نابینا سیاح ٹونی جائلز کی کہانی: ’میرا مشن یہ ہے کہ میں دنیا کا ہر ملک دیکھوں‘

ٹونی جائلز تصویر کے کاپی رائٹ The Travel Show, BBC News
Image caption ٹونی جائلز اب تک 130 ممالک کا سفر کر چکے ہیں

’میں انٹارکٹکا سمیت دنیا کے ہر براعظم میں جا چکا ہوں۔ میرا مشن یہ ہے کہ میں دنیا کا ہر ملک دیکھوں۔‘

یہ کہنا ہے ٹونی جائلز کا جو نہ صرف نابینا ہیں بلکہ دونوں کانوں سے بہرے بھی ہیں۔ تاہم ان کا سفر کرنے کا شوق اب تک انھیں 130 ممالک میں لے جا چکا ہے۔

گھومنے پھرنے کے شوقین 41 سالہ جائلز کا تعلق انگلینڈ سے ہے۔

’چند لوگ کہتے ہیں کہ میں سفر کرنے کی انتہاؤں کو چھو رہا ہوں۔ مگر میں ان کو دکھا رہا ہوں کہ آپ دنیا کو متبادل نقطۂ نظر سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘

جائلز نے حال ہی میں ایتھوپیا کا سفر کیا ہے جس دوران بی بی سی ٹریول شو نے ان سے ایک ملاقات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

وہ لڑکا جسے نابینا بھکاریوں کو راستہ دکھانے کے لیے اغوا کیا گیا

’نابینا افراد کی تعداد تین گنا بڑھنے کا خدشہ‘

امریکہ میں’ نابینا شیخ‘ کی دوران قید موت واقع ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ The Travel Show, BBC News
Image caption ٹونی جائلز کا کہنا ہے کہ سفر ان کو اپنے جذبات پر قابو پانے میں مدد دیتا ہے

اپنی جلد کے ذریعے محسوس کرتا ہوں

انھوں نے بتایا ’میں لوگوں کو باتیں کرتے ہوئے سنتا ہوں، میں پہاڑوں پر چڑھتا اور اترتا ہوں، میں ان کو اپنی جلد اور پیروں کے ذریعے محسوس کر سکتا ہوں۔ کسی بھی ملک کو میں اس طرح دیکھتا ہوں۔‘

جائلز گذشتہ 20 برسوں سے سفر کر رہے ہیں اور نئی نئی جگہوں پر جا رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک سفر کے دوران ان کی ملاقات یونان سے تعلق رکھنے والی اپنی گرل فرینڈ سے ہوئی۔ ان کی گرل فرینڈ بھی نابینا ہیں۔

گذشتہ برس وہ ان کے ساتھ روس گئے تھے اور ان دونوں نے ریل کے ذریعے دنیا کے سب سے بڑے ملک کا سفر کیا تھا۔

تاہم اپنے زیادہ تر سفروں پر وہ تنہا ہوتے ہیں۔

نئے سفر کا شوق

سفر کے اخراجات وہ اپنے والد کی پنشن کی رقم سے پورے کرتے ہیں۔ اپنا ہر سفر وہ پہلے سے ہی پلان کر کے رکھتے ہیں۔

ان کی والدہ جہاز کی ٹکٹوں کی بکنگ میں ان کی مدد کرتی ہیں کیونکہ جائلز کا کہنا ہے کہ بہت سی ایئر لائنز کی ویب سائٹس نابینا افراد کے استعمال میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ The Travel Show, BBC News
Image caption ٹونی جائلز سفر کے دوران نئے نئے لوگوں سے ملتے ہیں

وہ مختلف ویب سائٹس کے ذریعے ان افراد سے رابطے میں رہتے ہیں جو ان کی کسی بھی ملک آمد کے بعد ان کے لیے رہائش کا بندوبست کرنے میں مدد کر سکتے ہوں۔

’میں صرف ایک کتاب اٹھا کر یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ مجھے کس کس جگہ جانا ہے۔ مجھے اس کا علم پہلے سے ہونا چاہیے۔ میری یاداشت بہت اچھی ہے۔ مجھے کن جگہوں پر جانا ہے اس کی منصوبہ بندی میں پہلے سے کر کے رکھتا ہوں۔‘

جب وہ منزل مقصود پر پہنچ جاتے ہیں تو نامعلوم شہروں میں راستوں کو ڈھونڈنا انھیں اچھا لگتا ہے۔

’بعض اوقات مجھے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ نئی جگہ پر مجھے کون ملے گا اور میرے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے۔ میرے لیے یہی ایڈونچر ہے۔‘

گم ہوتے حواس

جائلز صرف نو ماہ کے تھے جب ان کی بینائی کو درپیش مسئلے کا پتا چلا۔ دس برس کی عمر تک وہ مکمل نابینا ہو چکے تھے۔

چھ سال کی عمر میں ڈاکٹروں نے انھیں جزوی بہرہ بھی قرار دے دیا۔ اب وہ سننے کی صلاحیت رکھنے والے طاقتور آلات کا استعمال کرتے ہیں تاہم وہ مکمل طور پر ہر آواز کو سن نہیں پاتے۔

’نوعمری میں ایک طویل عرصے تک میں نابینا ہونے پر ضرورت سے زیادہ پریشان ہوتا تھا۔‘

جائلز نے تعلیم ایک سپیشل سکول میں حاصل کی اور یہی وہ جگہ تھی جہاں سے پہلی مرتبہ انھیں کسی دوسرے ملک جانے کا موقع ملا۔ 16 برس کی عمر میں وہ ایک کالج ٹرپ کے ساتھ بوسٹن گئے تھے۔

تاہم اب بھی ان کی صحت ان کے شوق کی راہ میں حائل ہوتی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر سنہ 2008 میں ان کے گردے ناکارہ ہونے کے بعد انھیں ٹرانسپلانٹ کروانا پڑا۔ ان کے سوتیلے والد نے انھیں گردہ عطیہ کیا تھا۔

منشیات کی عِلت

جائلز جب 15 برس کے تھے تو ان کے والد کی وفات ہو گئی اور جب وہ 16 برس کے ہوئے تو ان کے سب سے گہرے اور معذور دوست بھی انتقال کر گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ The Travel Show, BBC News
Image caption ٹونی جائلز کو ان مقامات پر جانے کا شوق زیادہ ہے جہاں چیزوں کو چھو کر محسوس کیا جا سکتا ہو

’اس وجہ سے میں نے شراب نوشی شروع کر دی اور یہ سلسلہ چھ سے سات سال جاری رہا۔ 24 سال کی عمر تک میں الکوحلک ہو چکا تھا۔‘

جائلز کے والد مرچنٹ نیوی میں کام کرتے تھے۔ وہ دور دراز ممالک کی جو کہانیاں سناتے تھے ان سے نوجوان جائلز کافی متاثر ہوئے۔

’جب میں نے شراب نوشی چھوڑی تو میں دیکھ سکتا تھا کہ مجھے کچھ الگ سے کرنا ہے۔‘

جذبات سے بھاگنا

مارچ سنہ 2000 میں انھوں نے نیو آورلینز سے اپنے ایڈونچر کا آغاز کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ The Travel Show, BBC News
Image caption جائلز انٹر نیٹ کے ذریعے ان لوگوں سے رابطہ کرتے ہیں جو مختلف ممالک میں ان کی مدد کر سکتے ہیں

مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میں کہاں جا رہا ہوں، میں سکتے کے عالم میں تھا۔ میں نے چند گہرے سانس لیے اور اپنے آپ سے کہا ’ٹونی اگر تم ایسا نہیں کرنا چاہتے تو گھر واپس چلے جاؤ۔‘

پھر انھوں نے واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد سے اب تک وہ امریکہ کی تمام ریاستیں گھوم چکے ہیں۔

’بہت زیادہ سفر کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ تھی میں راہ فرار اختیار کرنا چاہتا تھا۔ اپنے جذبات سے فرار۔‘

نئی جگہوں پر جانا ہمیشہ ان کے جذبات کو ضروری تسکین فراہم کرتا ہے۔

’جب میں زیادہ لوگوں سے ملتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ میرے پاس اس لیے نہیں آتے کہ میں اندھا ہوں بلکہ میری شخصیت کی وجہ سے آتے ہیں۔‘

بس بنیادی ضرورتیں چاہیئں

وہ سفر میں پیسے بچاتے ہیں۔ وہ پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیتے ہیں اور بنیادی رہنے کی جگہ پسند کرتے ہیں جیسی جگہ میں وہ ادیس ابابا میں رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ The Travel Show, BBC News
Image caption جائلز کے میزبان نے ان کے لیے ان اجزا سے کھانا پکایا جو جائلز مارکیٹ سے خرید کر لائے تھے

’وہ جگہ کام چلاؤ قسم کی ہے، بالکل بنیادی سی۔ وہ چاروں طبق روشن کر دیتی ہے۔‘

جائلز کے میزبان نے ان کے لیے ان اجزا سے کھانا پکایا جو جائلز مارکیٹ سے خرید کر لائے تھے۔

’میں اپنے گرد چیزوں کو سن، سونگھ اور محسوس کرتا ہوں۔‘

وہ چیزوں کو چھونا اور محسوس کرنا پسند کرتے ہیں۔ لوگوں سے بات کرنے اور جو دوسرے کہتے ہیں اسے سننے سے ان کے ذہن تصویر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

ادیس ابابا میں وہ ایک آرٹ کی نمائش میں گئے جہاں انھیں وہاں رکھیں ہوئی چیزوں کو ہاتھ لگانے کی اجازت دی گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے ان کو لگا کہ وہ بھی اس میں شامل ہیں، بہت سے میوزیمز میں انھیں ایسا کرنے نہیں دیا جاتا۔

وہ ’گم‘ ہونا چاہتے ہیں

وہ روزہ مرہ کے راستہ سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔ ایتھوپیا میں وہ ایک جھیل پر گئے جہاں زیادہ تر سیاح نہیں جاتے تھے۔ انھوں نے وہاں پانی کے پرندوں کو مچھلیاں کھلائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ The Travel Show, BBC News
Image caption ٹونی جائلز ان مقامات پر جانا چاہتے ہیں جہاں اکثر لوگ نہیں جاتے

وہ کبھی کبھار نجی باڈی گارڈ بھی کرائے پر لے لیتے ہیں لیکن اکثر اوقات ایسا نہیں کرتے اور کبھی کبھار کھو بھی جاتے ہیں۔

تاہم وہ اس کی وجہ سے پریشان نہیں ہوتے۔ وہ آرام سے کسی مسافر کا انتظار کرتے ہیں جو آئے اور ان کی مدد کرے۔

’ہو سکتا ہے کہ دس انسان آپ کے قریب سے گزر جائیں اور پھر کوئی رک جائے اور پوچھے: ’کیا آپ کھو گئے ہیں؟ آپ کو مدد چاہیے؟

وہ کہتے ہیں کہ اجنبی لوگوں نے مجھے اپنے گھر لے جا کر کھانا کھلایا ہے اور انھوں نے ان کے سفر میں ان کی مدد بھی کی ہے۔

اجنبیوں پر بھروسہ

کیش نکالنا اور مختلف کرنسیوں کے نوٹوں کو سنبھالنا ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

’مجھے ایسے شخص کو تلاش کرنا ہوتا ہے میں جس پر بھروسہ کر سکوں۔ مجھے انھیں پہلے چیک کرنا پڑتا ہے۔ ان کی کہانیاں سننا پڑتی ہیں۔‘

جب وہ مطمعن ہو جاتے ہیں تو وہ اجنبی کے ساتھ اے ٹی ایم پر جا کر کیش نکلوا لیتے ہیں۔

’جب میں پیسے نکلوا لیتا ہوں تو مجھے پوچھنا ہوتا ہے کہ کس کس مالیت کے نوٹ ہیں۔‘

موسیقی اور خوراک

سفر کے دوران وہ مختلف قسم کی موسیقی کے آلات بھی سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ The Travel Show, BBC News
Image caption ٹونی جائلز اکثر موسیقی اور خوراک کی بدولت مقامی لوگوں سے تعلق بناتے ہیں

’میرا ایک بڑا پیار موسیقی ہے۔ میں اس سے جڑ سکتا ہوں۔ میں اس کی تال محسوس کر سکتا ہوں۔ یہ تمام روکاوٹیں عبور کر سکتی ہے۔‘

وہ لازمی طور پر مشہور مقامی ڈشوں کو چھکتے بھی ہیں۔

حیرت انگیز

وہ متعدد انتہائی دلکش مقامات پر جا چکے ہیں اور اکثر تصاویر بھی کھینچتے ہیں۔

کبھی کبھار انھیں ایسے لوگ ملتے ہیں جو ان کے سیاحت کے شوق پر بہت حیران ہوتے ہیں۔

وہ پوچھتے ہیں ’ایک اندھا آدمی دنیا دیکھنے کی خواہش کیوں کرے گا؟‘ ان کے پاس اس کا بہت سادھا سا جواب ہے۔

’اور وہ یہ ہے کہ کیوں نہیں۔‘

اسی بارے میں