اسرائیل، حزب اللہ کے درمیان جنگ کا فوری خطرہ تو ٹل گیا، لیکن کب تک؟

اسرائیل، حزب اللہ، لبنان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لبنان کے جنوبی شہر مارون الراس کے قریب فائر کا تبادلہ ہوا

اسرائیل اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے مابین حالیہ جھڑپ بھلے ختم ہوچکی ہو یا نہیں، لیکن مستقبل میں ایک بہت ہی تباہ کن جنگ کے اشارے اب بھی موجود ہیں۔

دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے کہ وہ اس جھگڑے کو یہیں روک دیں۔ کوئی بھی ایک مکمل جنگ نہیں چاہتا۔ بہت کچھ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ حزب اللہ کا اسرائیل کی جانب سے اس حالیہ تنازعے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چلی گئی چال پر ردِ عمل کیا ہوگا۔

سرحدوں کے پار سے یہ حملوں کا تبادلہ اسرائیل کی جانب سے بیروت کے علاقہ دحیہ میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر اسرائیلی فضائی حملے کا ردعمل تھا۔

عسکری تجزیہ نگاروں کے پسندیدہ الفاظ میں اس جھڑپ کو بیان کیا جائے تو یہ ’کھیل کے قواعد کی خلاف ورزی‘ ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین 2006 میں ہونے والی جنگ کے بعد سے لبنان کے دار الحکومت پر اسرائیل کا یہ پہلا حملہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حزب اللہ کے اسرائیلی فوجی اڈے پر راکٹ حملے

شام کے بعد اسرائیل کی ’لبنان میں بھی کارروائی‘

اسرائیل کا مغربی کنارے پر گھروں کی تعمیر کا اعلان

خیال کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل نے ایک بڑے مکسر نما صنعتی مشین کو نشانہ بنایا ہے جو کہ میزائلوں اور راکٹوں کے لیے ایندھن بنانے میں اہم تھی۔

اسے ’دی پریسیشن پراجیکٹ‘ کا ایک حصہ تصور کیا جا رہا ہے جو کہ ایران کی جانب سے خطے میں حزب اللہ سمیت اپنے اتحادیوں کو فراہم کردہ میزائلوں کی رینج اور ان کے نشانے میں نکھار لانے کی کوشش ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی حملے کا جواب آنا تو طے تھا اسی لیے اسرائیل نے تمام حفاظتی اقدامات اٹھا رکھے تھے۔ اسرائیل نے سرحدی علاقے میں بمبار دستوں کی تعیناتی، اعلان شدہ فوجی مشقوں کو ملتوی اور خطے میں آسان ہدف بن سکنے والے گشت پر موجود سپاہیوں کو کم کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسرائیل نے میزائل حملوں کے جواب میں لبنان میں تقریباً 100 شیل داغے ہیں

حسب توقع حزب اللہ کا ردِ عمل شدت میں کم نہیں تھا۔

حزب اللہ نے کورنیٹ نامی ٹینک شکن میزائلوں کی ایک تھوڑی سے تعداد ایک اسرائیلی چوکی پر فائر کی اور ایک اسرائیلی بکتر بند ایمبولینس نشانہ بنی۔

حزب اللہ نے فوراً اپنی کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس نے ’ایویویم بیرکس روڈ پر اسرائیل کی ایک فوجی گاڑی کو تباہ کیا ہے جس سے اس کے اندر موجود لوگ ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔‘

اسرائیل اب کہتا ہے کہ اس حملے میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے لیکن ابتدائی طور پر اس نے حملے کی جگہ پر ممکنہ طور پر زخمیوں کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر بھیجا تھا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ہیلی کاپٹر بھیجنا ایک چال تھی تاکہ حزب اللہ اپنی ’کامیابی‘ پر خوش ہو جس سے تناؤ کم کرنے کے لیے کچھ وقت مل سکے۔

کورنیٹ فائر کے جواب میں اسرائیل کا ردِ عمل محدود تھا۔ ایک گن شپ ہیلی کاپٹر نے راکٹ فائر کرنے والی جگہ کو نشانہ بنایا اور اسرائیلی توپ خانوں کی جانب سے دھویں کے شیل فائر کیے گئے۔

تو کیا حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ اپنی اس ’کامیابی‘ پر فخر کریں گے یا دوسرا راؤنڈ بھی شروع کر سکتے ہیں؟

اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرے گا لیکن ایک چیز واضح ہے کہ نہ تو اسرائیل اور نہ ہی حزب اللہ اس وقت جھگڑے کو طول دینا چاہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسرائیل کی جانب سے ہیلی کاپٹر کو اس مقام پر بھیجنا ایک چال تھی تاکہ حزب اللہ مزید میزائل فائر کرنے سے باز رہے

لیکن اسرائیلوں کو کچھ سوالوں کے جواب دینا ہوں گے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ کیا وہ مستقبل میں بھی خطے میں ایرانی کی حمایت سے ترقی پانے والے میزائل پروگرام پر حملے کرے گا یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ کھیل کے نام نہاد قواعد کی خلاف ورزی ہے؟

مگر یہ ظاہر ہے کہ یہ کھیل نہیں ہے اور ’قواعد‘ صرف عارضی ہیں۔ یہاں نہ صرف اسرائیل اور حزب اللہ بلکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے پشت پناہ ایران کے درمیان بھی غیر اعلانیہ جنگ جاری ہے۔

اور اگر جغرافیائی تناظر میں بات کریں تو یہ جنگ اب ایک وسیع محاذ پر پھیلی ہوئی ہے جو لبنان سے لے کر شام میں اندر تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ بھی امکان ہے کہ کسی حد تک عراق میں بھی اسرائیل نے فضائی حملوں کے ذریعے اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

ایران تین سمتوں میں آگے بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’اسرائیل کا دمشق میں حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو پر حملہ‘

’اسرائیل کی کوششوں کے باوجود جدید راکٹ حاصل کر لیے‘

اپنی لڑائی میں لبنان کو استعمال نہ کریں: امریکہ

سب سے پہلے تو ایران چاہتا ہے کہ وہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے لیے اپنی شروع کردہ میزائل سپلائی لائن کو جاری رکھے۔ دوسرا یہ کہ ایران حزب اللہ کے پاس پہلے سے موجود میزائل ٹیکنالوجی کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ تیسرا یہ کہ ایران چاہتا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کو بچانے میں اس کے کردار کی وجہ سے خطے میں اس کے اثرو رسوخ میں جو اضافہ ہوا ہے وہ اسے بنیاد بنا کر خطے میں ایک عسکری قوت بننا چاہتا ہے تاکہ اسرائیل کے خلاف ایک اور محاذ کھولا جا سکے۔

اسرائیل مسلسل ایران پر جوابی حملے کر رہا ہے اور حال ہی میں اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل پر ایرانی پشت پناہی سے ہونے والے ڈرون حملے کو ناکام بنایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارون الراس پر اسرائیلی شیلنگ کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے

اسرائیلی انٹیلیجنس کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت غیر معمولی ہے۔ وہ میزائل قافلوں، سٹوریج ڈپوؤں، ڈرون اڈوں اور صنعتی سائٹس پر حملے کرتا رہتا ہے۔

مگر یہ حکمتِ عملی کی بنیاد پر حاصل ہونے والی کامیابیاں ہیں۔ سٹریٹجک تناظر میں بات کریں تو اس سے ایران کے منصوبے سست رفتار ہوجائیں گے، لیکن ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ ایران اپنی بنیادی حکمتِ عملی میں کوئی تبدیلی کرے گا۔

خطے سے باہر موجود ممالک تہران کی اس سمت کو تبدیل کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ امریکہ واضح طور پر اس پوزیشن میں نہیں ہے۔ اور ماسکو کی خطے میں ایران اور اس کی پراکسیز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے شام کو قائل کرنے کی کوشش کرنے کی یقین دہانیاں صرف سراب ثابت ہوئی ہیں۔

یہ معنی خیز ہے کہ امریکہ، روس اور اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیروں کے مابین جون میں ملاقات کے بعد سے اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں میں تیزی آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسرائیل نے لبنان کے ساتھ لگنے والے سرحدی علاقوں میں ٹینک بھیجے ہیں

اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین غیر اعلانیہ جنگ کی تازہ جھڑپ تو شاید اختتام کو پہنچ گئی ہے لیکن کھینچاتانی اب بھی جاری ہے اور باقاعدہ جنگ کا خطرہ پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکا ہے۔

اسرائیل اور حزب اللہ کی درمیان کشیدگی کی مثال ان پرانی فلموں جیسی ہے جہاں ہیرو کو ایسا بم ملتا ہے جس کا فیوز جل رہا ہے اور وہ پھٹنے سے چند لمحے قبل ہی اس کا فیوز بجھا دیتا ہے۔ اسرائیل اور حزب اللہ کے تنازعے کا فیوز کافی لمبا ہے لیکن کسی کو بھی نہیں معلوم کہ اس فیوز کی لمبائی کتنی ہے۔

اس بار تو دھماکہ ہونے سے پہلے فیوز کو بجھا دیا گیا ہے لیکن جب جب فیوز دوبارہ آگ پکڑتا ہے تو اس کی لمبائی پہلے سے کم ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں