امریکہ تائیوان ایف 16 معاہدہ، چین کی اقتصادی پابندیوں کی دھمکی

ایف 16 طیارہ تصویر کے کاپی رائٹ Lockheed website
Image caption امریکی فوجی ماہرین کہتے ہیں کہ یہ جہاز تائیوان کے دفاع کے لیے بہت ضروری ہیں

چین نے دھمکی دی ہے کہ اگر واشنگٹن نے تائیوان کے ساتھ جنگی جہاز کی فروخت کا معاہدہ کیا تو وہ ان تمام کمپنیوں پر اقتصادی پابندیاں لگا دے گا جو تائیوان کے ساتھ ایف 16 کی فروخت میں شامل ہیں۔

وزیرِ خارجہ گنگ شوانگ نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسلحے کی فروخت کو روکے اور تائیوان کے ساتھ فوجی معاہدہ ختم کرے۔

امریکی حکومت نے آٹھ ارب ڈالر کے ممکنہ معاہدے کی منظوری دی ہے جس میں 66 جنگی طیارے شامل ہیں۔ یہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑا معاہدہ ہے۔

یہ ممکنہ معاہدہ اس وقت ہو رہا ہے جب چین اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی تجارتی جنگ جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

جس نے تنِ تنہا ایٹمی بحران روک دیا

ٹرمپ کا تائیوان سے رابطہ امریکی پالیسی سے انحراف

شی جن پنگ: ’تائیوان چین میں ضم ہو کر رہے گا‘

ڈونلڈ ٹرمپ چین پر برس پڑے، ٹوئٹر کے ذریعے تنقید

چین تائیوان کو اپنا علاقہ سمجھتا ہے جسے بقول چین کے اس کے ساتھ مل جانا چاہیئے۔ اس کے لیے چین طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

چین ہمیشہ تائیوان اور امریکہ کے درمیان اسلحے کے معاہدے پر تنقید کرتا رہا ہے۔

یو ایس ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے منگل کو ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کے ذریعے کانگریس کو اس معاہدے کے بارے میں مطلع کیا۔

ایک بیان میں اس نے کہا کہ معاہدے میں 66 ایف 16 جہاز، 75 جنرل الیکٹرک انجن اور دوسرے نظام شامل ہیں۔

اس میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ امریکی قومی مفاد میں ہے اور اس سے تائیوان کی سکیورٹی بہتر ہو گی۔

چینی میڈیا کے مطابق وزیرِ خارجہ گنگ شوانگ کہتے ہیں کہ یہ فروخت بین الاقوامی قوانین، بین الاقوامی تعلقات اور ’ون چائنا‘ پالیسی کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت امریکہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ ہے اور اس کے باقاعدہ تعلقات تائیوان سے نہیں صرف چین سے ہونے چاہئیں۔

انھوں نے کہا کہ چین اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، جن میں ان کمپنیوں کے پر اقتصادیاں پابندیاں بھی شامل ہوں گی جو اس معاہدے میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں