ایران کا جدید تر سینٹری فیوج استعمال کرنے کا اعلان

Iranian President Hassan Rouhani is shown nuclear technology by Atomic Energy Organization of Iran chief Ali Akbar Salehi in Tehran on 9 April 2019 تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ایران کا کہنا ہے کہ اس نے یورنیم افزدوگی کے لیے جدید تیز تر سینٹری فیوجز استعمال کرنا شروع کردیے ہیں۔ ایران کا یہ تازہ اقدام عالمی طاقتوں سے 2015 میں کیے گئے معاہدے سے مزید دور جانے کی ایک اور علامت ہے۔

ایرانی نیوکلیئر ایجنسی کے ترجمان بہروز کمالوندی کا کہنا ہے کہ ایسے 40 جدید سینٹری فیوجز اس وقت آپریشنل ہیں۔ یورینیم افزودگی ریکٹر فیول اور جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے عمل کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

جب امریکہ نے یکطرفہ ایران سے کیے گئے 2015 کے معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے پاپندیاں لگائیں تو جواب میں ایران نے بھی عالمی طاقتوں سے کیے گئے دو وعدوں پر عملدرآمد روک دیا تھا۔

امریکی صدر ٹرمپ ایران پر نئے معاہدے کرنے کے لیے دباو بڑھا رہے ہیں جس کے تحت ایران کے جوہری پروگرام پر ان گنت پابندیوں کے علاوہ اسے بیلسٹک میزائل بنانے سے بھی باز رکھنا ہے۔ تاہم ایران نے اس نئے معاہدے پر مزاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ایران کا سینٹری فیوجز تیار کرنے کا اعلان

’صدر ٹرمپ سے ملاقات کا سوچا بھی نہیں جا سکتا‘

’بات چیت مثبت ہے مگر معاملات طے نہیں ہوئے‘:ایران

برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین اور روس ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے دیگر فریق ہیں جنھوں نے اس معاہدے کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی تیل کی برآمد بری طرح متاثر ہوئی، ایرانی کرنسی گر گئی اور افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

ایران نے کیا کیا ہے؟

ایرانی ایجنسی کے ترجمان کمالوندی نے سنیچر کو نئے اقدامات کے بارے میں تفصیلات بتائی ہیں۔

ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمالوندی نے بتایا کہ ایران کی اٹامک انرجی ایجنسی نے 20 IR-4 اور 20 IR-6 سینٹری فیوجز پر کام دوبارہ شروع کردیا ہے جس سے اعلیٰ کوالٹی کا یورونیم افزودہ کیا جاسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی ضروریات کے مطابق نئے سینٹری فیوجز بنائے جائیں گے۔ انھوں نے یہ وضاحت بھی دی کہ ایران ایک شرط پر اپنے نئے اقدامات سے پیچھے ہٹ سکتا ہے اور اس کا انحصار دوسرے فریقین پر ہے کہ وہ معاہدے پر دوبارہ اس کی روح کے مطابق عمل پیرا ہونا شروع کردیں۔

ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ جوہری امور پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو اجازت دیتا رہے گا کہ وہ اپنا معائنہ جاری رکھیں۔

آئی اے ای اے نے یکم جولائی کو تصدیق کی تھی کہ ایران نے تین سو کلوگرام کی حد سے زیادہ پر یورونیم افزودگی شروع کردی ہے۔

اس اعلان کے چھ دن بعد ہی ایران نے یورینیم افزودگی کا عمل معاہدے کی حد 67۔3 فیصد سے بڑھا کر 5۔4 فیصد شروع کردی تاکہ وہ اپنے بشہیر پاور پلانٹ کے لیے فیول کی پیداوار کو یقینی بنا سکیں۔

عالمی طاقتوں سے کیے گئے معاہدے کی روشنی میں 2026 تک ایران سب سے پرانے اور کم فیول پیدا کرنے والے 5,060 IR-1 سینٹری فیوجز کی حد کو تجاوز نہیں کرسکتا۔

ایران کو ریسرچ اور ڈویلپمنٹ کو اس حد تک اجازت دی گئی ہے کہ وہ ایک خاص حد تک یورونیم کی افزودگی کر سکتا ہے اور IR-6 اورIR-8 جیسے جدید سینٹری فیوجز کا تجربہ بھی کرسکتا ہے جو یورونیم افزودگی کے عمل کو تیز کردیتا ہے۔ سنہ 2024 کے بعد ایران 30 IR-6 سے زیادہ صلاحیت والے سینٹری فیوجز بھی استعمال کر سکتا ہے۔

جدید سینٹری فیوجز اب ایران کے نام نہاد ’بریک آؤٹ ٹائم‘ کو بھی مختصر کردے گا جو وقت جوہری بم بنانے کی تیاری کے لیے درکار ہوتا ہے جس میں وہ اس عمل میں استعمال ہونے والا ایٹمی مادہ پیدا کرتا ہے۔

ایرانی حکام نے فرانس کی طرف سے 15 بلین ڈالر کی تیل کریڈٹ کی آفر کو خوش آمدید کہا ہے جس کے تحت ایران کو 2015 کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنا ہوگا۔

فرانس کی آفر سے ایران دیگر ممالک کی کرنسی بھی رکھنے کے اہل ہوجائے گا۔

ایک سینیئر امریکی اہلکار نے روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اگرچہ امریکہ فرانس کی آفر کوشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن امریکی عہدیدار نے اس آفر کو منظور کرنے سے متعلق امکان کو رد بھی نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں