کربلا میں یوم عاشور پر بھگڈر، 31 افراد ہلاک، 100 زخمی

کربلا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عراق کے شہر کربلا میں یوم عاشور کے اجتماع میں بھگدڑ سے اطلاعات کے مطابق 31 افراد ہلاک جبکہ 100 زخمی ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عراق کی وزارت صحت نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ہلاکتیں کربلا میں یوم عاشور کے ماتمی جلوس میں بھگڈر مچنے کے باعث ہوئیں۔

کربلا کے ایک حکومتی ترجمان (توفیق الہبالی) نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہزاروں زائرین عاشورہ کے جلوس میں شریک تھے۔ کربلا میں موجود ریسکیو، طبی عملے اور سکیورٹی کے ذرائع نے بتایا کہ زائرین کے ہجوم کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

ترکی کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق ایک سکیورٹی ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کربلا میں عاشورہ کے لیے بنائی گئی ایک راہداری کے گرنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دنیا بھر میں یوم عاشور کے ماتمی جلوس

یوم عاشور پر عزاداری

اس حوالے سے عراق سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی سیف صلاح الھیتی نے بھی اس واقعہ پر ٹویٹ کیا ہے۔

یوم عاشور پر مسلم دنیا کے اکثر ممالک میں لاکھوں کی تعداد میں غمگسار، ساتویں صدی میں پیغمبرِ اسلام کے نواسے امام حسین اور ان کے اقرباء کی شہادت پر عزاداری کرتے ہیں۔

دس محرم کو عراق، ایران اور دیگر ممالک سے لاکھوں شیعہ زائرین کربلا یوم عاشور کے اجتماع کے لیے جاتے ہیں۔ ہر سال کربلا میں لاکھوں زائرین کا اجتماع ہوتا ہے جو یوم عاشور کے مرکزی جلوس میں عزاداری کرتے ہیں۔

سنہ 2005 میں عراقی دارالحکومت بغداد میں دریائے دجلہ کے ایک پل پر بھگدڑ مچنے سے کم از کم 965 زائرین ہلاک ہوگیے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق یہ بھگڈر اس وقت مچی تھی جب خودکش بمباروں کی موجودگی کی افواہ پر زائرین میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں