے کل 18000 بیت اسرائیل یہودیوں کو اسرائیل منتقل کیا گیا۔

جہاں تک بات ہے فرید اکلم کی تو سنہ 1980 میں ان کی شناخت منظرِ عام پر آ گئی تھی اور انھیں اسرائیل سمگل کرنا پڑا تھا۔ جب سنہ 2009 میں ان کا انتقال ہوا تو موساد کے سابق سربراہاں کے علاوہ ہزاروں ایتھوپیائی یہودیوں نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ انھیں آج بھی ایک قومی ہیرو مانا جاتا ہے۔

دانی کہتے ہیں ’وہ میرے لیے ایک بھائی کی طرح تھا۔ اس کے بغیر، اور ایتھوپیائی یہودیوں کی ہمت کے بغیر یہ سب ہو ہی نہیں سکتا تھا۔‘

۔

اسی بارے میں