حزب اللہ کے اسرائیلی فوجی اڈے پر راکٹ حملے

لبنان تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایسی تصاویر سامنے آئی ہیں جو بظاہر لبنان کے علاقے ماروان الراس پر اسرائیلی حملوں کے بد کا منظر پیش کر رہی ہیں

لبنان کے عسکریت پسند گروہ حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی علاقے میں متعدد ٹینک شکن راکٹ داغے ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان حملوں میں اسرائیلی فوج کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم اسرائیل نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے اتوار کو کی جانے والی یہ کارروائی گذشتہ ہفتے بیروت میں اسرائیلی ڈرون حملے کا ردعمل قرار دی جا رہا ہے۔

اسرائیل کے فوجی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اُس کے ایک فوجی اڈے اور فوجی گاڑیوں کی جانب راکٹ داغے گئے ہیں اور سرحدی علاقے میں واقع فوجی اڈے پر دو سے تین ٹینک شکن میزائل گرے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شام کے بعد اسرائیل کی ’لبنان میں بھی کارروائی‘

’اسرائیل کا دمشق میں حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو پر حملہ‘

’اسرائیل کی کوششوں کے باوجود جدید راکٹ حاصل کر لیے‘

حسن نصراللہ کے بیٹے ’خصوصی طور پر نامزد کردہ دہشت گرد‘ قرار

حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں اُس کے دو کارکنوں کی ہلاکت کے جواب میں اس حملے میں متعدد اسرائیلی فوجی زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں تاہم اسرائیل نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی۔

حزب اللہ کے حملے کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائی میں جنوبی لبنان میں گولہ باری کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے 100 کے قریب گولے داغے ہیں اور اس کارروائی میں حزب اللہ کی عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کارروائی کا نشانہ لبنان کے تین سرحدی دیہات بنے جہاں سے دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے ہیں۔

حزب اللہ کی جانب سے چلائے جانے والے المنار ٹی وی پر آنے والی خبروں کے مطابق اسرائیلی گولے جنوبی لبنان کے گاؤں ماروان الراس پر گرے اور اس علاقے میں اسرائیلی ہیلی کاپٹر بھی اُڑ رہے تھے۔ لبنانی فوج کے مطابق 40 گولے گاؤں کے گرد کھلے علاقوں میں گرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسرائیل نے لبنان کے ساتھ لگنے والے سرحدی علاقوں میں ٹینک بھیجے ہیں

لبنان کی فوج نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ایک اسرائیلی ڈرون ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور اُس نے سرحدی علاقے میں موجود جنگل میں کچھ آتش گیر مواد گرایا ہے۔ اسرائیل نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اُس نے آگ لگائی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی خبر رساں ویب سائیٹ وائی نیٹ کے مطابق اسرائیل کی دفاعی فورسز آئی ڈی ایف نے مقامی رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت دی ہے اور سرحد کے گرد بلدیہ کو بم شیلٹر کھولنے کا کہا ہے۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اہداف پر حزب اللہ کے حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے صحافیوں کو بتایا کہ حملے میں کوئی اسرائیلی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے ٹوئٹر پر شائع کردہ پیغام میں بھی کہا گیا ہے کہ لبنانی سرحد پر حزب اللہ کی کارروائی میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔

حزب اللہ نے اس حملے میں ایک ٹینک کی تباہی اور اس پر سوار افراد کو ہلاک اور زخمی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسرائیل نے اس کارروائی کے بعد لبنان کے سرحدی علاقے میں بھی گولہ باری کی ہے۔ حزب اللہ کے حامی المیادین ٹی وی کے مطابق تنظیم ’اسرائیلی ردعمل کے لیے تیار تھی۔

المیادین ٹی وی کے مطابق 'مزاحمت نے متناسب اور متوازن راہ اختیار کی اور بات کو بڑھاوا نہیں دیا گیا۔'

عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے وزرائے اعظم نے حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے امریکہ اور فرانس سے معاملے میں دخل اندازی کے لیے کہا ہے جبکہ لبنان میں اقوامِ متحدہ کی نگران فورس نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں