امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی جنگ میں تیزی

چین تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین اور امریکہ کے درمیان جاری تجارتی جنگ میں تیزی کے دوران چین امریکہ سے پچہتر ارب ڈالر کی درآمدی اشیا پر دس فیصد ڈیوٹی لاگو کرنے والا ہے۔

ان اشیا میں زرعی اجناس، خام تیل اور چھوٹے طیارے بھی شامل ہیں۔

یہ اقدام صدر ٹرمپ کی طرف سے چین سے درآمد کی گئی تین سو ارب مالیت کی اشیا پر دس فیصد ٹیکس عائد کرنے کے رد عمل میں لیا گیا ہے۔

چین کی طرف سے نئے محصولات پانچ سے دس فیصد تک کے درمیان ہوں گے اور یہ امریکہ سے درآمد کی جانے والے پانچ ہزار اشیا پر لگائی جائیں گی۔

مزید پڑھیے

چین بمقابلہ امریکہ: تجارتی جنگ کا مستقبل کیا؟

امریکہ، چین کی شدت اختیار کرتی تجارتی جنگ

چین امریکی گاڑیوں پر 25 فیصد ڈیوٹی دوبارہ لگانے کا ارادہ رکھتا ہے جو چند ماہ قبل خیر سگالی کے تحت اس وقت اٹھالی گئیں تھیں جب دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے مذاکرات چل رہے تھے۔

گاڑیوں کے صنعت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ چین کی طرف سے یہ ٹیکس لگنے سے امریکہ میں گاڑیوں کی فیکٹریوں میں کام کرنے کے روزگار کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

گاڑیوں کی صنعت کے ایک نمائندے جان بوزیلا نے کہا کہ چین نے سنہ 2017 میں جب پہلی مرتبہ گاڑیوں کی درآمد پر یہ ڈیوٹی لگائی تھی اس وقت امریکی کی گاڑیوں کی برآمدات میں پچاس فیصد کمی واقع ہو گئی تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ امریکی کارکنوں کے ساتھ یہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔

محصولات اور ڈیوٹی کو لگائے جانے سے امریکہ اور یورپ کے حصص بازاروں میں مندی کا رحجان ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اگست کی یکم تاریخ کو چین سے درآمدی اشیا پر دس فیصد ڈیوٹی لگانے کا اعلان کیا تھا اور چین پر الزام عائد کیا تھا کہ چین امریکہ سے زرعی اجناس خریدنے کے اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کر رہا۔

ان ڈیوٹیوں کو یکم ستمبر سے نافذ کیا جانا تھا لیکن بعد ازاں اس تاریخ کو پندرہ دسمبر تک اس خدشے کے پیش نظر بڑھا دیا گیا کہ اس کا اثر کرسمس کی خریداری پر پڑ سکتا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ وہ ان ڈیوٹیوں کا نفاذ دو حصوں میں کرنے کا ارادہ رکھتا ہے پہلے حصے پر یکم ستمبر سے عمل ہو گا اور دوسرا حصہ پندرہ دسمبر سے نافذ العمل ہو گا۔

امریکہ ان ٹیکسوں سے پیدا ہونے والی صورت حال کی شدت کو کم کرنے کے دکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تجارتی معاملات پر امریکی صدر کے مشیر پیٹر نوارو نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ چین کی ڈیوٹیاں کوئی بریکنگ سٹوری نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق چل رہے ہیں اور چین کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات سے امریکہ کو نقصان نہیں ہو رہا۔

انھوں نے کہا کہ صارفین اس سے متاثر نہیں ہو رہے اور ان کی پوری کوشش ہے کہ چین میں اس تجارتی جنگ کا اثر محسوس کیا جائے نہ کہ امریکہ میں۔

انھوں نے مزید کہا کہ معاشی ترقی کی شرح کی ذمہ داری فیڈرل ریزور یا مرکزی بینک پر عائد ہوتی ہے جس پر صدر ٹرمپ نے شرح سود میں بڑے پیمانے پر کمی نہ کرنے پر تنقید بھی کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مرکزی بینک کو ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے شرح سود میں کم کرنی چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں