کیمپ ڈیوڈ: مصر، اسرائیل امن معاہدوں کے لیے مشہور امریکی صدر کی رہائش گاہ

کیمپ ڈیوڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption فلسطینی رہنما یاسر عرفات، امریکی صدر بل کلنٹن اور اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود بارک 11 جولائی 2000 کو کیمپ ڈیوڈ میں خوشگوار موڈ میں

امریکہ کی ریاست میری لینڈ کے جنگلات سے ڈھکے خوبصورت پہاڑوں کے درمیان واقع کیمپ ڈیوڈ نامی صدارتی کیمپ آفس کو وقتاً فوقتاً امریکی صدور کی جانب سے انتہائی اہمیت کی حامل ملاقاتوں، بریفنگز اور چھٹیاں منانے اور ذاتی تقریبات کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ روز ٹوئٹر پر جب طالبان نمائندوں کے ساتھ طے شدہ خفیہ ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کیا تو یہ معلوم ہوا کہ ملاقات کے لیے کیمپ ڈیوڈ کا ہی انتخاب ہوا تھا۔

یہ پورا علاقہ امریکہ کی بحری فوج کے زیرِ انتظام ہے اور اسے ابتدا میں امریکہ کی وفاقی حکومت کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے لیے تیار کیا گیا تھا مگر 1942 میں امریکہ کے صدر فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ، المعروف ایف ڈی آر نے اس جگہ کا انتخاب کیا تاکہ وہ واشنگٹن کی گرمی اور تناؤ بھرے ماحول سے دور کچھ وقت گزار سکیں۔

ویسے تو اس کام کے لیے اس وقت تک صدارتی کشتی یو ایس ایس پوٹومیک استعمال ہوتی تھی مگر دوسری عالمی جنگ کے اپنے عروج پر ہونے کی وجہ سے یہ آپشن قابلِ استعمال نہیں تھا۔ چنانچہ صدر روزویلٹ نے اس انتہائی پرفضا مقام کا دورہ کیا اور اسے صدارتی کیمپ آفس میں تبدیل کرنے کی منظوری دی۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی صدور کی ذہنی صحت: عہدہ اعصاب کا امتحان

صدر ٹرمپ کا مواخذہ کیسے ہو پائے گا؟

امریکی صدر کی مراعات

انھوں نے اس جگہ کو صدارتی رہائش کے قابل بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں اور 1933 میں لکھے گئے جیمز ہلٹن کے ناول ’دی لوسٹ پیراڈائز‘ میں بیان کیے گئے ہمالیہ کے ایک دیومالائی جنت نظیر علاقے کے نام پر شنگریلہ کا نام دیا۔

باضابطہ طور پر ’نیول سپورٹ فیسیلیٹی، تھرمونٹ‘ کہلانے والی اس جگہ کو 1953 میں امریکہ کے صدر ڈوائٹ ڈی آئزن ہاور نے اپنے والد اور اپنے پوتے کے نام پر اس جگہ کا نام کیمپ ڈیوڈ رکھنے کی منظوری دی اور یوں اسے اس کا موجودہ نام ملا۔

کیمپ ڈیوڈ تصویر کے کاپی رائٹ United States National Archive/Eisenhower Library
Image caption صدر ڈوائٹ ڈیوڈ آئزن ہاور نے اپنے والد اور پوتے کے نام پر اس جگہ کا نام کیمپ ڈیوڈ رکھا۔ 1960 میں لی گئی اس تصویر میں ان کے 12 سالہ پوتے ڈیوڈ آئزن ہاور اپنے نام کی تختی کے ساتھ موجود ہیں

اہم ملاقاتیں

دہائیوں سے امریکی صدور نے اس جگہ کو غیر ملکی سربراہانِ مملکت سے ملاقاتوں کے لیے استعمال کیا ہے۔

1943 میں برطانیہ کے وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل وہ پہلے سربراہِ مملکت تھے جنھوں نے کیمپ ڈیوڈ کا دورہ کیا۔ یہ جگہ اس وقت تک شنگریلہ کہلاتی تھی۔ چرچل امریکہ کے دورے پر تھے اور انھیں روزویلٹ اپنے ساتھ یہاں لے گئے تھے۔

یہ واضح طور پر معلوم نہیں کہ اس دوران دونوں سربراہانِ مملکت کے درمیان کیا باتیں ہوئی ہوں گی مگر ان دونوں کی یہاں مچھلی کا شکار کرتے ہوئے ایک تصویر بہت مشہور ہوئی۔

کیمپ ڈیوڈ تصویر کے کاپی رائٹ FDR Presidential Library and Museum
Image caption امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل مئی 1943 میں شنگریلہ (موجودہ کیمپ ڈیوڈ) میں مچھلی کا شکار کر رہے ہیں

اس جگہ کو موجودہ نام دینے والے صدر آئزن ہاور ہی وہ سربراہِ مملکت تھے جنھوں نے امریکہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ یہاں پر کابینہ کی میٹنگ کی۔

اس کے علاوہ انھوں نے یہاں پر روس کے صدر نکیتا خروشیف اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم ہیرالڈ میک ملن کی بھی میزبانی کی ہے۔

1978 کے تاریخی کیمپ ڈیوڈ معاہدے

مگر کیمپ ڈیوڈ کا نام دنیا بھر کے چپے چپے میں اس وقت مقبول ہوا جب امریکہ کے صدر جمی کارٹر کی کوششوں سے یہاں مصری صدر انور السادات اور اسرائیلی وزیرِ اعظم میناکم بیگن کے درمیان ستمبر 1978 میں کامیاب مذاکرات ہوئے جن کا نتیجہ کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کی صورت میں نکلا۔

ان معاہدوں پر 17 ستمبر 1978 کو واشنگٹن میں دستخط ہوئے اور مارچ 1979 میں ان معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں ان دونوں ممالک کے درمیان 31 سالہ جنگ کا اختتام ہوا۔

ان معاہدوں کی وجہ سے 1978 کا نوبیل امن انعام بیگن اور سادات کو مشترکہ طور پر ملا جبکہ 1979 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معاہدے کے تحت اسرائیل نے سینا کا پورا علاقہ مصر کو واپس کر دیا جبکہ مصر نے اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کر لیے۔

کیمپ ڈیوڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption (دائیں سے بائیں) اسرائیلی وزیرِ اعظم میناکم بیگن، امریکی صدر جمی کارٹر اور مصری صدر انور السادات واشنگٹن میں اسرائیل اور مصر کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدوں پر دستخط کے موقعے پر

دلچسپ بات یہ ہے کہ کینٹکی نیو ایرا اخبار نے اگست 1977 میں لکھا تھا کہ جمی کارٹر ہی وہ صدر تھے جنھوں نے ابتدا میں حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے کیمپ ڈیوڈ بند کرنے کا منصوبہ بنایا تھا مگر بعد میں انھی کی وجہ سے کیمپ ڈیوڈ کو عالمی شہرت ملی۔

فلسطینی قیادت اور اسرائیل کے درمیان 1993 کے اوسلو معاہدوں پر عملدرآمد کے حوالے سے جب دونوں فریقوں کو تحفظات پیش آئے تو امریکہ کے صدر بل کلنٹن نے سنہ 2000 میں یاسر عرفات اور اسرائیل کے اس وقت کے وزیرِ اعظم ایہود بارک کو کیمپ ڈیوڈ کا دورہ کرنے اور باہم گفتگو سے اعتماد بحال کرنے کی دعوت دی۔

مگر یہ ملاقات بے نتیجہ رہی اور کیمپ ڈیوڈ کی اس سربراہی ملاقات کے اختتام کے چند ہفتوں بعد ہی فلسطینی عوام کی جانب سے دوسری انتفاضہ تحریک شروع کر دی گئی جو 2005 تک جاری رہی۔

کیمپ ڈیوڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 11 جولائی 2000 کو لی گئی اس تصویر میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات اس وقت کے اسرائیلی وزیرِ اعظم ایہود بارک سے مصافحہ کر رہے ہیں جبکہ اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن انھیں خوشگوار موڈ میں دیکھ رہے ہیں

صدر مشرف کی کیمپ ڈیوڈ آمد

پاکستان کے اب تک وہ واحد رہنما جن کی کیمپ ڈیوڈ میں میزبانی کی گئی، وہ سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف ہیں، جنھیں سنہ 2003 میں امریکی صدر جارج بش نے مدعو کیا تھا۔ اس موقع پر ان کے ساتھ خاتونِ اول بیگم صہبا مشرف بھی تھیں۔

11 ستمبر کے حملوں کے کچھ ہی عرصے بعد ہونے والی یہ ملاقات اس حوالے سے اہم تھی کہ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر بش اور صدر مشرف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ، مختلف غیر عسکری شعبوں مثلاً سائنس و ٹیکنالوجی میں پاک امریکہ تعاون، تعلیمی اصلاحات، اور امریکہ کی جانب سے کروڑوں ڈالر کی تعلیمی امداد کے بارے میں گفتگو کی۔

کیمپ ڈیوڈ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کے سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف نے کیمپ ڈیوڈ میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش سے جون 2003 میں ملاقات کی

شاید اس جگہ کی یہی تاریخی اہمیت ہے جس کی وجہ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پیشروؤں کی طرح کیمپ ڈیوڈ کو افغان طالبان اور افغان صدر سے ملاقات کے لیے چنا۔ شاید وہ یہ چاہ رہے ہوں کہ دنیا 1978 کے کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کے بعد کیمپ ڈیوڈ کو افغان امن عمل کے حوالے سے بھی یاد رکھے۔

مگر فی الوقت یہ لگتا نہیں کہ یہ ملاقات مستقبل قریب میں دوبارہ ہوگی۔ لیکن صدر ٹرمپ جس طرح تمام تر اختلافات بھلا کر شمالی کوریا جا پہنچے، کون جانتا ہے کہ دنیا ایک مرتبہ پھر کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے ایک اور امن معاہدے کی بازگشت سنے؟

۔

اسی بارے میں