دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں سے ایک، کراکس میں نائٹ لائف کیسی ہے؟

کراکس میں رات کا منظر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کراکس میں قتل کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے

رات ہوتے ہی کراکس ویران ہو جاتا ہے۔ سورج ڈھلنے کے بعد کم لوگ نیم تاریک گلیوں سے گزرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ بس کچھ کاریں اور پیدل مسافر اندھیرے میں تیز گام بھرتے گھروں کی طرف لوٹتے نظر آتے ہیں۔

کسی زمانے میں لاطینی امریکہ کے سب سے جگ مگ کرتے شہر کراکس کی نائٹ لائف معاشی بحران سے متاثر ہوئی ہے اور اب وہاں قتل کی شرح دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

اس کے باوجود اب بھی کچھ شہری ہیں جو زندگی سے لطف اندوز ہونے کے طریقے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔

'یہاں تِل دھرنے کو جگہ نہیں ہوتی تھی'

کراکس کا متمول علاقہ لاس مرسیڈیز روایتی طور پر شہر کا سب سے مصروف حصہ ہے۔

کاروِن سلوا مقامی ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں اوراپنے رفقائے کار کے ساتھ ایک تقریب میں شریک ہیں جو ان کے سند یافتہ ماہر زچہ و بچہ یعنی آبسٹیٹریشین بننے سے پہلے کے 100 دن منانے کی غرض سے ایک مقامی رستوران بشمول میخانے میں، جس کا نام بیریوٹ ہے، منعقد کی جا رہی ہے۔

وینزویلا میں ایسی تقریبات کا انعقاد عام ہے۔ ان کی ایک سہیلی شریک نہیں ہو سکی۔ ناک کے آپریشن کے بعد ابھی ان کے زخم مندمل نہیں ہوئے ہیں۔ معاشی بحران کے باوجود کچھ لوگ اب بھی اپنے خد و خال بہتر بنانے کے لیے پلاسٹک سرجری کرواتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption رات ڈھلتے ہی شہر کی رونق ماند پڑنے لگتی ہے

کاروِن نے رقص میں کچھ توقف کرتے ہوئے کہا، ’ہمارے یہاں آنے کی بڑی وجہ یہاں کی سکیورٹی ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہاں ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔‘

بیریوٹ میں کئی جگہیں ہیں۔ کراکس کے خوش لباس شہری، جو کراکسیونوس کہلاتے ہیں، مہنگی کاروں کے قریب والے داخلی راستے کے پاس اکھٹا ہوتے ہیں۔

بھکاری بچے رقص و سرود کی ان محفلوں کے دلدادہ لوگوں کے گرد منڈلاتے نظر آتے ہیں۔

کلب میں داخلے سے پہلے سب کو سکیورٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ مرد اہلکار مردوں اور خاتون اہلکار خواتین کی تلاشی لیتی ہیں۔ سکیورٹی کے معاملے میں ایک جنون سا پایا جاتا ہے۔

اندر ایک ہجوم ہے اور محفل گرم ہے۔ مگر باقاعدگی سے یہاں کا رخ کرنے والے بتاتے ہیں کہ اب اتنے لوگ نہیں آتے جتنے بحران سے پہلے آتے تھے۔

ایک عورت نے بتایا کہ ’پہلے جگہ ملنا مشکل ہوتی تھی اور اب کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔‘

’پہلے جمعرات کو بھی آپ کو رات کے وقت بہت سے لوگ مل جاتے تھے۔ اب تو یہ جگہ اتنی خالی لگتی ہے۔‘

Image caption کراکس کے ایک رہنے والے کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کے پاس اب بھی کافی دولت ہے

کراکس کے مصروف ترین نائٹ کلب یان سبیسشئن بار میں سنیچر کی رات جا کر اس خیال کو تقویت ملی۔

یہ جگہ تقریباً خالی ہے، گاہکوں سے زیادہ ملازمین نظر آتے ہیں۔

رج کے رقص

ادھر بیریوٹ میں کاروِن اور ان کے دوستوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ مزے سے رم کی ایک بوتل شیئر کر رہے ہیں جو انھوں نے تین 300,000 بولیوار (مقامی کرنسی) یعنی 15 ڈالر میں خریدی ہے۔

یہ ان کی مہینے بھر کی کمائی سے کہیں زیادہ قیمت ہے، لیکن وینزویلا میں دیگر سرکاری ملازمین کی طرح یہ لوگ بھی اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے دوسرے کام کرتے ہیں۔

خواتین و حضرات قدم پھرتی سے لاطینی امریکا کی مخصوص موسیقی پر تھِرک رہے ہیں۔

وہ ایک دوسرے کی تصویریں اتار رہے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے لیے ایسے پوز بنا رہے ہیں جیسے کیٹ واک کر رہے ہوں۔

رات کے تین بجے کے قریب محفل رنگ پر آ جاتی ہے۔

Image caption رقص و سرود کی محفلوں میں وینزویلا کے شہریوں کا قومی پرچم لہرانا معمول ہے

ایموجیز (علامتی اشکال) کے لباس زیب تن کیے رقاص رقص گاہ میں آ کر سب کو ناچنے کی دعوت دیتے ہیں۔

رات جوبن پر آ چکی ہے۔ ایسے میں ایک شخص قومی پرم لہرا دیتا ہے۔

کاغذ کی رنگین پتیوں کی بارش میں کاروِن بتاتی ہیں کہ ’یہاں ہر موقع پر ہی پرچم لہرانے کی روایت ہے۔‘

محوِ رقص قدِ آدم ایموجیز کے ہاتھوں میں بوتلیں ہیں جن سے وہ اہل محفل کے حلق میں براہ راست شراب انڈیلتے جاتے ہیں۔

شدید بحران

تمباکو نوشی کے لیے مخصوص مقام پر موسیقی کا شور کچھ کم ہے اس لیے گفتگو کی جا سکتی ہے۔

ارنیسٹو کہتے ہیں ’غیرملکی ہماری ان شاندار محفلوں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔‘

’انھیں تعجب ہوتا ہے کہ وینزویلا میں اتنے شدید معاشی بحران کے دوران یہ سب کیسے ممکن ہے۔ مگر یہاں اب بھی خصوصاً کراکس میں لوگ کے پاس پیسہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کراکس میں امیر اور غریب نائٹ لائف سے لطف اندوز ہونے کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکال لیتے ہیں

مگر خود ان کے لیے حالات زیادہ اچھے نہیں۔

وہ سرکاری ہسپتالوں کو ادویات فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے مالک ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر اقتصادی پابندیوں کے اعلان کے بعد امریکی سپلائر ان سے لین دین نہیں کرنا چاہتے۔

بیریوٹ سے کچھ فاصلے پر علاقے کا سب سے زیادہ مقبول نائٹ کلب لا کوینتا بار واقع ہے۔

باہر سے یہ بڑا بھڑکیلا نظر آتا۔ اس پر لگی سکرینیں اور نیوآن لائٹس سڑک پر لگی بتیوں سے کہیں زیادہ روشن ہیں۔

ملک میں بہت سی جگہوں کی طرح یہاں بھی داخلے کے لیے امریکی ڈالر دینے پڑتے ہیں۔ یہاں مردوں کے لیے دس اور خواتین کے لیے پانچ ڈالر داخلہ فیس مقرر کی گئی ہے۔

جیب پر منحصر

مگر کراکس میں جو لوگ ان پارٹیوں میں جانے کی مالی استطاعت نہیں رکھتے ان کے پاس دوسرے مواقع ہیں۔

لا مرسیڈیز کے مغرب میں لا پاسترو جیسی مفلس آبادی ہے۔

Image caption سستی جگہوں میں' کوکوئے' نامی ڈرنک زیادہ مقبول ہے۔ یہ شراب اسی پودے سے بنتی ہے جس سے ٹکیلہ کشید کی جاتی ہے

یہ لوگ گلی اور سڑک کے نکڑ پر کھڑے ہو کر سستی شراب کے جام لنڈھاتے اور موسیقی سنتے ہیں۔ یہ اونچے سُر زیادہ تر کسی کار کے سپیکر سے اٹھ رہے ہوتے ہیں۔

کاریں اکثر محفل جمانے کی جگہ فراہم کرتی ہیں۔ کسی پیٹرول پمپ پر کاریں اور بڑی گاڑیاں اچانک موسیقی لگا دیتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگ اکھٹا ہو کر محفلِ رقص و سرود سجا لیتے ہیں۔

پھر لا ٹسکویٹا جیسی جگہیں بھی ہیں جہاں لوگ مقامی موسیقی کی تاپ پر رات رات بھر رقص کرتے ہیں۔ یہاں سستی تفریح کا سامان ہوتا ہے۔

اس میکدے کا آغاز 35 برس پہلے ہوا تھا، اس کے گاہک پکے ہیں۔

یہاں نہ تو غیرملکی شراب ملتی ہے، نہ پیشہ ور گائیک اور نہ روشنی کی چکاچوند۔

وِلسن، جو یہاں کے مالک ہے، ساقی کے فرائض انجام دینے کے ساتھ گانوں کا انتخاب بھی کرتے ہیں۔ زیادہ تر موسیقی جزائرِ غرب الہند کی دھنوں پر مبنی ہوتی ہے۔

اپنے لیپ ٹاپ پر اگلے گانے کا انتخاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ’یہ کاروبار میری ساس نے شروع کیا تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Vanessa Silva.
Image caption جزائرِ غرب الہند کی موسیقی پر لوگ ساری رات محو رقص رہتے ہیں

یہاں کی مرغوب شراب کوکوئے ہے جو کیوڑے سے بنتی ہے۔ یہ وہ ہی پودا ہے جس سے ٹکیلا کشید کی جاتی ہے۔

کوکوئے کی ایک بوتل کی قیمت 14,000 بولیوار یعنی ایک ڈالر سے کم ہے۔

آج لا ٹسکویٹا کے بہت سے گاہک نہیں آئے ہیں۔ انھوں نے سین آگسٹین نامی پہاڑی پر محفل جمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

صبح کے نو بج چکے ہیں اور محفل چل رہی ہے۔

ولِسن نے بتایا کہ وینزویلا کی مخدوش معیشت کے باوجود ان کا کاروبار اچھا چل رہا ہے۔

’لوگ آتے رہتے ہیں۔ ایک جام نوش کرنے کے پیسے تو وہ نکال ہی لیتے ہیں۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں