افغانستان میں امریکہ کی جانب سے لڑی جانے والی طویل ترین جنگ کا پسِ منظر

امریکی فوجی ہرات تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان طالبان کے ساتھ جاری امن مذاکرات اس وقت اچانک ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جب یہ چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ فریقین امن معاہدے پر متفق ہونے کو ہیں۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکہ افغانستان میں گذشتہ 18 سال سے جنگ کیوں لڑ رہا ہے اور کیا وجوہات ہیں کہ یہ جنگ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی؟

11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے حملوں میں تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ نے ان حملوں کی ذمہ دار القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن پر عائد کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان کے پاس کتنی دولت ہے؟

امریکہ، طالبان امن مذاکرات منسوخ کیوں ہوئے؟

افغانستان میں امریکہ کے 500 ارب لگے یا ایک کھرب؟

حملوں کے وقت اسامہ بن لادن افغانستان میں تھے جہاں طالبان کی حکومت تھی۔ طالبان نے اسامہ کی گرفتاری اور امریکہ حوالگی کے امریکی مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد امریکا نے افغانستان پر حملہ کر دیا۔

طالبان کو پسپا ہونا پڑا مگر وقت گزرنے کے ساتھ انھوں نے خود کو پھر سے منظم کر لیا اور غیر ملکی اور افغان سکیورٹی فورسز کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دیں۔ اس عرصے میں دوسرے ممالک کی افواج بھی امریکی افواج کی مدد کو آ گئیں۔

اس وقت سے اب تک امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان کے حملوں کا زور توڑنے کی کوشش میں ہیں۔

اسامہ بن لادن

7 اکتوبر 2001 کو جب اس وقت کے امریکی صدر جارج بش نے افغانستان پر فضائی حملے کرنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں اس مشن کی کوئی خواہش نہیں تھی، مگر اب ہم اسے پورا کریں گے۔‘

یہ کارروائی نائن الیون کے ان حملوں کے جواب میں کی گئی جن میں نیویارک، واشنگٹن اور پینسلونیا میں 2977 افراد ہلاک ہوئے۔

افغانستان میں فضائی حملوں کا ہدف بیان کرتے ہوئے صدر بش نے کہا تھا کہ ’افغانستان میں دہشت گردوں کے اڈوں کا خاتمہ اور طالبان کی فوجی طاقت کو کچلنا ہے۔‘

18 برس بعد بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ امریکہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہوا ہے۔ اگر امن مذاکرات پھر سے شروع ہو کر کامیابی سے ہمکنار ہوئے تو طالبان افغان حکومت میں خاطر خواہ حصہ پائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اسامہ بن لادن پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں سنہ 2011 میں امریکی اہلکاروں کے ایک آپریشن میں مارے گئے تھے

طالبان کی تحریک قندھار میں شروع ہوئی اور سنہ 1996 میں دارالحکومت کابل سے حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ دو سال کے اندر وہ ملک کے بیشتر حصے پر قابض ہو چکے تھے۔ انھوں نے ملک میں سخت شرعی نظام متعارف کروایا جن میں سرِعام سزائے موت جیسے اقدامات بھی شامل تھے۔

امریکہ، اتحادی افواج اور افغان شدت پسندوں کے دھڑے شمالی اتحاد نے دو ماہ کے اندر ہی طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا اور طالبان جنگجو اندرون ملک اور پاکستان میں روپوش ہو گئے۔

سنہ 2004 میں کابل میں امریکا نواز حکومت قائم کر دی گئی۔ مگر پاکستان سے ملحق سرحدی علاقوں میں طالبان کا اثر و رسوخ موجود رہا۔ طالبان نے منشیات، کاکنی کی صنعت اور محصولات سے لاکھوں ڈالر کمائے۔

جیسے جیسے طالبان کے خودکش حملوں میں اضافہ ہوا غیرملکی افواج اور ان کے افغان حلیفوں کے لیے ان کا مقابلہ کرنا مشکل تر ہوتا چلا گیا۔

سنہ 2014 سب سے زیادہ خونریز سال ثابت ہوا۔

نیٹو افواج کے لیے افغانستان میں غیر معینہ مدت کے لیے رکنا محال تھا لہذا انھوں نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور افغان فوج اور طالبان کو حالت جنگ میں چھوڑ کر چلی گئیں۔

طالبان کو حوصلہ ملا اور ان کے حملوں میں شدت آ گئی۔ گزشتہ برس بی بی سی کو پتا چلا کہ ملک کے 70 فی صد حصے میں طالبان کھلم کھلا سرگرم ہیں۔

طالبان آئے کہاں سے تھے؟

امریکی حملے سے پہلے بھی افغانستان میں تقریباً 20 برس سے خانہ جنگی جاری تھی۔

سنہ 1979 میں اشتراکی حکومت کی حمایت اور مدد کے لیے سوویت فوج کابل میں داخل ہوئی۔ اس کے خلاف مزاحمت کی گئی جسے ’افغان جہاد‘ کا نام دیا گیا اور اس میں حصہ لینے والے ’مجاہدین‘ کہلائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'مجاہدین' کو امریکا، پاکستان، چین، سعودی عرب اور چند دیگر ممالک کی حمایت حاصل تھی

’مجاہدین‘ کو امریکہ، پاکستان، چین، سعودی عرب اور چند دیگر ممالک کی حمایت حاصل تھی۔

سنہ 1989 میں سویت فوج تو نکل گئی مگر شدت پسندوں کے مختلف دھڑے ایک دوسرے سے جنگ میں مصروف ہو گئے۔ اس خانہ جنگی کے نتیجے میں طالبان کی تحریک وجود میں آئی۔

یہ پاکستانی مدرسوں میں پڑھنے والے افغان طالب علم تھے جو سویت فوج کے خلاف ’جہاد‘ میں شریک رہے تھے لیکن شدت پسندوں کی باہمی چپقلشوں کے نتیجے میں انھوں نے جنگ سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔

’مجاہدین‘ کی باہمی جنگ، بدعنوانی اور بد امنی سے عوام نالاں ہو چکے تھے۔ سنہ 1994 میں طالبان نے اس بدعنوانی اور بدامنی کے خلاف کھڑا ہونے کا فیصلہ کیا۔

ابتدا میں انھیں عوامی پذیرائی ملی۔ مگر اپنی سوچ کے مطابق سخت شرعی قوانین کے نفاذ اور سزاؤں، مردوں کو داڑھی رکھنے پر مجبور کرنا، عورتوں پر سخت پردے کی پابندی اور انھیں گھروں تک محدود کرنے کی وجہ سے شہروں میں لوگ ان سے متنفر ہونے لگے۔

طالبان نے چونکہ القاعدہ کو پناہ دے رکھی تھی اس لیے امریکا نے نائن الیون کے حملوں کے بعد ان کے خلاف فوجی کارروائی کی جس کی حمایت دوسرے ملکوں اور شمالی اتحاد نے بھی کی۔

جنگ نے اتنا طول کیوں پکڑا؟

اس کی کئی وجوہات ہیں۔ مثلاً طالبان کی جانب سے شدید مزاحمت، افغان فورسز اور حکومت کی عملداری کا دائرہ اثر اور دوسرے ممالک کی طرف سے اپنی افواج کو زیادہ عرصے تک افغانستان میں رکھنے کے عزم کا فقدان۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ 18 برسوں میں کئی مرحلوں پر طالبان کو پسپائی کا سامنا رہا

پچھلے 18 برسوں میں کئی مرحلوں پر طالبان کو پسپائی کا سامنا رہا۔ سنہ 2009 میں امریکی صدر براک اوباما نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ کر دی۔

اس کے نتیجے میں جنوبی افغانستان کے کچھ حصے طالبان کے ہاتھ سے نکل گئے مگر یہ صورتحال زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکی۔

طالبان نے نئی صف بندی کی اور جب بین الاقوامی افواج کا اخراج شروع ہوا تو افغان فورسز اکیلے طالبان کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ اس میں مزید مشکل افغان حکومت کی ساخت نے پیدا کی جو قبائلی دھڑے بندیوں کی وجہ سے اکثر مفلوج رہی۔

ہمسایہ ملک پاکستان کا بھی اس میں کردار رہا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کی جڑیں پاکستان میں ہیں، اور امریکی قبضے کے دوران انھوں نے خود کو وہیں از سر نو منظم کیا۔ مگر پاکستان نے طالبان کی مدد کرنے کے الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے، اگرچہ امریکا پاکستان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ ان کے خلاف مزید کارروائی کرے۔

طالبان نے اپنی قوت کیسے برقرار رکھی؟

خیال ہے کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران طالبان کی آمدنی 1.5 ارب ڈالر سالانہ تک رہی ہے۔ اس میں سے کچھ رقم منشیات کے ذریعے حاصل ہوئی۔ افغاسنتان دنیا میں سب سے زیادہ پوست پیدا کرنے والا ملک ہے جس سے بننے والی افیم ہیروئین بنانے میں استعمال ہوتی ہے۔

افغانستان میں پوست کی کاشت والے علاقے طالبان کے زیرِ اثر ہیں۔

Image caption افغانستان میں پوست کی کاشت والے بیشتر علاقے طالبان کے زیرِ اثر ہیں

اس کے علاوہ طالبان راہداری، مدنیات، مواصلات اور بجلی پر محصولات عائد کرکے بھی آمدن حاصل کرتے ہیں۔

بیرونی ممالک، جیسے پاکستان اور ایران، طالبان کو مالی امداد دینے کی تردید کرتے ہیں تاہم انفرادی طور پر ان ملکوں کے شہری انھیں عطیات دیتے رہے ہیں۔

جنگ کتنی مہنگی پڑی؟

سادہ سا جواب ہے حد سے بھی زیادہ۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ اس میں ہلاک ہونے والے افغان سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد کتنی ہے کیونکہ یہ اعداد و شمار کبھی شائع نہیں ہوئے۔ البتہ جنوری 2019 میں افغان صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ سنہ 2014 سے اب تک 45 ہزار افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

سنہ 2001 میں امریکی یلغار کے بعد 2300 امریکیوں سمیت 3500 غیر ملکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 2001 سے افغانستان، پاکستان، عراق اور شام میں ہونے والی جنگوں پر امریکا کی 5.9 ٹریلین ڈالر لاگت آئی ہے

افغان شہریوں کی ہلاکت کا اندازہ کرنا زیادہ مشکل ہے۔

فروری 2019 میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 32000 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ براؤن یونیورسٹی میں قائم واٹسن انسٹی ٹیوٹ کے تخمینے کے مطابق طالبان کے 42 ہزار جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ سنہ 2001 سے افغانستان، پاکستان، عراق اور شام میں ہونے والی جنگوں پر امریکا کی 5.9 ٹریلین ڈالر لاگت آئی ہے۔

امریکہ اب بھی طالبان کو فضائی حملوں کا نشانہ بناتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ تیسرے امریکی صدر جو یہ سب ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ مگر وہ نومبر 2020 میں نئے انتخابات سے پہلے افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد کم کرنے کے متمنی ہیں۔

سنہ 2014 میں بین الاقوامی افواج کے اخراج کے بعد اب طالبان ملک سے زیادہ بڑے حصے پر قابض ہیں۔

واشنگٹن اور دیگر مغربی ملکوں میں یہ خوف پایا جاتا ہے کہ امریکی فوج کے مکمل انخلا کے بعد افغانستان میں جو خلا پیدا ہوگا اسے ایسے قوتیں پُر کریں گی جو مغرب کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں گی۔

مگر اس جنگ کا سب سے زیادہ نقصان افغان عوام کو ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں