سعودی تنصیبات پر حملے: غلط حساب کتاب سے ایسا تنازع پیدا ہو سکتا ہے جو واقعی کوئی نہیں چاہتا

فضائی حملے تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سعودی اتحاد یمن میں حوثی باغیوں پر وقتاً فوقتاً فضائی حملے کرتا رہتا ہے

حوثی کہتے ہیں یہ انھوں نے کیا، امریکہ کا اصرار ہے کہ اس کے پیچھے ایران ہے اور ایران اس حملے میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔

سعودی عرب میں تیل کی سب سے اہم تنصیبات پر ڈرامائی حملے کے بعد الفاظ کی متوقع جنگ جاری ہے۔ ان حملوں نے یہ بھی دکھا دیا ہے کہ عالمی معیشت میں مرکزی اہمیت کی حامل تیل تنصیبات کتنی آسانی سے نشانہ بن سکتی ہیں۔

سعودی، جن کی یمن میں فضائی مہم کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے ایک طویل عرصے سے حوثی باغیوں کے خلاف فضائی مہم چلا رہے ہیں لیکن ان کے مخالفین نے اب ان کو حکمت عملی کی بنیاد پر جواب دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی تنصیبات پر حملوں کے بعد تیل کی قیمت آسمان پر

سعودی دارالحکومت پر حوثی باغیوں کا میزائل حملہ ’ناکام‘

’ریاض، مکہ اور متحدہ عرب امارات ہماری رینج میں ہیں‘

ایران نے امریکی الزام ’دھوکے بازی‘ قرار دے دیا

اس سارے معاملے نے اس بحث کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے کہ ایران کس حد حوثی باغیوں کو ٹیکنالوجی اور مدد فراہم کر رہا ہے۔ خلیج فارس کے پہلے سے گرما گرم ماحول میں اس نئے واقعے نے علاقائی تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

لیکن اس سے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تہران پر ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی اعلان شدہ پالیسی کی کچھ ناکامیاں بھی ظاہر ہو گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دعوؤں اور جوابی دعوؤں کے بیج ابھی بھی ایک اچھی ڈیل موجود ہے جس کے بارے میں ہم نہیں جانتے ہیں۔ حوثی اس سے قبل بھی سعودی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون اور میزائل استعمال کر چکے ہیں لیکن ڈرون حملوں کو عام طور پر محدود کامیابی ہی ملی ہے۔

تاہم حالیہ حملوں کی نوعیت اور جس درستگی کے ساتھ یہ کیے گئے ہیں، ان کو مکمل طور پر مختلف بناتے ہیں۔

تو کیا یہ واقعی مسلح ڈرون تھے جن سے یہ حملے کیے گئے یا یہ کوئی میزائل حملہ تھا؟ اور اگر یہ کوئی میزائل حملہ تھا تو سعودی فضائی دفاع الرٹ کیوں نہیں تھا؟ کیا حملے حوثیوں کے زیر انتظام علاقے سے کیے گئے یا کہیں اور سے؟ ہو سکتا ہے عراق میں موجود ایران کی حمایت کرنے والے گروہ یا شاید ایرانی خود ہی اس میں ملوث ہوں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے تہران پر الزام لگانے میں جلد بازی کی، انھوں نے کوئی واضح انٹیلیجنس ثبوت دستیاب ہونے سے پہلے ایسا کیا، انھوں نے یقینی طور پر عوامی جانچ پڑتال کے لیے کچھ بھی پیش نہیں کیا۔

ایران کے حوثیوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حوثیوں کے طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں ایران نے اہم کردار ادا کیا ہے، چاہے وہ مسلح یو اے وی سے ہو یا میزائلوں کے ذریعے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مائی ک پومپیو نے کہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس بات کو یقینی بنائے گے کہ ایران کو جوابدہ ٹھہرایا جائے

سنہ 2018 میں اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک رپورٹ میں حوثیوں کے قسیف ون ڈرون اور ایران کے ابابیل ٹی میں مماثلت کی جانب اشارہ کیا گیا۔ ایک وسیع مطالعے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران نے اسلحے کی پابندی کو توڑتے ہوئے حوثیوں کو مختلف قسم کے ہتھیاروں کے نظام فراہم کیے ہیں۔ سنہ 2017 میں خود مختار ادارے کنفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ آرگنائزیشن کے ایک مطالعے سے بھی ایران کی یو اے وی معاونت کا نتیجہ سامنے آیا۔

تاہم قسیف ون اور ابابیل ٹی صرف 100 سے 150 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یمن کی سرحد سے سب سے قریب ترین ٹارگٹ خریص آئل فیلڈ ہے جو کہ تقریبا 770 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تو اگر یہ حالیہ حملے یو اے وی کی مدد سے کیے گئے ہیں تو ان کا ڈیزائن یقیناً مختلف ہو گا، جن میں زیادہ فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت ہو گی۔

ایران اور ممکنہ طور پر حوثیوں کے پاس زیادہ فاصلہ طے کرنے والے سسٹم موجود ہیں لیکن یمن تنازعے میں ان تعیناتی کے بارے میں ثبوت ابھی بہت کم ہیں۔ کسی قسم کے کروز میزائل کے امکانات بھی موجود ہیں، جن کو عراق یا ایران سے فائر کیا گیا ہو گا لیکن ان سوالات پر واضح طور پر قابل اعتماد انٹیلیجنس معلومات تک رسائی کی ضرورت ہوگی۔

اگرچہ کچھ طریقوں سے بالکل درست معلومات سے فرق نہی پڑتا۔ سفارتی سطح پر نقصان پہلے ہی ہو چکا ہے۔ امریکہ اور سعودیہ ایران کے بڑے دشمن ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ خلیج فارس میں جہازوں کو پہنچنے ولے نقصان کا الزام تہران پر عائد کر چکی ہے۔ جبرالٹر سے ایرانی تیل لے کر جانے والے ایک جہاز کی حراست کے بعد، ایران کھلے عام برطانوی پرچم والے ایک جہاز کو تحویل میں لے چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سعودی عرب میں تیل کی سب سے اہم تنصیبات پر حملے کے بعد الفاظ کی متوقع جنگ جاری ہے

جہاں تک ٹیم ٹرمپ کا تعلق ہے تو وہ سعودی تیل کے انفراسٹرکچر کے خلاف حوثیوں کی سٹریٹجک مہم میں تیزی کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اب وہ اس سلسلے میں کیا کریں گے یا شاید وہ اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں؟ اور جواب ہے: زیادہ کچھ نہیں۔ کیپیٹل ہل میں یمن جنگ کی غیر مقبولیت کے باوجود امریکہ سعودی عرب کی جانب ہے، جہاں یہ خیال بڑھ رہا ہے کہ سعودی فضائی مہم بیکار ہے، جس سے پہلے سے ہی ایک غریب ملک کو انسانی تباہی کے علاقے میں تبدیل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔

لیکن ان حملوں کے بعد ایک عجیب پہلو کا انکشاف ہوا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سعودی حمایت اور ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کے باوجود حقیقت میں واشنگٹن تہران کو ملے جلے اشارے بھیج رہا ہے۔

امریکی صدر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں ایرانیوں سے آمنے سامنے ملاقات کرنے کے لیے رضامند ہیں اور انھوں نے حال ہی ہیں اپنے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن کو نکال دیا ہے، وہ شخص جو تہران میں حکومت کی تبدیلی کے خیال سے سب سے زیادہ وابستہ تھا۔

ایران اپنے حوثی اتحادیوں کے ساتھ مل کر طاقتور کے خلاف کمزوروں کی اعلی درجے کی جنگ کر رہا ہے: جس کو حکمت عملی کی کتابوں میں ’ہمہ جہتی تنازع` کہا جاتا ہے۔

یہ روسی حکمت عملی کی کتاب سے بہت سے حربے استعمال کر رہا ہے جیسے کہ تردید، پراکسی، سائبر آپریشنز اور معلوماتی جنگ۔

تہران جانتا ہے کہ ٹرمپ غیر متوقع طور پر امریکہ کو فوجی پیچیدگیوں سے نکالنا اور کسی نئی الجھن میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ جس سے ایرانیوں کو یہ صلاحیت ملتی ہے کہ وہ خود ہی کچھ ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ استعمال کریں۔

یہ خطرہ اب بھی باقی ہے کہ غلط حساب کتاب کی بدولت ایک ایسا تنازع پیدا ہو سکتا ہے جو واقعی کوئی نہیں چاہتا ہے۔

اسی بارے میں