اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا مقبوضہ غرب اردن کے سرحدی علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کا وعدہ، عرب ممالک کی مذمت

نتن یاہو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عرب ممالک نے اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یایو کی جانب سے مقبوضہ غرب اردن کے سرحدی علاقے کو اسرائیل میں شامل کرنے کے بیان کی مذمت کی ہے۔

منگل کے روز اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نتن یایو نے کہا کہ اگر وہ انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہو گئے تو وہ مقبوضہ غرب اردن کے ایک سرحدی علاقے کو اسرائیل میں شامل کر لیں گے۔

اردن، ترکی اور سعودی عرب میں حکام نے بنیامین نتن یایو کے اس اعلان پر شدید تنقید کی ہے۔

عرب لیگ نے اس ’خطرناک پیشرفت‘ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’جارحیت‘ قرار دیا ہے۔

فلسطین کے سفارت کار سائب ایریکٹ نے کہا ہے کہ اس طرح کا اقدام ’جنگی جرم‘ ہو گا جس سے ’امن کے مواقع بالکل ختم ہو جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

نتن یاہو نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی حاکمیت کو وادی اردن اور شمالی بحیرہ مردار تک پھیلا دیں گے۔

ایسا اقدام دائیں بازو کی جماعتوں میں بہت مقبول ہو گا جن کی وہ حمایت حاصل کرنے کے لیے وہ کوشاں ہیں۔ فلسطینی اس اقدام کے سخت مخالف ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

گولان کی پہاڑیاں: صدر ٹرمپ نے سب بدل دیا!

یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

غربِ اردن کی بستیوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کا عہد

فلسطین کا رد عمل

فلسطینی چاہتے ہیں کہ غرب اردن کا تمام علاقہ ایک دن ان کی ریاست کا حصہ ہوگا۔ انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے امن کے ہر امکان کو تباہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اسرائیل نے سنہ 1967 کی جنگ کے وقت سے غرب اردن پر قبضہ کر رکھا ہے لیکن اسے اسرائیل میں شامل نہیں کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption منگل کو اسرائیل میں انتخابات ہیں جن میں نتن یاہو کا مقابلہ دائیں بازو کی ایسی جماعتوں سے ہے جو غربِ اردن کو ضم کرنے کی حمایت کرتے ہیں

منگل کو اسرائیل میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں جن میں نتن یاہو کا مقابلہ دائیں بازو کی ایسی جماعتوں سے ہے جو غربِ اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی حمایت کرتی ہیں۔

نیتن یاہو جو دائیں بازو کی جماعت لیکود پارٹی کے سربراہ ہیں، اپنی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔

انتخابی جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لیکود پارٹی کا دائیں بازور کی بلو اینڈ وائٹ سیاسی جماعت سے کانٹے کا مقابلہ ہے۔

نتن یاہو نے ایسا کیوں کہا؟

اسرائیل میں چھ ماہ میں دوسری بار انتخابات ہو رہے ہیں اور عوامی جائزوں کے مطابق اس بار بھی سخت مقابلے کی وجہ سے اسی طرح کا نتیجہ متوقع ہے جو گذشتہ اپریل میں سامنے آیا تھا۔ اپریل میں انتخابات کے بعد کسی جماعت کو واضح برتری نہ ملنے کی وجہ سے کوئی حکومت نہیں بنا سکی تھی۔

ٹی وی پر ایک تقریر میں وزیر اعظم نتن یاہو کا کہنا تھا کہ ’اگر میں اسرائیل کے شہریوں سے ایسا کرنے کے لیے ایک واضح مینڈیٹ حاصل کر لیتا ہوں تو میں آج اپنے ارادوں کا اعلان کر رہا ہوں جن کا اطلاق اگلی حکومت قائم ہوتے ہی ہو جائے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images/AFP

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ مقبوضہ اردن میں قائم تمام یہودی بستیوں کو بھی اسرائیل میں شامل کریں گے لیکن اس کے لیے عوام کو امریکی صدر ٹرمپ کے اس دیرینہ امن معاہدے کی اشاعت کا انتظار کرنا پڑے گا جسں میں صدر ٹرمپ اسرائیل اور فلسطینوں کے مابین دیرپا امن کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

غرب اردن کے تنازعے کا پسِ منظر

اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے دوران غرب اردن، مشرقی یروشلم، غزہ اور شام کی گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس نے مشرقی یروشلم کو تو سنہ 1980 اور گولان کی پہاڑیوں کو سنہ 1981 میں عملاً اپنا حصہ بنا لیا تھا، تاہم اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر قبول نہیں کیا گیا تھا۔

امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ اپنے سے پہلے آنے والی امریکی حکومتوں کی پالیسی کے برعکس ان دونوں فیصلوں کو قبول کر چکی ہے۔

غرب اردن کی حیثیت کا فیصلہ اسرائیلی فلسطینی تنازعہ کی تہہ تک جاتا ہے۔ اسرائیل نے غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں 140 آبادیاں قائم کی ہیں جنھیں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی کہا جاتا ہے۔ جبکہ اسرائیل اس سے متفق نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں