الہان عمر اور رشیدہ طلیب: اسرائیل نے امریکی کانگریس کی مسلمان اراکین کے داخلے پر پابندی لگا دی

بنیامن نتن یاہو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی دو مسلمان قانون سازوں کے اسرائیل داخلے پر پابندی کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا قانون ایسے لوگوں کو وہاں آنے کی اجازت نہیں دیتا جو اسرائیل کے بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہیں۔

الہان عمر اور رشیدہ طلیب امریکی کانگریس کی پہلی مسلمان اراکین ہیں اور انھوں نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ وہ اگلے ہفتے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کا دورہ کریں گی۔

دونوں کانگریس اراکین نے اسرائیل کے بائیکاٹ کی تحریک کی حمایت بھی کی۔

ان پر عائد کردہ پابندی پر وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل امریکی کانگریس کی عزت کرتا ہے۔ سب کو تنقید کرنے کا حق دیتا ہے لیکن ’اسرائیلی قانون ایسے لوگوں کو ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا جو بائیکاٹ کا مطالبہ کرتے ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیے

امریکی کانگریس کی تاریخ میں پہلی مسلمان خواتین

الہان عمر: گیارہ ستمبر سے متعلق بیان پر تنازعہ

’میسی، اسرائیل کے خلاف میچ میں شریک نہ ہوں‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اسی طرح ہے جیسے جمہوری ملک ایسے لوگوں کو آنے کی اجازت نہیں دیتے جو انھیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

اسرائیل کے اس اقدام پر الہان عمر کا کہنا تھا کہ یہ جمہوری اقدار کے لیے باعثِ توہین ہے۔ ’ایک دوست ملک کے سرکاری عہدیداروں کے دورے پر (اسرائیل کی جانب سے) یہ ایک بُرا ردِعمل ہے۔‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند دن پہلے مطالبہ کیا تھا کہ الہان عمر اور رشیدہ طلیب کے اسرائیل داخلے پر پابندی عائد کی جائے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ یہ دونوں قانون ساز ’اسرائیل اور یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں اور ایسا کچھ کہا یا کیا نہیں جا سکتا جس سے ان کے خیالات بدلے جا سکیں۔‘

پابندی کیوں لگائی گئی؟

اسرائیل کی مبینہ ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر الہان عمر اور رشیدہ طلیب پر یہودی مخالف ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

اسرائیل کا قانون ایسے غیرملکیوں کو ملک میں داخلے کی اجازت اور ویزا نہیں دیتا جو اسرائیل کے معاشی، ثقافتی یا تعلیمی بائیکاٹ کی بات کرتے ہیں۔

اس قانون کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیل کے بائیکاٹ کی تحریک کو روکا جائے، جسے یورپ اور امریکہ میں بڑھتی حمایت حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسرائیلی قانون ایسے غیرملکیوں کو ویزا نہیں دیتا جو اسرائیل کے معاشی، ثقافتی یا تعلیمی بائیکاٹ کی بات کرتے ہیں

اسرائیلی حکام نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ اس قانون میں امریکہ کے منتخب عہدیداروں کے لیے نرمی لائیں گے۔ لیکن پھر وہ اس بات سے پیچھے ہٹ گئے۔

دورے کا مقصد

امریکی میڈیا کے مطابق الہان عمر اور رشیدہ طلیب کے دورے کا آغاز اتوار کو ہونا تھا اور انھوں نے یہاں کے تاریخی اور حساس مقامات پر جانا تھا۔ ان مقامات میں یروشلم کی پہاڑی چوٹی بھی شامل ہے جسے مسلمان حرم شریف اور یہودی ٹیمپل ماؤنٹ کہتے ہیں۔

انھوں نے اپنے دورے کے دوران اسرائیل اور فلسطین کے پُرامن کارکنان سے ملنا تھا اور یروشلم کے ساتھ ساتھ بیت لحم، رام اللہ اور بیت الخلیل سمیت مغربی کنارے کے دوسروں شہروں میں جانا تھا۔

اس دورے کا منصوبہ مفتاح نامی فلسطینی امن پسند تنظیم نے بنایا تھا جس کے سربراہ ہنان اشراوی ہیں۔

رشیدہ طلیب کا ارادہ تھا کہ وہ دو دن مزید رُک کر اپنی دادی سے ملیں گی جو ایک فلسطینی گاؤں میں رہتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رشیدہ طلیب کا ارادہ تھا کہ وہ دو مزید دن رُک کر اپنی دادی سے ملیں گی جو ایک فلسطینی گاؤں میں رہتی ہیں

پابندی پر رد عمل

اسرائیل میں امریکی سفیر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ’اسرائیلی حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کرتا ہے جس میں داخلی پابندی لگائی گئی‘۔

امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے کہا کہ اسرائیل ’ان کارکنان سے اپنی سرحد کی حفاظت کرنے کا حق رکھتا ہے جس طرح وہ روایتی ہتھیار لانے والوں کو روکتا ہے۔‘

پابندی کے خلاف ریپبلیکن پارٹی کے سینیٹر مارکو روبیو نے کہا کہ وہ ان خواتین سے اختلاف رکھتے ہیں لیکن انھیں اسرائیل آنے سے روکنا ایک غلطی ہے۔

اسی طرح امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’میں ٹرمپ کے ان غلط اقدام کی مذمت کرتا ہوں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ یہودی مخالف ہونے کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنانا غلط ہے۔

اسی بارے میں