ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حامیوں کے مظاہرے، پارلیمنٹ بلڈنگ پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا

ہانگ کانگ میں سنیچر کے روز دسیوں ہزار افراد مظاہروں پر عائد پابندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے پولیس کی جانب سےکھڑی کی گئی روکاٹوں کو روندتے ہوئے پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر حملہ کیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس اور آبی توپوں کا استعمال کیا۔ مظاہرین نے پولیس پر پیٹرول بم بھی پھینکے۔

تازہ مظاہروں کی کال ہانگ کانگ میں مکمل جمہوریت کے لیے شروع کی جانے والے مہم کےپانچ سال مکمل ہونے پر دی گئی تھی۔

پولیس نے پچھلے چوبیس گھنٹوں میں احتجاجی مظاہرین کے متحرک رہنما جوشوا وانگ کو گرفتار کیا تھا لیکن بعد اس انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

جوشوا وانگ نے بی بی سی کو بتایا کہ احتجاج لوگوں کا بنیادی حق ہے۔

رواں برس چین کی حکومت کی جانب سے ملزمان کی حوالگی سے متعلق قانون سازی کی کوشش کے بعد ہانگ گانک میں ایک بار پھر مظاہرے شروع ہوئے ہیں جو ہانگ کانگ اور چین کی حکومت کی تمام تر کوششوں کےباوجود تھم نہیں رہے ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پولیس نے مظاہرین پررنگ دار پانی سپرے کیا

سنیچر کے روز ہزاروں مظاہرین چین کی فوج کے ہیڈکوارٹر اور پارلیمنٹ کی بلڈنگ کے باہر جمع ہوئے۔

ہانگ کانگ کے ایڈمرلٹی ضلع میں مظاہرین نے پولیس پر پیٹرول بم پھینکے۔ اس سےپہلے مظاہرین ہانگ کانگ کے رہنما کیری لیم کی رہائش کے سامنے جمع ہوئے۔ کیری لیم ہانگ کانگ میں نفرت کی نشانی بن چکے ہیں۔

پولیس نے تمام سر کاری عمارتوں کے باہر روکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔

پولیس نے مظاہرین پر آبی توپ کے ذریعے رنگ دار پانی پھینکا۔ رنگ دار پانی کی زد میں آنےوالے مظاہرین باآسانی پولیس کی زد میں آ جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کیا ہے

مظاہروں میں شامل ایک بائیس سالہ طالبعلم ایرک نے خبر رساں ادارے روئٹر کو بتایا ’ہمیں مظاہرے نہ کرنے کا بتانا ایسا ہی ہے جیسے ہمیں کہا جائے کہ سانس نہ لو۔ میں سمجھتا ہوں کہ جمہوریت کے لیے جہدوجہد ہمارا فرض ہے۔ شاید ہم جیت جائیں، شاید ہم ہار جائیں لیکن ہم لڑیں گے۔‘

حالیہ مظاہروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کا کوئی رہنما نہیں ہے۔

گذشتہ روز پولیس نے عوام سے کہا تھا کہ وہ متشدد مظاہرین سے اپنے تعلق ختم کریں اور لوگوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ مظاہروں میں شریک نہ ہوں۔

ہانگ کانگ کی جمہوری تحریک کے رہنما جوشو وانگ نے ضمانت پر رہائی کے بعد بی بی سی سے بات کر تے ہوئے کہا کہ مظاہروں کا انتظام کرنا بنیادی حق ہے اور ہانگ کانگ کے لوگ گلیوں میں اکٹھے ہو کر صدر شی جن پنگ اور چین کو بتا رہے ہیں کہ لوگوں کو آواز سنو ۔‘

ہانگ کانگ چین کا حصہ ہے لیکن اسے 2047 تک خصوصی آزادیاں حاصل ہیں۔ ہانگ کانگ میں کئی لوگ ہانگ کانگ کو ایک اور چینی شہر بنتے ہوئے دیکھنے پر آمادہ نہیں ہیں۔

چین نے ہانگ کانگ میں مظاہروں کی مذمت کی ہے ۔

ہانگ کانگ میں مظاہرین کو خدشہ ہے کہ چین مظاہروں پر قابو پانے کےلیے شاید فوج کا استعمال کرے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں