کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ: مودی حکومت کے خلاف انڈین ہائی کمیشن کے باہر مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ TOLGA AKMEN

انڈین حکومت کی طرف سے ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے خلاف جمعرات کے روز لندن میں انڈین ہائی کمیشن کے سامنے ایک بڑا مظاہرہ ہوا۔

یاد رہے کہ پاکستانی حکومت نے 15 اگست کو انڈیا کے یوم جمہوریہ کو ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا تھا، تاہم لندن میں ہونے والے مظاہرے کی اپیل جنوبی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی درجنوں مختلف تنظیموں نے بھی کر رکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

لندن میں انڈین ہائی کمیشن کے باہر مودی حکومت کے خلاف احتجاج کی تصاویر

نریندر مودی: ’ہم مسئلے ٹالتے ہیں، نہ پالتے ہیں‘

سلامتی کونسل کا اجلاس اور فیصلے کیسے ہوتے ہیں؟

’انڈیا معاملہ وہاں لے گیا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہے‘

مودی کا خطاب کس کے لیے تھا؟

تحریک انصاف حکومت کی جانب سے 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا باقاعدہ اعلان زلفی بخاری نے کیا تھا جو سمندر پار پاکستانیوں کے امور کے لیے وزیر اعظم کے خصوصی مشیر ہیں۔

بی جے پی حکومت کی طرف سے آئین کے آرٹیل 370 کی منسوخی کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے اعلان کے خلاف برطانیہ میں قوم پرست کشمیری تنظیموں کی طرف سے بھی اس مظاہرے میں شرکت کی گئی۔ ان تنظیموں سے منسلک طلبا نے اس حوالے سے منگل کو مظاہرے کی تیاری کی اور اس کے لیے خصوصی بینرز اور تصاویر آوزایں کیں۔

جمعرات کے مظاہرے چند سکھ تنظیموں نے بھی شرکت کی تھی۔ گذشتہ پیر سے انڈین ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرے ہو رہے ہیں، تاہم منتظمین کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کے مظاہروں میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

اس موقع پر مظاہرین کی متوقع تعداد اور کسی ہنگامی صوت حال کے خدشے کو مد نظر رکھتے ہوئے شہر میں میٹروپولیٹن پولیس کی بڑی نفری تعینات کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ SANA MUFTI/EPA

’میری جان کو خطرہ ہے‘

ادھر گذشتہ روز جموں اور کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا جاوید (جن کا گھر پر نام ثنا ہے) نے دعویٰ کیا ہے کہ حکام نے انھیں بھی حراست میں لے لیا ہے۔

التجا جاوید مفتی کا کہنا ہے کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے کشمیر میں ایک غیر انسانی اور بے مثال نوعیت کا بلیک آوٹ کیا جا چکا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’میں کسی سیاسی جماعت سے منسلک نہیں اور ہمیشہ سے ایک قانون پسند شہری ہوں۔ مجھے بھی حراست میں رکھا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے میڈیا سے اس بارے میں بات کی ہے کہ کشمیریوں پر کیا گزر رہی ہے۔‘

اس حوالے سے التجا جاوید نے انڈیا کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُن کو بتایا جائے کہ انھیں کیوں حراست میں رکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے سخت ترین نتائج کی دھمکی بھی دی گئی ہے اگر میں نے میڈیا سے دوبارہ بات کی۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ مجھے اس بات کی سزا کیوں دی جا رہی ہے اگر میں اس بات کی نشاندہی کروں کی اس کرفیو نے کس طرح عام زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے اور میرے ساتھ ایک مجرم جیسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے اور میں ہر وقت زیرِ نگرانی ہوں۔ مجھے اور آواز اٹھانے والے کشمیروں کو اپنی جان کا خطرہ ہے۔ ‘

اسی بارے میں