فرانس: ’کاروباری دورے پر سیکس کے دوران ہلاکت کی ذمہ دار کمپنی ہے‘

Stock photo of man and woman تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فرانس کی ایک کمپنی کو اپنے اُس ملازم کی موت کی ذمہ دار قرار دیا گیا ہے جو ایک کاروباری دورے کے دوران ایک اجنبی سے سیکس کرتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔

فرانس کی ایک عدالت نے کاروباری دورے پر سیکس کے دوران ملازم کی ہلاکت کو ’انڈسٹریل حادثہ‘ قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے شخص کے ورثا زر تلافی کے حقدار ہیں۔

کمپنی نے موقف اختیار کیا تھا کہ جب سیکس کی غرض سے ان کے ملازم کے ہوٹل کے کمرے میں کوئی خاتون آئیں تو اس وقت وہ پیشہ ورانہ فرائض سرانجام نہیں دے رہے تھے اس لیے کمپنی ان کی ہلاکت کی ذمہ دار نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فرانس میں سیکس کے لیے رضامندی کی عمر 15 سال

فرانس: رقم کے عوض ’جنسی خدمات‘ پر پابندی کے خلاف احتجاج

عورت نے چیخ نہ ماری، ریپ کا الزام خارج

فرانسیسی قانون کے تحت اگر کوئی ملازم کسی کاروباری دورے کے دوران پیشہ ورانہ فرائض سرانجام دیتے ہوئے ہلاک ہو جائے تو کمپنی اس کی موت کی ذمہ دار ہو گی۔

’انڈسٹریل حادثے‘ میں ہلاک ہونے والا زاویئر ایکس نامی شخص پیرس کی ایک ریلوے سروسز کمپنی، ٹی ایس او کے ملازم تھے۔

زاویئر ایکس 2013 میں کام کے سلسلے میں مرکزی فرانس کے علاقے میں گئے جہاں کمپنی کے مطابق وہ ایک اجنبی کے ساتھ سیکس کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہو گئے۔

کمپنی نے سٹیٹ ہیلتھ انشورنس کی جانب سے اسے ’دوران کام موت‘ قرار دینے کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

کمپنی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ جنسی فعل بھی کھانا کھانے اور غسل کرنے جیسیا ایک عام فعل ہے۔

پیرس کی عدالت سٹیٹ انشورنس کمپنی کے فیصلے کو برقرار رکھا۔

فرانسیسی قانون کے تحت کاروباری دورے کے دوان ملازم تمام وقت کے لیے سوشل تحفظ کا حقدار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں