شام جنگ: ترکی نے شامی مہاجرین کے داخلے پر یورپ کو خبردار کر دیا

شام جنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ترکی نے خبردار کیا ہے کہ اگر شمالی شام کے علاقے میں شامی پناہ گزینوں کے لیے محفوظ زون بنانے کے لئے مزید بین الاقوامی حمایت حاصل نہ ہوئی تو وہ شامی مہاجرین کے یورپ میں داخل ہونے کا راستہ دوبارہ کھول سکتا ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب ارغان نے شام کے شمال مشرق میں ایک محفوظ زون بنانے کے لیے 'لوجسٹکل سپورٹ' کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 'یا تو یہ ہو جائے ورنہ ہم شامی مہاجرین کے لیے یورپ کے دروازے کھولنے پر مجبور ہوجائیں گے'

صدر ارغان نے انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمارا ہدف یہ ہے کہ ہم اپنے شامی بھائیوں میں سے کم از کم ایک ملین کو اس محفوظ خطے میں واپس بھیج سکیں جو ہم اپنی 450 کلومیٹر طویل سرحد کے ساتھ بنائے گے۔'

ان کا کہنا تھا کہ ' ہمیں لاجسٹک مدد فراہم کریں اور ہم شمالی شام کی حدود میں 30 کلومیٹر اندر جاکر مکانات تعمیر کرسکتے ہیں۔'

ترکی شام میں جاری خانہ جنگی سے ہجرت کرنے والے 3.6 ملین سے زیادہ شامی شہریوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ امریکہ نے 'محفوظ زون' کے منصوبے کی حمایت کی ہے۔ لیکن یہ منصوبہ متنازعہ ہے کیونکہ شام کی کرد افواج ترکی سے بہت سے ایسے باشندوں کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں منتقل کرنے سے گریزاں ہیں جن کا اصل میں اس علاقے سے تعلق نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شام میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟

شام: جنگ بندی کے وقفے کے دوران گولہ باری

شام میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟

ترکی میں شامی پناہ گزین بچے تعلیم سے محروم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

کردش پیپلز پروٹیکشن یونٹس نامی نسلی گروہ (وائے پی جی) جسے ترکی ایک دہشت گرد گروہ کے نظر سے دیکھتا ہے نہیں چاہتا کہ ترک افواج اس علاقے میں داخل ہوں۔

امریکی فوج نے شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ (آئی ایس) کے جنگجوؤں کے خلاف وائی پی جی کی حمایت کی تھی۔ شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کا شام میں اثر اب بہت حد تک محدود ہوچکا ہے۔

ادلب سے اخراج

ترکی چاہتا ہے کہ امریکی افواج مشترکہ طور پر بنائے جانے والے اس محفوظ زون میں گشت کریں۔ صدر اردغان کا کہنا تھا کہ 'ترکی ستمبر کے آخری ہفتے تک اسے قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔'

ترک حکام کو یہ بھی خوف ہے کہ شمال مغربی صوبے ادلیب میں بھاری لڑائی مزید پناہ گزینوں کو ترکی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ روسی طیاروں کی مدد سے شامی حکومت کی افواج ادلب میں باغی اور جہادی قوتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ ترکی وہاں کے باغی گروپوں میں سے چند کی حمایت کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہزاروں شہری پہلے ہی ادلب کے شمالی علاقوں سے ترک سرحد کی طرف ہجرت کر چکے ہیں۔

یورپی یونین کے ساتھ سنہ 2016 کے معاہدے کے تحت، ترکی نے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے یورپ جانے والے راستے کو روکنے کے لیے مضبوط نظام نافذ کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت یورپی یونین کا شام کے مہاجرین کی رہائش کے لیے ترکی کو6 بلین یوروز کی امداد فراہم کرنے کا وعدہ شامل ہے۔

صدر اردعان نے شکایت کی کہ ابھی تک صرف 3 بلین یوروز ہی دیے گیے ہیں، حالانکہ اس سے قبل یورپی یونین کے کمیشن کی ترجمان نتاشا برتاؤڈ نے کہا تھا کہ 5.6 بلین یوروز فراہم کیے جا چکے ہیں۔

یونان پر ایک بار پھر دباؤ

سنہ 2016 کے یورپی یونین اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے نے ترکی کے قریب یونانی جزیروں پر شامی پناہ گزینوں کے داخلے سے پیدا ہونے والے بحران کو کم کرنے میں مدد فراہم کی تھی۔

تاہم جزیرے لیسبوس کے علاقے موریا پر تارکین وطن سے بھرے ایک کیمپ میں صورتحال اب بھی کشیدہ ہے۔ نوجوان تارکین وطن کی بدھ کے روز وہاں یونانی پولیس سے جھڑپ بھی ہوئی ہے۔

میڈیسنز سنز فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) نامی امدادی گروپ کا کہنا ہے کہ یورپ میں تحفظ کے متلاشی لگ بھگ 24000 افراد اب 'خوفناک صورتحال میں یونانی جزیروں پر پھنس گیے ہیں۔'

ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ سنہ 2016 کے بعد سے اب تک ان جزیروں پر سمندر کے راستے آنے والے پناہ گزینوں کی اتنی بڑی تعداد دیکھنے کو نہیں ملی جتنی اب ہے اور اس امدادی گروپ کے مطابق لیسبوس پر ایم ایس ایف کے قائم کردہ طبی مرکز میں 100 سے زیادہ بچے پیچیدہ یا دائمی طبی امراض کا شکار ہیں۔

اسی بارے میں