باپ کو قتل کرنے والی گھریلو تشدد کا شکار تین بہنیں روس میں مرکزِ نگاہ

روس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption والد کے قتل کے وقت اینجلینا (بائیں) 18 سال، ماریہ (درمیان) 17 سال جبکہ کرسٹینا (دائیں) 19 سال کی تھیں

جولائی 2018 میں روس کے دارالحکومت ماسکو کے ایک فلیٹ میں تین نوعمر بہنوں نے چاقو اور ہتھوڑے کے وار کر کے اپنے والد کو ہلاک کر دیا۔

اس کیس میں ہونے والی تفتیش سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ ان لڑکیوں کے والد نے گذشتہ کئی برسوں سے اپنی بیٹیوں کے ساتھ جسمانی اور نفسیاتی تشدد روا رکھا ہوا تھا۔

یہ بہنیں اب قتل کے الزام کی زد میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سگے باپ کو قتل کرنے والی لڑکی رہا

روسی مائیں اپنے ہی بچوں کو کیوں قتل کر رہی ہیں؟

کِرنجیت: تشدد سے تنگ آ کر شوہر کو جلا دینے والی خاتون

روس میں آج کل موضوعِ بحث یہ ہے کہ اب ان بہنوں کا کیا کیا جائے؟ اب تک تین لاکھ سے زائد افراد ان کی رہائی کی پیٹیشن پر دستخط کر چکے ہیں۔

والد کے ساتھ کیا ہوا؟

27 جولائی 2018 کی شام 57 سالہ میخائل کھچاچرین نے یکے بعد دیگرے اپنی بیٹیوں کرسٹینا، اینجلینا اور ماریہ کو اپنے کمرے میں بلایا۔ اس وقت 17 سالہ ماریہ نابالغ تھیں۔

انھوں نے فلیٹ کی صحیح طریقے سے صفائی نہ کرنے پر انھیں ڈانٹا اور ان کے چہروں پر مرچوں کا سپرے کر دیا۔

اس واقعے کے فوراِ بعد جب لڑکیوں کے والد سو گئے تو تینوں بہنوں نے ان پر چاقو، ہتھوڑے اور مرچوں کے سپرے سے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں ان کے سر، گردن اور سینے پر مہلک زخم آئے۔ ان کے جسم پر چاقو کے 30 سے زیادہ گھاؤ تھے۔

اس کے بعد ان بہنوں نے پولیس کو فون کیا جس نے انھیں فلیٹ سے گرفتار کر لیا۔

اس کے بعد ہونے والی تحقیقات سے جلد ہی یہ پتا چل گیا کہ اس خاندان میں گھریلو تشدد کی ایک پرانی تاریخ ہے۔ گذشتہ تین برسوں میں میخائل اپنی بیٹیوں کے ساتھ نہ صرف باقاعدگی سے مار پیٹ کرتے بلکہ انھوں نے تینوں بہنوں کو قیدی بنا کر رکھا ہوا تھا۔ لڑکیوں کا جنسی استحصال بھی کیا گیا تھا۔

بہنوں پر عائد کی گئی فردِ جرم میں ان کے مقتول والد کے خلاف اس نوعیت کے ثبوت بھی پیش کیے گئے ہیں۔

گھریلو تشدد مرکز نگاہ

یہ کیس جلد ہی روس میں متنازع شکل اختیار کر گیا جس نے عوامی توجہ حاصل کی۔ انسانی حقوق کے کارکنوں نے موقف اختیار کیا کہ لڑکیاں مجرم نہیں بلکہ جرم کا شکار ہیں کیونکہ ان کے پاس اپنے بدسلوک والد سے تحفظ اور بچاؤ حاصل کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔

روس میں گھریلو تشدد کے شکار افراد کی حفاظت کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سینٹ پیٹربرگ میں لڑکیوں کی حمایت میں ہونے والی ریلی میں شرکا نے بینر اٹھا رکھے ہیں جن میں انھیں رہا کرنے کی اپیل کی گئی ہے

سنہ 2017 میں رائج کی جانے والی قانونی تبدیلیوں کے تحت روس میں وہ شخص جو پہلی مرتبہ اپنے کسی خاندان کے رکن پر تشدد کا ارتکاب کرے گا، یہ تشدد اتنا نہ ہو کہ اس کے شکار فرد کو ہسپتال داخل کروانے کی ضرورت پیش آئے، اسے صرف جرمانے یا زیادہ سے زیادہ دو ہفتے کے لیے تحویل میں لیے جانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔

روس میں پولیس گھریلو تشدد کو ایک 'خاندانی مسئلے' کے طور پر دیکھتی ہے اور اس کے تحت شکار فرد کو یا تو بہت تھوڑی اور اکثر اوقات کوئی مدد فراہم نہیں کی جاتی۔

کئی برس قبل ان بہنوں کی والدہ نے اپنے شوہر کی جانب سے کیے جانے والے تشدد کے خلاف پولیس سے مدد کی درخواست کی تھی۔ ایسی ہی درخواستیں ان کے پڑوسیوں نے بھی دیں تھیں جو کہ میخائل سے بہت زیادہ خوفزدہ تھے۔ تاہم ایسے شواہد نہیں ملے کہ ان تمام افراد کو پولیس کی جانب سے کوئی مدد فراہم کی گئی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لڑکیوں کی والدہ کا کہنا ہے کہ میخائل نے انھیں 2015 میں فیلٹ سے بیدخل کر دیا تھا

لڑکیوں کی والدہ بھی ماضی میں اپنے شوہر کے ہاتھوں تشدد اور مار پیٹ کا شکار رہ چکی تھیں۔

جب میخائل کو قتل کیا گیا اس وقت لڑکیوں کی والدہ ان کے ساتھ نہیں رہ رہیں تھیں اور میخائل نے تینوں بہنوں کو اپنی والدہ سے رابطہ کرنے سے روکا ہوا تھا۔

نفسیاتی جائزوں کے مطابق لڑکیاں تنہائی میں رہ رہی تھیں اور تکلیف دہ تناؤ (پی ٹی ایس ڈی) کا شکار تھیں۔

تفتیش میں کیا ہوا؟

ان بہنوں کا کیس رفتہ رفتہ آگے بڑھا۔ اب وہ زیرِ حراست نہیں ہیں لیکن ان پر چند پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ وہ صحافیوں سے بات نہیں کر سکتیں اور نہ ہی ایک دوسرے سے۔

استغاثہ کا اصرار ہے کہ میخائل کا قتل ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہوا کیونکہ وہ سو رہے تھے اور بہنوں نے اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد انتقام تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ان بہنوں کو جون 2019 میں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ زیر نظر تصویر میں اینجلینا کو دیکھا جا سکتا ہے

اگر ان لڑکیوں پر عائد کیے گئے الزامات ثابت ہوئے تو انھیں 20 سال تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ الزامات یہ ہیں کہ اینجلینا کے ہاتھ میں ہتھوڑا تھا، ماریہ کے پاس شکار میں استعمال ہونے والا چاقو جبکہ کرسٹینا کے پاس مرچوں والا سپرے تھا۔

دوسری جانب لڑکیوں کے وکیل کا کہنا ہے کہ انھوں نے یہ اقدام اپنی حفاظت (سیلف ڈیفینس) کے تحت اٹھایا۔ درحقیقت روس میں رائج فوجداری قوانین کے تحت سیلف ڈیفیس کی اجازت نہ صرف فوری جارحیت بلکہ کسی 'مسلسل روا رکھے جانے والے جرم' کے تحت بھی ہے۔ مسلسل روا رکھا جانے والا جرم جیسا کہ یرغمال بنائے جانے کی صورتحال جس میں شکار فرد/افراد کو اذیت دی جاتی ہے۔

وکیل صفائی کا اصرار ہے کہ بہنیں 'مسلسل جرم' کا نشانہ بنی تھیں لہذا انھیں رہا کیا جانا چاہیے۔ ان بہنوں کے وکلا کو امید ہے کہ اس کیس کو خارج کیا جا سکتا ہے کیونکہ تفتیش میں اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ میخائل سنہ 2014 سے اپنی بیٹیوں کو زیادتی کا نشانہ بنا رہا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکن اور بہت سے روسی شہری اب قانون میں تبدیلی چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ریاستی مالی امداد سے چلنے والی پناہ گاہوں، روک تھام کے احکامات اور بدسلوکی اور جارحانہ پن سے نمٹنے کے کورسز بنانے جیسے اقدامات معاشرے میں متعارف کروائے جائیں۔

روس میں گھریلو تشدد کی نوعیت کیا ہے؟

روس میں کتنی خواتین گھریلو تشدد کا شکار ہیں اس بارے میں درست اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں، صرف اندازے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ہر چار خاندانوں میں ایک خاندان گھریلو تشدد کا شکار ہے۔

اس نوعیت کے دیگر کئی بڑے کیسز میڈیا کی زینت بنتے رہے ہیں۔ ایسے کیسز میں مارگریٹا گریشیفا کا کیس بھی شامل ہے جن کے شوہر نے حسد کے باعث کلہاڑی کی مدد سے ان کے ہاتھ کاٹ دیے تھے۔

Image caption شوہر کی جانب سے ہاتھ کاٹے جانے کے بعد سے مارگریٹا گھریلو تشدد پر عوامی اجتماعات میں گفتگو کرتی ہیں

چند ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جیلوں میں قتل کے جرم میں قید خواتین میں سے 80 فیصد خواتین وہ ہیں جنھوں نے اپنے دفاع میں گھریلو تشدد کرنے والوں کو قتل کیا۔

روسی معاشرے کے قدامت پسند حصوں میں ان بہنوں کے خلاف ردعمل بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ مینز سٹیٹ (مردوں کی ریاست) نامی ایک تنظیم 'قوم پرستی' اور 'پدر شاہی' کو اپنا نصب العین قرار دیتی ہے اور سوشل میڈیا پر اس کے ممبران کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہے۔ اس تنظیم نے 'مرڈررز بیہائنڈ بارز' (قاتل سلاخوں کے پیچھے) کے عنوان سے ایک مہم کا آغاز کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ان لڑکیوں کو رہا نہیں کیا جانا چاہیے۔

ایک نجی تنظیم کی جانب سے شروع کی گئی پٹیشن کے علاوہ، جس میں ان لڑکیوں کے خلاف کیس ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے، ان لڑکیوں کی حمایت میں نظمیں لکھی گئی، ریلیاں نکالی گئیں اور تھیٹر میں کھیل پیش کیے گئے۔

ماسکو سے تعلق رکھنے والی ایک کارکن اور حقوق نسواں کی علمبردار ڈاریہ سیرنکو نے جون کے مہینے میں ان بہنوں کی حمایت میں ہونے والی ایک تین روزہ ریلی کے انعقاد میں مدد کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ عوامی تقریبات کا بنیادی مقصد اس کہانی کو خبروں میں زندہ رکھنا اور ہر ایک کو سلامتی سے بات کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ 'روس میں گھریلو تشدد زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ ہم اسے نظر انداز کر سکتے ہیں لیکن یہ ہماری زندگی کو متاثر کرتا ہے اس بات سے قطع نظر کے ہم نے ذاتی طور پر اس کا تجربہ کیا ہے یا نہیں۔'

اسی بارے میں